ٹرمپ کے بیان کے بعد Bitcoin میں زبردست تیزی، Dollar Index کی کمزوری نے Crypto Market کو نئی جان دے دی

Crypto Market Rally Intensifies While Bitcoin Still Faces Broader Downtrend Pressure

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق حالیہ بیان نے عالمی مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے. جس کے نتیجے میں بٹ کوائن (Bitcoin) کی قیمت 71,000 ڈالر کی سطح عبور کر گئی ہے۔ جب ڈالر اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے. تو کرپٹو کرنسی جیسے رسک اثاثوں (Risk Assets) میں تیزی دیکھنے کو ملتی ہے۔

اہم نکات (Key Highlights)

  • قیمت میں اضافہ: بٹ کوائن 3.9% اضافے کے ساتھ 71,000 ڈالر پر پہنچ گیا. جبکہ ایتھریم (ETH) نے دوبارہ 2,000 ڈالر کی نفسیاتی سطح حاصل کر لی ہے۔

  • ڈالر کی گراوٹ: امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) 99.7 سے گر کر 98.5 پر آ گیا ہے. جس نے کرپٹو اور سونے کی قیمتوں کو سہارا دیا۔

  • جیو پولیٹیکل اثرات: صدر ٹرمپ کے بیان کہ "ایران جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے” نے مارکیٹ میں بے یقینی کو کم کیا اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا باعث بنا۔

  • تکنیکی صورتحال: حالیہ تیزی کے باوجود، بٹ کوائن اکتوبر سے جاری "ڈاؤن ٹرینڈ” (Downtrend) میں ہے. رجحان بدلنے کے لیے 98,000 ڈالر کی سطح اہم ہے۔

  • سرمایہ کاری کا بہاؤ: فیوچرز مارکیٹ میں اوپن انٹرسٹ (Open Interest) میں 5% اضافہ ظاہر کرتا ہے. کہ مارکیٹ میں نیا پیسہ داخل ہو رہا ہے۔

بٹ کوائن کی قیمت 71,000 ڈالر تک کیوں پہنچی؟

Bitcoin کی حالیہ تیزی کی سب سے بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور جیو پولیٹیکل (Geopolitical) تناؤ میں کمی کی امید ہے۔ جب ڈالر انڈیکس (DXY) کمزور ہوتا ہے. تو سرمایہ کار اپنی رقم ڈالر سے نکال کر Bitcoin اور اسٹاک مارکیٹ جیسے اثاثوں میں منتقل کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے ایران سے متعلق مثبت بیان نے "سیف ہیون” (Safe Haven) اثاثوں یعنی ڈالر اور تیل سے پیسہ نکال کر کرپٹو کی طرف موڑ دیا ہے۔

ڈالر انڈیکس (DXY) اور کرپٹو کا تعلق

کرپٹو مارکیٹ اور ڈالر کے درمیان ہمیشہ ایک الٹا تعلق (Inverse Correlation) رہا ہے۔ گزشتہ روز جب ڈالر انڈیکس 98.5 کی سطح پر گرا. تو Bitcoin نے فوری طور پر 3.9% کی چھلانگ لگائی۔

میں نے گزشتہ دس سالوں میں کئی بار دیکھا ہے کہ جب بھی Federal Reserve یا سیاسی بیانات ڈالر کو کمزور کرتے ہیں، تو بٹ کوائن ایک "اسپنج” کی طرح مارکیٹ کی اضافی لیکویڈیٹی (Liquidity) کو جذب کر لیتا ہے۔ 2017 اور 2020 کے سائیکلز میں بھی بالکل یہی پیٹرن دیکھا گیا تھا۔

کیا Bitcoin کا ڈاؤن ٹرینڈ (Downtrend) ختم ہو چکا ہے؟

اگرچہ بٹ کوائن 71,000 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا ہے، لیکن تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis) کے مطابق یہ ابھی تک مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں ہے۔ اکتوبر کے اوائل سے مارکیٹ "لوئر ہائیز” (Lower Highs) اور "لوئر لوز” (Lower Lows) بنا رہی ہے. جو کہ ایک واضح مندی کا نشان ہے۔

ٹرینڈ ریورسل (Trend Reversal) کے لیے ضروری شرائط:

مارکیٹ کا رخ مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لیے Bitcoin کو درج ذیل مراحل سے گزرنا ہوگا:

  1. 98,000 ڈالر کی سطح: ماہرین کے مطابق جب تک قیمت 98,000 ڈالر سے اوپر جا کر مستحکم نہیں ہوتی. اسے "بل مارکیٹ” (Bull Market) کی واپسی نہیں کہا جا سکتا۔

  2. سپورٹ لیولز (Support Levels): قیمت کو اوپر جاتے ہوئے پرانے مزاحمتی لیولز (Resistance) کو مضبوط سپورٹ میں بدلنا ہوگا۔

ڈیریویٹوز مارکیٹ اور اوپن انٹرسٹ (Derivatives and Open Interest)

مارکیٹ کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے فیوچرز ڈیٹا (Futures Data) انتہائی اہم ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق Bitcoin اور ایتھریم کے اوپن انٹرسٹ (OI) میں 5% سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

اثاثہ (Asset) اوپن انٹرسٹ میں تبدیلی مارکیٹ کی صورتحال
Bitcoin (BTC) +5% اضافہ نیا سرمایہ داخل ہو رہا ہے (Bullish)
Ethereum (ETH) +5% اضافہ 2,000$ سے اوپر مضبوطی
Tether Gold (XAUT) کمی سونے سے پیسہ نکل رہا ہے
HYPE Token +14% اضافہ قلیل مدتی تیزی (Speculation)

اوپن انٹرسٹ میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹریڈرز صرف موجودہ قیمت پر خریداری نہیں کر رہے. بلکہ مستقبل کے لیے بھی پر امید ہیں. اور نئے کانٹریکٹس کھول رہے ہیں۔

ایران جنگ اور کرپٹو کی لچک (Resilience)

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے کرپٹو مارکیٹ کی ایک نئی خاصیت کو اجاگر کیا ہے: لچک۔ ماضی میں جنگی حالات میں کرپٹو اکثر گر جاتی تھی. لیکن اس بار Bitcoin نے اسٹاک مارکیٹ اور سونے کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار اب Bitcoin کو صرف ایک قیاس آرائی (Speculation) نہیں. بلکہ بحران کے وقت ایک محفوظ پناہ گاہ (Safe Haven) کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اگر ایران کا تنازع واقعی "بہت جلد” ختم ہو جاتا ہے. تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی. جو کہ عالمی معیشت اور کرپٹو کے لیے مثبت ثابت ہوگا۔

ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں نے نوٹ کیا ہے کہ مارکیٹ اکثر "افواہ پر خریدتی ہے.، اور خبر پر بیچتی ہے” (Buy the rumor, sell the news)۔ ٹرمپ کا بیان ایک جذباتی محرک (Catalyst) ہے. لیکن اصل پائیداری تب آئے گی جب ادارہ جاتی سرمایہ کار (Institutional Investors) اس سطح پر اپنی پوزیشنز برقرار رکھیں گے۔

اختتامیہ 

Bitcoin کا 71,000 ڈالر تک پہنچنا ایک مثبت اشارہ ہے. لیکن 98,000 ڈالر کا ہدف ابھی دور ہے۔ ڈالر کی کمزوری اور جیو پولیٹیکل حالات میں بہتری نے مارکیٹ کو آکسیجن فراہم کی ہے۔ تاہم، ایک سینئر تجزیہ کار کی حیثیت سے میری رائے یہ ہے کہ موجودہ ریلی میں احتیاط برتیں. اور اہم سپورٹ لیولز کے دوبارہ ٹیسٹ ہونے کا انتظار کریں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Bitcoin اس ماہ 80,000 ڈالر کی سطح کو چھو پائے گا یا یہ صرف ایک عارضی ابھار ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button