امریکی US Air Strikes سے Iranian Nuclear Sites تباہ، ایران کا اسرائیل پر مہلک حملہ

Iran Retaliates After Devastating US Air Strikes Hit Key Iranian Nuclear Sites

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ گزشتہ رات امریکہ نے انتہائی خفیہ مشن کے تحت Iranian Nuclear Sites پر بھرپور US Airstrikes کر کے عالمی دنیا کو حیران کر دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو ناقابلِ استعمال بنانا ہے.

انہوں نے قوم سے مختصر خطاب میں دعویٰ کیا کہ ایران کی سب سے حساس تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایران کے پاس جوہری دھماکہ کرنے کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہی۔

خلاصہ

  • Fordow Nuclear Site مکمل طور پر تباہ.

  • Natanz Nuclear Site پر امریکہ کی جانب سے شدید حملہ، اہم تنصیبات متاثر.

  • Isfahan Nuclear Site کو بھی نشانہ بنایا گیا.

  • White House کے مطابق B-2 Bombers نے کامیاب مشن مکمل کیا

  • Donald Trump نے اپنے خطاب میں امریکی فوج کو مبارکباد دی اور امن کی بات کی.

  • امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی پر عالمی سطح پر سوالات اٹھنے لگے

ایران کی تصدیق اور عوامی ردعمل

ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی نے جزوی طور پر ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق Fordow, Natanz اور Isfahan میں Iranian Nuclear Sites کو شدید نقصان پہنچا۔ لیکن ایران نے کہا کہ ان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔

اسرائیل کا دفاعی نظام الرٹ

امریکی حملے کے فوراً بعد ایران نے اسرائیل پر جوابی Missile Attack کیا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران نے درجنوں Missiles داغے. جن میں سے کئی کو اسرائیلی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کر دیا۔ لیکن کچھ Missiles تل ابیب اور حیفہ کے علاقوں میں گرے جس سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان اور خوف و ہراس پھیل گیا۔

اردن اور سعودی عرب میں بھی ہائی الرٹ

اس تازہ کشیدگی کے بعد اردن اور سعودی عرب نے اپنی سرحدوں پر فوج کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ کی حمایت میں بیان جاری کیا کہ اگر ایران نے مزید کوئی کارروائی کی تو وہ بھی امریکہ کا ساتھ دے گا۔ اردنی حکومت نے شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت جاری کی ہے۔

امریکی پیغام: یا امن یا تباہی

صدر Donald Trump نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر تہران نے مذاکرات کی میز پر آنے سے انکار کیا تو آنے والے دنوں میں مزید خطرناک US Airstrikes ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کی فوجی صلاحیت کو زمین بوس کر دے گا. اگر اس نے خطے کا امن خطرے میں ڈالا۔

عالمی سطح پر سخت ردعمل. 

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال پوری دنیا کو جنگ کی دہلیز پر لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ فوری Peace Talks کا آغاز کیا جائے تاکہ خونریزی روکی جا سکے۔

 Iranian Nuclear Sites پر ہونیوالے ان حملوں کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے شدید الفاظ میں US Airstrikes کی مذمت کی گئی ہے . جس میں کہا گیا ہے کہ برادر اسلامی ملک ایران کو ان حملوں کا جواب دینے کا حق حاصل ہے.  علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی Security Council کے سیکرٹری جنرل نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے.

امریکی سیاست میں ہلچل

امریکہ کے اندر بھی اس آپریشن پر شدید سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔ ڈیموکریٹس نے صدر Donald Trump پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے Iranian Nuclear Sites پر US Airstrikes کا  خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ ری پبلکن پارٹی اس فیصلے کو امریکہ کی سلامتی کا ضامن قرار دے رہی ہے۔

خطے کے مستقبل پر سوالیہ نشان

مشرق وسطیٰ کی یہ نئی جنگ کس طرف جائے گی؟ کیا ایران پیچھے ہٹے گا یا مزید جوابی حملے کرے گا؟ کیا امریکہ اور Israel ایران کی مکمل شکست چاہتے ہیں یا صرف مذاکرات کی راہ ہموار کر رہے ہیں؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر US Airstrikes جاری رہیں تو خطے میں ایک اور بڑی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی مارکیٹس تک محسوس ہوں گے۔

[faq-schema id=”32702″]

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button