فاطمہ فرٹیلائزر اور ماری منرلز کا معاہدہ، معدنی شعبے میں بڑی پیشرفت.
Globacore Minerals Partners with Mari Minerals to Unlock Long-Term Value
پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے. جہاں روایتی کمپنیاں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے مائننگ (Mining) اور معدنیات کے شعبے کا رخ کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں Fatima Fertilizer Globacore Mari Minerals Joint Venture کی خبر نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
فاطمہ فرٹیلائزر (Fatima Fertilizer)، جو کہ ملک میں کھاد کی تیاری کا ایک بڑا نام ہے. اب اپنی ذیلی کمپنی ‘گلوباکور منرلز’ کے ذریعے بلوچستان میں تانبے اور سونے کی تلاش کے بڑے منصوبوں میں شامل ہو رہی ہے۔
2003 میں قائم ہونے والی Fatima Fertilizer، جو Fatima Group اور Arif Habib Group کا مشترکہ منصوبہ ہے.، ملتان، شیخوپورہ اور صادق آباد میں اپنی پروڈکشن سہولیات رکھتی ہے. کمپنی کیمییکلز اور فرٹیلائزرز کی مینوفیکچرنگ، امپورٹ اور ایکسپورٹ میں فعال کردار ادا کر رہی ہے. اب معدنی شعبے میں شمولیت اس کے بزنس وژن کو ایک نئی وسعت دیتی ہے۔
یہ جوائنٹ وینچر محض دو کمپنیوں کا معاہدہ نہیں. بلکہ پاکستان کے معدنی مستقبل، کارپوریٹ اسٹریٹجی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی ایک جڑی ہوئی مالی کہانی ہے. جو آنے والے برسوں میں مزید واضح ہو گی۔
اہم نکات
-
Fatima Fertilizer کی ملکیتی کمپنی گلوباکور منرلز (Globacore Minerals) نے Mari Minerals کے ساتھ جوائنٹ وینچر (Joint Venture) کیا ہے۔
-
اس معاہدے کے تحت ضلع چاغی، بلوچستان میں دو بڑے مائننگ لائسنسز (EL-322 اور EL-323) پر کام کیا جائے گا۔
-
گلوباکور کو ان لائسنسز میں 49 فیصد ورکنگ انٹرسٹ (Working Interest) حاصل ہوگا۔
-
Mari Minerals اس منصوبے کے آپریٹر کے طور پر کام جاری رکھے گی۔
-
یہ اقدام Fatima Fertilizer کے پورٹ فولیو کو متنوع بنانے اور طویل مدتی منافع کے لیے انتہائی اہم ہے۔
Fatima Fertilizer اور Mari Minerals کا معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو دی گئی اطلاع کے مطابق، Fatima Fertilizer کی ایسوسی ایٹ کمپنی ‘گلوباکور منرلز’، جس میں فاطمہ فرٹیلائزر کا 32 فیصد حصہ ہے. نے ماری منرلز (Mari Minerals) کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
Mari Minerals، جو کہ ماری انرجیز (Mari Energies) کی ملکیتی کمپنی ہے. اپنے دو اہم مائننگ لائسنسز میں سے 49 فیصد حصہ گلوباکور کو منتقل کرے گی۔ یہ لائسنس بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہیں. جو اپنی معدنی دولت کی وجہ سے عالمی سطح پر مشہور ہے۔
معاشی ماہر کے طور پر میں نے دیکھا ہے. کہ جب بھی کوئی بڑی کمپنی اپنے بنیادی کام (Core Business) سے ہٹ کر قدرتی وسائل (Natural Resources) میں سرمایہ کاری کرتی ہے. تو مارکیٹ اسے شروع میں ‘رسک’ سمجھتی ہے. لیکن طویل مدت میں یہ کمپنی کی بک ویلیو (Book Value) میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنتا ہے۔
یہ جوائنٹ وینچر (Joint Venture) سرمایہ کاروں کے لیے کیوں اہم ہے؟
مائننگ اور ایکسپلوریشن (Exploration) کے شعبے میں داخلہ کسی بھی کمپنی کے لیے آمدنی کے نئے اور بڑے ذرائع کھولتا ہے۔ Fatima Fertilizer کا یہ قدم ظاہر کرتا ہے. کہ کمپنی صرف کھاد تک محدود نہیں رہنا چاہتی. بلکہ وہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی مائننگ پالیسی کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔
-
کاروباری تنوع (Diversification): صرف ایک شعبے پر انحصار کم ہوتا ہے۔
-
اسٹرٹیجک لوکیشن: چاغی کا علاقہ ریکوڈک (Reko Diq) کے قریب ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
-
مستقبل کی گروتھ: معدنیات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں ڈالر سے منسلک ہوتی ہیں. جو کمپنی کو روپے کی قدر میں کمی کے خلاف تحفظ (Hedge) فراہم کرتی ہیں۔
مائننگ لائسنسز EL-322 اور EL-323 کی اہمیت کیا ہے؟
یہ دونوں لائسنس چاغی کے اس بیلٹ میں واقع ہیں. جہاں تانبے (Copper) اور سونے (Gold) کے ذخائر ملنے کے قوی امکانات ہیں۔ معاہدے کے تحت، Mari Minerals ہی ان لائسنسز پر آپریٹر (Operator) کے طور پر کام کرے گی. یعنی زمین پر ہونے والی تمام کھدائی اور تکنیکی کام ماری منرلز کی نگرانی میں ہوگا، جبکہ گلوباکور (اور بالواسطہ فاطمہ فرٹیلائزر) اس منصوبے میں مالی اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہوں گے۔
مائننگ سیکٹر میں ‘آپریٹر’ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ماری انرجیز کا ٹریک ریکارڈ بطور آپریٹر بہت مضبوط ہے. جس کا مطلب ہے کہ فاطمہ فرٹیلائزر نے ایک ایسے پارٹنر کا انتخاب کیا ہے. جو تکنیکی طور پر اس کام کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔)
کیا اس معاہدے سے فاطمہ فرٹیلائزر کے شیئر کی قیمت بڑھے گی؟
اس طرح کے اسٹرٹیجک معاہدے فوری طور پر مارکیٹ میں مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ طویل مدت میں، جیسے ہی ایکسپلوریشن کے نتائج سامنے آئیں گے، فاطمہ فرٹیلائزر کی اثاثہ جاتی قدر (Asset Value) میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو شیئر ہولڈرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
گلوباکور منرلز میں Fatima Fertilizer کا کتنا حصہ ہے؟
Fatima Fertilizer کمپنی لمیٹڈ گلوباکور منرلز میں 32 فیصد ایکویٹی اسٹیک (Equity Stake) رکھتی ہے. جس کا مطلب ہے کہ اس جوائنٹ وینچر سے حاصل ہونے والے منافع کا ایک بڑا حصہ فاطمہ فرٹیلائزر کو ملے گا۔
حرف آخر.
Fatima Fertilizer کا Mari Minerals کے ساتھ یہ اتحاد پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ بلوچستان کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کرنا ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے جو آنے والے سالوں میں کمپنی کے مالیاتی ڈھانچے کو تبدیل کر سکتا ہے۔
ایک تجربہ کار تجزیہ کار کے طور پر، میرا مشورہ ہے کہ سرمایہ کار اس منصوبے کی ریگولیٹری منظوریوں اور بلوچستان میں سیکورٹی کی صورتحال پر نظر رکھیں. کیونکہ یہ عوامل منصوبے کی رفتار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا پاکستان کی بڑی کمپنیوں کو مائننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے. یا اپنے بنیادی کام پر توجہ دینی چاہیے؟ نیچے کمنٹس میں بتائیں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



