PSX میں تیزی کی نئی لہر، KSE100 تاریخی سطح 168,000 عبور کر گیا، IMF اجلاس سے قبل سرمایہ کار پُرامید

Investor confidence surges as markets price in crucial IMF inflows and corporate consolidation

PSX نے ایک بار پھر اپنی لچک (Resilience) کا ثبوت دیا ہے. اور ہفتے کا آغاز ایک مضبوط Bullish Momentum (تیزی کے رجحان) کے ساتھ کیا ہے۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں دن بھر 1200 سے زائد پوائنٹس کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا. جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (International Monetary Fund – IMF) کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ سے پہلے سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی توقعات ہیں۔

KSE100 میں تیزی کا بنیادی سبب آج ہونے والی آئی ایم ایف (IMF) کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کے حوالے سے مارکیٹ کا پر امید ہونا ہے۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ اس میٹنگ میں توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت تقریباً ۱ ارب ڈالر اور موسمیاتی لچک اور پائیداری کی سہولت (RSF) کے تحت 200 ملین ڈالر کی منظوری دی جائے گی۔

 ڈالر کا یہ بہاؤ ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے. جو نہ صرف زر مبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) کو مضبوط کرے گا. بلکہ پاکستان کے موجودہ کھاتوں (Current Account) اور مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) پر بھی مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔

اہم نکات

  • PSX میں Bullish آغاز: ہفتے کا آغاز مثبت رہا، KSE-100 انڈیکس میں 1200 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا. جس کی اہم وجہ آج (پیر) ہونے والی آئی ایم ایف (IMF) کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی پر امید توقعات تھیں۔

  • IMF قرض کی منظوری کی توقع: سرمایہ کار توقع کر رہے ہیں. کہ IMF پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے گا، جس سے ملک میں ڈالر کا بہاؤ بہتر ہوگا اور مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

  • KSE-100 کی کارکردگی: دن کے اختتام پر KSE-100 انڈیکس 168303 پر بند ہوا. جو کہ 1215 پوائنٹس یا 0.83% کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

  • کارپوریٹ ایکشن: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) نے ٹیلی نار پاکستان (Telenor Pakistan) کے Merger کے لیے ریگولیٹری منظوری ملنے کے بعد ضم ہونے کا عمل تیز کر دیا ہے۔

  • عالمی مارکیٹ کا پس منظر: بین الاقوامی سطح پر، امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی ممکنہ شرح سود (Interest Rate) میں کمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے سبب ایشیائی شیئرز میں محتاط رجحان دیکھا گیا۔

IMF میٹنگ کی اہمیت کیا ہے؟

IMF Executive Board آج ایک اہم میٹنگ منعقد کر رہا ہے. جس میں درج ذیل معاملات پر غور کیا جائے گا:

  • ۳۷ ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (Extended Fund Facility – EFF) کے تحت "پاکستان کا دوسرا جائزہ”۔

  • ۲۸ ماہ کے لچک اور پائیداری کی سہولت (Resilience and Sustainability Facility – RSF) کے تحت "پہلا جائزہ”۔

منظوری کی صورت میں، پاکستان کو EFF کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر  اور RSF کے تحت تقریباً ۲۰۰ ملین ڈالر کی رقم تک رسائی حاصل ہو جائے گی. جس سے ان دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی تقسیم تقریباً 3.3 ارب ڈالر ہو جائے گی۔

۱۰ سالہ تجربہ بتاتا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں آئی ایم ایف کے پروگرام سے منسلک ہر مثبت خبر سرمایہ کاروں کے جذبات پر بجلی کے جھٹکے کی طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ صرف ڈالر کا بہاؤ نہیں ہوتا. یہ ایک "اعتماد کی مہر” (Seal of Approval) ہے. جو دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں (Foreign Investors) کو اشارہ دیتی ہے. کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں ہے۔

ماضی میں، ایسی منظوریوں سے مارکیٹ نے ایک سے دو ہفتے کی مضبوط ریلی (Rally) دیکھی ہے. خاص طور پر مالیاتی اور بینکنگ سیکٹر (Financial & Banking Sectors) میں۔

KSE100 انڈیکس کا استحکام: گہری خریداری کا رجحان

پورے سیشن کے دوران مضبوط Buying Momentum (خریداری کا رجحان) جاری رہا، جس نے KSE100 انڈیکس کو 168303 کی انٹرا-ڈے اونچائی (intra-day high) تک پہنچا دیا۔ یہ واضح طور پر مارکیٹ کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے. جہاں سرمایہ کار اہم IMF فیصلے سے پہلے پوزیشنیں لے رہے تھے۔

KSE100 as on 8th December 2025 after PSX got Bullish Momentum again
KSE100 as on 8th December 2025 after PSX got Bullish Momentum again

مارکیٹ کی بندش پر، بینچ مارک انڈیکس 168303 پر مستحکم ہوا، جو 1215 پوائنٹس یا  کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ استحکام اہم ہے کیونکہ یہ نفسیاتی حد (Psychological Barrier) 168000 سے اوپر ہے۔ ایک سیزنڈ ٹریڈر (Seasoned trader) جانتا ہے کہ اہم نفسیاتی سطحوں سے اوپر کا استحکام مارکیٹ کے مضبوط ارادے (strong intent) کو ظاہر کرتا ہے۔

کون سے سیکٹرز متاثر ہو رہے ہیں؟ (Which Sectors Are Being Affected?)

IMF کی منظوری کی توقع براہ راست ان سیکٹرز کو فائدہ پہنچاتی ہے. جو معاشی استحکام سے وابستہ ہیں۔ روایتی طور پر، ان میں شامل ہیں:

  • بینکنگ (Banking): مضبوط معیشت قرضوں کی واپسی (loan recovery) اور آمدنی میں بہتری لاتی ہے۔

  • سیمنٹ (Cement) اور اسٹیل (Steel): جیسے ہی حکومتی ترقیاتی منصوبے (Development Projects) شروع ہوتے ہیں، ان سیکٹرز میں مانگ بڑھ جاتی ہے۔

  • توانائی (Energy): ڈالر کے بہاؤ سے سرکولر ڈیٹ (Circular Debt) کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہوتی ہے۔

کارپوریٹ منظرنامہ: PTCL-Telenor انضمام میں پیشرفت.

KSE100 میں تیزی کے ساتھ ساتھ، کارپوریٹ سیکٹر میں بھی ایک بڑی خبر سامنے آئی.

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) نے ٹیلی نار پاکستان (Telenor Pakistan) کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے منظوری حاصل کرنے کے بعد ایک تیز رفتار (Fast-Track) حصول اور انضمام (Takeover and Merger) کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ عمل اگلے پانچ سے چھ ماہ میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔

یہ انضمام پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے لیے ایک اہم واقعہ ہے. جس سے ایک بڑا اور زیادہ مسابقتی ادارہ (Competitive Entity) سامنے آئے گا۔ مارکیٹ کی نظریں PTCL کے حصص (Shares) پر ہوں گی. کہ یہ بڑی ڈیل ان کی قیمت اور مستقبل کی کارکردگی کو کیسے متاثر کرتی ہے۔

بڑے انضمام اکثر مارکیٹ کے لیے ایک مثبت محرک (Positive Catalyst) کا کام کرتے ہیں. کیونکہ وہ سائنرجیز (Synergies) اور لاگت میں کمی (Cost Rationalization) کا وعدہ کرتے ہیں۔

عالمی مارکیٹس کا موازنہ: فیڈرل ریزرو کی غیر یقینی صورتحال

مقامی مارکیٹ میں تیزی کے برعکس، بین الاقوامی منظر نامہ محتاط اور غیر یقینی رہا۔

ایشیائی مارکیٹس میں ہلچل: ایشیائی شیئرز میں محتاط رجحان دیکھا گیا. کیونکہ سرمایہ کار اس ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی شرح سود میں ممکنہ کمی پر شرط لگا رہے ہیں۔ مارکیٹ میں کی شرح سود میں چوتھائی پوائنٹ کی کمی کا 85% امکان لگایا جا رہا ہے۔ اگر فیڈرل ریزرو شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا. تو یہ مارکیٹ کے لیے ایک "زلزلہ” (Seismic Shock) ہو سکتا ہے۔

ایک تجربہ کار مارکیٹ تجزیہ کار (market analyst) کے طور پر، میں یہ نوٹ کروں گا. کہ عالمی مارکیٹ میں امریکی پالیسی کے حوالے سے دسیوں سالوں میں سب سے زیادہ رائے کا اختلاف (Dissents) دیکھا جا رہا ہے۔ ایسی غیر یقینی صورتحال میں. ابھرتی ہوئی مارکیٹس (Emerging Markets) جیسے پاکستان میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار (Foreign Portfolio Investors) عام طور پر محتاط ہو جاتے ہیں۔

KSE100 میں حالیہ تیزی ایک حد تک مقامی سرمایہ کاروں کی قوت (Strength of Domestic Investors) کی عکاسی ہے، جو عالمی غیر یقینی کے باوجود IMF کی خبروں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی

آئی ایم ایف کی منظوری کی توقعات مارکیٹ میں ایک زبردست مثبت جذبہ (Positive Sentiment) پیدا کر رہی ہیں۔ لیکن ایک ذمہ دار اور کامیاب سرمایہ کار کو جذبات سے بالاتر ہو کر حقائق پر مبنی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

  • منظوری کے نتائج: اگر IMF کی منظوری مل جاتی ہے. تو مارکیٹ میں ایک مختصر مدت کی ریلی (Short-Term Rally) آنے کا قوی امکان ہے۔ یہ ان سیکٹرز کو مزید اوپر لے جا سکتا ہے. جو پہلے سے ہی بڑھ رہے ہیں۔

  • خطرہ کا انتظام (Risk Management): چونکہ یہ تیزی صرف ایک خبر کی بنیاد پر ہے. اس لیے ہمیشہ غیر متوقع فیصلے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ تجربہ ہمیں سکھاتا ہے. کہ خبر "نکلنے” (news is released) کے بعد منافع کو محفوظ کرنا (Profit Booking) ایک سمجھدار عمل ہے۔ اپنی پوزیشنز کا قریب سے جائزہ لیں. اور Stop-Loss (نقصان روکنے کی حد) مقرر کریں۔

  • طویل مدتی نقطہ نظر: IMF کا پروگرام صرف ایک عارضی سہارا ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کاری (Long-Term Investment) کے لیے، ملک کی بنیادی معاشی ترقی (Fundamental Economic Growth) اور کارپوریٹ آمدنی (Corporate Earnings) کو مدنظر رکھیں۔

آپ کس طرح منصوبہ بندی کرتے ہیں؟ ہمیں کمنٹس میں بتائیں کہ کیا آپ اس تیزی میں داخل ہو رہے ہیں. یا IMF کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button