PSX میں شدید مندی کے بعد بحالی جاری : KSE100 انڈیکس 2,200 پوائنٹس گر گیا
Market Sentiment Weakens While Energy and Banking Giants Drag Benchmark Lower
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں گزشتہ دو روز سے جاری مندی کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ منگل کے روز ٹریڈنگ کے آغاز ہی سے مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار نظر آئی، جہاں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں تقریباً 2,175 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ جس کے بعد دن کے درمیانے سیشن میں جزوی بحالی جاری ہے یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے. جب سرمایہ کاروں کے حوصلے پہلے ہی پست تھے اور عالمی مارکیٹس سے بھی ملے جلے اشارے مل رہے تھے۔
صبح 11:15 بجے کے قریب KSE100 انڈیکس 172,278.79 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا. جو کہ 1.25 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یاد رہے کہ پیر کے روز بھی مارکیٹ 5,149 پوائنٹس کی تاریخی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئی تھی۔ اس بلاگ میں ہم جائزہ لیں گے. کہ اس مندی کی اصل وجوہات کیا ہیں اور آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کیا ہو سکتی ہے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
مارکیٹ کی گراوٹ: KSE-100 انڈیکس میں دو دنوں کے دوران 7,000 سے زائد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی. جس سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن (Market Capitalization) کو اربوں کا نقصان پہنچا۔
-
بڑے سیکٹرز کا حال: بینکنگ، سیمنٹ، آئل اینڈ گیس، اور پاور سیکٹر کے بڑے شیئرز (Blue-Chip Stocks) میں فروخت کا شدید دباؤ (selling pressure) دیکھا گیا۔
-
نیپرا (NEPRA) کا فیصلہ: بجلی کے صارفین (prosumers) کے لیے 7 سالہ معاہدوں کے تحفظ کے اعلان نے توانائی کے شعبے میں کچھ حد تک وضاحت فراہم کی ہے. لیکن مجموعی جذبات (Sentiment) اب بھی منفی ہیں۔
-
عالمی اثرات: امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور ایشیائی مارکیٹ میں چھٹیوں کے باعث عالمی سطح پر سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
PSX میں حالیہ مندی کیوں آئی؟
PSX میں اس اچانک اور بڑی گراوٹ کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ صرف ایک تکنیکی اصلاح (Technical Correction) نہیں ہے. بلکہ اس کے پیچھے گہرے معاشی اور نفسیاتی اسباب ہیں۔
1. سرمایہ کاروں کا عدم اعتماد اور رسک ایورژن (Risk Aversion)
جب مارکیٹ ایک بلند ترین سطح (All-Time High) کو چھوتی ہے. تو بڑے سرمایہ کار اکثر منافع کی وصولی (profit Taking) شروع کر دیتے ہیں۔ سوموار کے روز KSE100 میں ہونے والی 5,000 سے زائد پوائنٹس کی کمی نے چھوٹے سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس (Panic Selling) پیدا کر دیا، جس کا تسلسل منگل کو بھی برقرار رہا۔
2. اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ
انڈیکس کے بڑے کھلاڑی جیسے کہ حب پاور (HUBCO)، او جی ڈی سی (OGDC)، اور بینکنگ سیکٹر کے بڑے نام جیسے ایچ بی ایل (HBL) اور میزان بینک (MEBL) سرخ نشان (Red Zone) میں ٹریڈ کر رہے ہیں۔ جب یہ بڑے اسٹاکس گرتے ہیں. تو KSE100 انڈیکس پر اس کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔

نیپرا (NEPRA) کے نئے قوانین اور انرجی سیکٹر پر اثرات
ایک اہم پیش رفت میں، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) نے موجودہ ‘پروسیومرز’ (Prosumers) – وہ لوگ جو بجلی پیدا بھی کرتے ہیں. اور استعمال بھی – کے لیے سات سالہ کنٹریکٹ کے تحفظ کا اعلان کیا ہے۔
اس کا PSX پر کیا اثر ہوگا؟ اگرچہ یہ ایک ریگولیٹری وضاحت ہے، لیکن پاور سیکٹر کے شیئرز میں فی الحال منفی رجحان غالب ہے۔ انویسٹرز کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں نیٹ میٹرنگ (Net Metering) کی پالیسیوں میں تبدیلی ان کمپنیوں کے منافع پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
عالمی مارکیٹ کا منظرنامہ: خام تیل اور جغرافیائی سیاست
پاکستان اسٹاک ایکسچینج تنہا نہیں گر رہی، بلکہ عالمی حالات بھی کچھ سازگار نہیں ہیں۔
-
خام تیل (Crude Oil): جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے آغاز کی خبروں نے تیل کی قیمتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان ایک تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، لہٰذا عالمی قیمتوں میں اضافہ ہمارے تجارتی خسارے (Trade Deficit) کو بڑھا سکتا ہے۔
-
ایشیائی مارکیٹس: قمری نئے سال (Lunar New Year) کی تعطیلات کے باعث چین، ہانگ کانگ اور سنگاپور کی مارکیٹس بند ہیں، جس کی وجہ سے خطے میں ٹریڈنگ والیوم (Trading Volume) کم ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی: ماہرین کی رائے
ایک تجربہ کار اسٹریٹیجسٹ کے طور پر، میرا مشورہ ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں ‘پینک’ (Panic) ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسٹاک مارکیٹ ہمیشہ سیدھی لکیر میں اوپر نہیں جاتی۔
"میں نے 2008 اور 2020 کے کریشز کو قریب سے دیکھا ہے۔ مارکیٹ جب اتنی تیزی سے گرتی ہے، تو وہ اکثر بہترین ‘بائنگ مواقع’ (Buying Opportunities) بھی پیدا کرتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کے پاس صبر (Patience) اور اضافی کیش (Liquidity) موجود ہو۔”
سرمایہ کاروں کے لیے مشورے:
-
پورٹ فولیو ڈائیورسیفکیشن (Portfolio Diversification): تمام سرمایہ ایک ہی سیکٹر میں نہ لگائیں۔
-
نیوز مانیٹرنگ: مقامی سیاسی استحکام اور آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھیں۔
-
کوالٹی اسٹاکس: صرف ان کمپنیوں میں رہیں جن کی آمدنی (Earnings) اور ڈیویڈنڈ (Dividend) کی تاریخ اچھی ہو۔
اختتامیہ
PSX میں حالیہ 2,200 پوائنٹس کی گراوٹ بلاشبہ تشویشناک ہے. لیکن یہ مارکیٹ کے قدرتی سائیکل کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اور مقامی سطح پر ریگولیٹری تبدیلیاں آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رخ متعین کریں گی۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے ٹھوس ڈیٹا اور ٹیکنیکل چارٹس کی بنیاد پر اپنی حکمت عملی ترتیب دیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ مارکیٹ 170,000 کی سطح سے واپسی کرے گی. یا مندی کا یہ سلسلہ ابھی مزید چلے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



