PSX میں شدید مندی، KSE100 Index چار ہزار پوائنٹس سے زائد گر گیا

Security Concerns, Weak Corporate Results, and Global Economic Signals Shake Investor Confidence

پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں آج ایک ایسا دن دیکھا گیا جس نے سرمایہ کاروں (Investors) کے حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ KSE100 انڈیکس، جو کچھ دن پہلے تک ریکارڈ بلندیوں کو چھو رہا تھا. اچانک 4,000 پوائنٹس سے زائد کی گراوٹ کا شکار ہو گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس مثبت رجحان کا مظاہرہ کر رہی تھیں. جبکہ امریکی لیبر مارکیٹ کے مضبوط ڈیٹا نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔ اس کے باوجود مقامی عوامل نے پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کو دباؤ میں رکھا۔ عالمی معاشی اشارے اگرچہ سرمایہ کاری کیلئے سازگار دکھائی دیتے ہیں. مگر مقامی خطرات سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔

اس بلاگ میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے. کہ وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے مارکیٹ کو اس نہج پر لا کھڑا کیا. اور ایک عام سرمایہ کار کے لیے اس میں کیا سبق چھپا ہے۔

اہم نکات (Key Points)

  • مارکیٹ کی بڑی گراوٹ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں غیر معمولی فروخت کا دباؤ (Selling Pressure) دیکھا گیا، جہاں KSE100 انڈیکس 4,000 پوائنٹس سے زائد گر گیا۔

  • گراوٹ کی بنیادی وجوہات: ریکوڈک (Reko Diq) منصوبے سے وابستہ سیکیورٹی خدشات اور بعض بڑے سیکٹرز کے کمزور مالیاتی نتائج (Weak Earnings) نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔

  • سعودی وفد کی آمد: ایک طرف مندی کا رجحان ہے. تو دوسری طرف سعودی عرب کے اعلیٰ سطح کے وفد کی آمد سرمایہ کاری کے حوالے سے طویل مدتی مثبت اشارہ دے رہی ہے۔

  • عالمی تناظر: عالمی سطح پر امریکی روزگار کے ڈیٹا نے شرح سود میں کمی کی امیدوں کو فی الحال روک دیا ہے. جس کا اثر Asian Markets پر بھی محسوس کیا گیا۔

آج PSX میں کیا ہوا؟ 

آج کے کاروباری دن کے دوران بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں شدید مندی دیکھی گئی. جو کہ 2.19 فیصد کی کمی کے ساتھ 179,040.38 کی سطح پر آگیا۔ یہ گراوٹ بنیادی طور پر ریکوڈک منصوبے سے جڑے سیکیورٹی خدشات، بڑے کارپوریٹ سیکٹرز کے توقع سے کم مالیاتی نتائج، اور عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی مضبوطی کے باعث پیدا ہوئی۔ سیمنٹ، بینکنگ، اور آئل اینڈ گیس جیسے بڑے شعبوں میں بھاری فروخت نے KSE100 انڈیکس کو نیچے دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

PSX میں مندی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟

1. ریکوڈک (Reko Diq) اور سیکیورٹی خدشات

اسٹاک مارکیٹ ہمیشہ استحکام اور سیکیورٹی (Stability and Security) کی بنیاد پر پروان چڑھتی ہے۔ ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے حالیہ سیکیورٹی خدشات نے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ جب بھی کسی بڑے منصوبے کی ٹائم لائن یا فنڈنگ پر سوال اٹھتے ہیں، تو مارکیٹ اس کا فوری اثر لیتی ہے۔

2. کمزور مالیاتی نتائج (Weak Corporate Results)

مارکیٹ کی موجودہ گراوٹ کی ایک بڑی وجہ کارپوریٹ سیکٹر کے نتائج ہیں۔ کچھ بڑے اداروں کے منافع کی شرح توقعات سے کم رہی ہے. جس نے "ٹرکل ڈاؤن ایفیکٹ” (Trickle-Down Effect) پیدا کیا۔ یعنی جب ایک بڑا سیکٹر گرتا ہے. تو اس کا اثر دوسرے متعلقہ شعبوں پر بھی پڑتا ہے۔

3. انڈیکس ہیوی اسٹاکس (Index-Heavy Stocks) میں فروخت

ایم سی بی (MCB)، این بی پی (NBP)، اور او جی ڈی سی (OGDC) جیسے بڑے حصص (Stocks) ریڈ زون میں ٹریڈ کر رہے تھے۔ چونکہ ان کمپنیوں کا انڈیکس میں وزن زیادہ ہے. اس لیے ان کی قیمتوں میں معمولی کمی بھی KSE100 انڈیکس پر بڑا اثر ڈالتی ہے۔

KSE100 Index as on 12th Feb. 2026 after Immense selling in PSX
KSE100 Index as on 12th Feb. 2026 after Immense selling in PSX

پاکستان اور سعودی عرب کے معاشی تعلقات: امید کی ایک کرن

جہاں ایک طرف مارکیٹ میں مندی کا شور ہے. وہیں پس پردہ کچھ مثبت پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔ سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد اس وقت پاکستان میں موجود ہے۔

  • سرمایہ کاری کے نئے مواقع: سعودی وزیر سرمایہ کاری اور شاہی دیوان کے مشیروں کی آمد اس بات کی علامت ہے. کہ سعودی عرب پاکستان میں طویل مدتی سرمایہ کاری (Long-Term Investment) میں دلچسپی رکھتا ہے۔

  • ایس پی-ای سی ایف (SP-ECF) فریم ورک: وفد مختلف شعبوں میں تعاون کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہا ہے. جو مستقبل میں مارکیٹ کے لیے "بُلسٹک” (Bullish) ثابت ہو سکتا ہے۔

عالمی مارکیٹ کے اثرات (International Market Impact)

عالمی سطح پر بھی صورتحال کافی دلچسپ ہے۔ جہاں جنوبی کوریا اور جاپان کی مارکیٹیں ریکارڈ سطح پر ہیں، وہیں امریکی روزگار کے ڈیٹا (US Jobs Data) نے ڈالر کو مضبوط کیا ہے۔

شرح سود اور فیڈرل ریزرو (Federal Reserve)

امریکہ میں ملازمتوں کے مضبوط ڈیٹا کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کا مرکزی بینک (Fed) فی الحال شرح سود (Interest Rates) میں کمی نہیں کرے گا۔ جب عالمی سطح پر ڈالر مضبوط ہوتا ہے. تو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں (Emerging Markets) جیسے کہ پاکستان سے سرمایہ نکلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے عملی حکمت عملی (Actionable Advice)

اس طرح کی صورتحال میں جذبات (Emotions) پر قابو پانا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر میں درج ذیل مشورے دوں گا.

  • پینک سیلنگ (Panic Selling) سے بچیں: جب مارکیٹ 4,000 پوائنٹس گرتی ہے. تو ریٹیل انویسٹر خوف میں آکر اپنے شیئرز بیچ دیتا ہے۔ یہ اکثر بڑے اداروں (Institutions) کے لیے خریداری کا بہترین موقع ہوتا ہے۔

  • فنڈامینٹلز پر نظر رکھیں: اگر کسی کمپنی کے فنڈامینٹلز (Fundamentals) مضبوط ہیں، تو عارضی گراوٹ سے پریشان نہ ہوں۔

  • پورٹ فولیو ڈائیورسیفکیشن: اپنے تمام پیسے ایک ہی سیکٹر میں نہ لگائیں۔ آج کی گراوٹ نے ثابت کیا کہ بینکنگ اور آئل اینڈ گیس جیسے سیکٹرز ایک ساتھ متاثر ہو سکتے ہیں۔

سیکٹر (Sector) اثر (Impact) وجہ (Reason)
کمرشل بینک شدید مندی شرح سود کے خدشات
آئل اینڈ گیس مندی عالمی قیمتیں اور مقامی ریگولیشن
سیمنٹ درمیانی مندی تعمیری سرگرمیوں میں سستی

مستقبل کی پیش گوئی: مارکیٹ کہاں جائے گی؟

آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی نظریں دو چیزوں پر ہوں گی.

  1. سعودی وفد کے دورے کے حتمی نتائج اور ممکنہ معاہدے۔

  2. ملکی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری۔

اگر مارکیٹ 175,000 کی سطح کو برقرار رکھتی ہے (Support Level)، تو یہاں سے دوبارہ واپسی (Rebound) کے امکانات موجود ہیں۔ لیکن اگر سیکیورٹی خدشات برقرار رہے، تو مزید کریکشن (Correction) متوقع ہے۔

یہاں مجھے اپنا وہ وقت یاد آتا ہے جب مارکیٹ ایک بڑی خبر کے انتظار میں اوور ہیٹ (overheated) ہو چکی تھی۔ اکثر اوقات، مارکیٹ کسی منفی خبر کا بہانہ ڈھونڈ رہی ہوتی ہے. تاکہ "پرافٹ ٹیکنگ” (profit-taking) کی جا سکے۔

تجربہ کار ٹریڈرز جانتے ہیں کہ جب مارکیٹ اپنی بلند ترین سطح پر ہو، تو معمولی سی منفی خبر بھی بڑے کریش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ ہر کوئی ایگزٹ (exit) کے لیے دروازے کی طرف بھاگتا ہے۔

اختتامیہ.

PSX میں 4,000 پوائنٹس کی گراوٹ بظاہر تشویشناک ہے. لیکن یہ مارکیٹ کے قدرتی عمل کا حصہ ہے۔ ایک تجربہ کار سرمایہ کار جانتا ہے کہ "خوف کے وقت خریدنا اور لالچ کے وقت بیچنا” ہی اصل کامیابی ہے۔ سعودی سرمایہ کاری کے منصوبے اور عالمی مارکیٹ کے رجحانات آنے والے ہفتوں میں سمت کا تعین کریں گے۔

مالیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال سرمایہ کاروں کیلئے ایک اہم آزمائش ہے. جہاں مختصر مدت میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اگر سیکورٹی خدشات کم ہوتے ہیں اور کارپوریٹ نتائج بہتر ہوتے ہیں تو KSE100 Index میں دوبارہ استحکام آ سکتا ہے۔ تاہم فی الحال سرمایہ کاروں کیلئے محتاط اور تحقیق پر مبنی فیصلے ہی نقصان سے بچنے کا واحد راستہ نظر آتے ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ خریداری کا بہترین وقت ہے. یا ہمیں KSE100 کی مزید گراوٹ کا انتظار کرنا چاہیے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button