پاکستان میں Islamic Finance کا نیا ریکارڈ: 2025 میں 2 ٹریلین روپے کے Sukuk کا اجرا

Rs 2 trillion Sukuk Milestone Strengthens Shariah-Compliant Debt Strategy

پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں Islamic Finance کیلئے سال 2025 ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ (Ministry of Finance) کے ڈیٹ مینجمنٹ آفس نے مشترکہ مالیاتی مشیروں (Joint Financial Advisors) کے ساتھ مل کر 2 ٹریلین روپے سے زائد مالیت کے Sukuk جاری کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ 2008 کے بعد کسی بھی ایک کیلنڈر سال میں ہونے والا سب سے بڑا اجرا ہے، جو ملک کے مالیاتی ڈھانچے کو تیزی سے شریعت کے مطابق (Shariah-compliant) بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔

وزارتِ خزانہ نے 2028 تک Shariah-Compliant Debt کا حصہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے. اور موجودہ رفتار یہ ثابت کرتی ہے. کہ یہ ہدف اب خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت بن چکا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کو ایک زیادہ Diversified، Resilient اور Future-Ready مالیاتی نظام کی طرف لے جا رہی ہے۔

آخرکار Pakistan Stock Exchange میں  Sukuk محض ایک مالیاتی آلہ نہیں بلکہ پاکستان کی بدلتی ہوئی معاشی سوچ کی عکاسی ہے. جہاں پائیدار ترقی، سرمایہ کاروں کا اعتماد اور Islamic Finance ایک مشترکہ کہانی بن کر ابھر رہے ہیں۔

اہم نکات (Key Points)

  • تاریخی ریکارڈ: پاکستان نے 2025 میں 20 کھرب (2 trillion) روپے سے زائد کے Sukuk جاری کیے. جو کہ ایک سالانہ ریکارڈ ہے۔

  • بڑھتا ہوا حصہ: حکومتی سیکیورٹیز کے مجموعی پورٹ فولیو میں Islamic Finance کا حصہ بڑھ کر 14.5 فیصد ہو گیا ہے۔

  • گرین سکوک کا آغاز: پاکستان کا پہلا "گرین سکوک” (Green Sukuk) کامیابی سے لانچ ہوا. جو 5.4 گنا زیادہ اوور سبسکرائب ہوا۔

  • مستقبل کا ہدف: حکومت کا مقصد 2028 تک شریعت کے مطابق قرضوں کا تناسب 20 فیصد تک لے جانا ہے۔

Sukuk کیا ہے اور یہ روایتی بانڈز سے کیسے مختلف ہے؟

Sukuk ایک Islamic Finance مالیاتی سرٹیفکیٹ ہے. جسے اکثر روایتی بانڈ (Bond) کا اسلامی متبادل سمجھا جاتا ہے۔ روایتی بانڈز میں سود (Interest) شامل ہوتا ہے. جبکہ سکوک میں سرمایہ کار کسی حقیقی اثاثے (Asset) کی ملکیت میں حصہ دار بنتے ہیں. اور اس اثاثے سے حاصل ہونے والے منافع یا کرایے میں شریک ہوتے ہیں۔

فنانشل مارکیٹس میں جب مائع پذیری (Liquidity) کا دباؤ بڑھتا ہے. تو Sukuk جیسے آلات بینکوں کے لیے بہترین سرمایہ کاری ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف محفوظ ہوتے ہیں بلکہ بینکوں کے شریعہ آڈٹ اور Islamic Finance  کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے ہیں۔

پاکستان نے Islamic Finance میں یہ سنگ میل کیسے عبور کیا؟

وزارتِ خزانہ کے مطابق، یہ ریکارڈ کامیابی ایک مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ سال 2025 کے دوران مختلف میعاد (Tenors) کے 61 سکوک جاری کیے گئے. جن میں ایک سال سے لے کر 10 سال تک کے فکسڈ ریٹ (FRR) اور ویری ایبل ریٹ (VRR) والے سرٹیفکیٹ شامل تھے۔

ان Sukuk کے پیچھے ٹھوس قومی اثاثوں کی ضمانت موجود ہے. جن میں شامل ہیں:

  • پاکستان ریلوے (Pakistan Railways)

  • این ایچ اے (NHA)

  • کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT)

  • سی ڈی اے (CDA) اور دیگر سرکاری ادارے

گرین سکوک (Green Sukuk) کی کامیابی کیا ظاہر کرتی ہے؟

پاکستان کے پہلے گرین سکوک (Green Sukuk) کا 5.4 گنا زیادہ اوور سبسکرائب ہونا اس بات کی علامت ہے. کہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کار ماحول دوست منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ یہ مارکیٹ کے اس اعتماد کو ظاہر کرتا ہے. جو پاکستان کے معاشی استحکام (Economic Stability) کی جانب اشارے کر رہا ہے۔

کیا پاکستان 2028 تک 20 فیصد اسلامی قرضوں کا ہدف حاصل کر لے گا؟

جی ہاں، موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف حقیقت پسندانہ نظر آتا ہے۔ جون 2025 میں Islamic Finance کا حصہ 12.6 فیصد تھا. جو دسمبر 2025 تک بڑھ کر 14.5 فیصد ہو چکا ہے۔

حکومتِ پاکستان کا ڈیٹ مینجمنٹ آفس جس نظم و ضبط کے ساتھ اسلامی کیپیٹل مارکیٹ کو وسعت دے رہا ہے. اس سے نہ صرف حکومتی قرضوں کے بوجھ کو سنبھالنے میں مدد مل رہی ہے. بلکہ نجی شعبے کے لیے بھی Islamic Finance کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔

تفصیلات (Details) اعداد و شمار (Statistics)
مجموعی سکوک اجرا (2019-2025) 8.7 ٹریلین روپے
کل بقایا سکوک (Outstanding Sukuk) 6.6 ٹریلین روپے
شریعت کے مطابق آلات کا موجودہ حصہ 14.5%
مالی سال 2028 کا ہدف 20%

مارکیٹ پر اس کے دور رس اثرات (Market Implications)

ایک سینئر مارکیٹ اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میرا مشاہدہ ہے کہ جب کوئی ملک اپنے قرضوں کے ڈھانچے کو متنوع (Diversify) بناتا ہے. تو اس کی کریڈٹ ریٹنگ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسلامی مالیات کے فروغ سے بینکنگ سیکٹر میں موجود اضافی رقم (Excess Liquidity) کو پیداواری کاموں میں لگانے کا موقع ملتا ہے۔

میں نے ماضی میں دیکھا ہے کہ جب بھی حکومت Sukuk کی نیلامی (Auction) کرتی ہے. تو بینکوں کے درمیان مقابلہ سخت ہو جاتا ہے. جس سے حکومت کو کم ریٹ پر فنڈز دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ کار طویل مدت میں افراطِ زر (Inflation) کو کنٹرول کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ (Conclusion)

پاکستان کا 2 ٹریلین روپے کے Sukuk جاری کرنے کا ریکارڈ محض ایک عدد نہیں ہے. بلکہ یہ ملکی معیشت کے اسلامی ڈھانچے کی جانب منتقلی کا ایک ٹھوس ثبوت ہے۔ یہ پیش رفت میکرو اکنامک استحکام، مالیاتی پائیداری (Fiscal Sustainability) اور سرمایہ کاروں کے پائیدار اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان اب ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں مالیاتی نظام نہ صرف جدید ہوگا. بلکہ اخلاقی اور Islamic Finance کے مذہبی اصولوں کے عین مطابق بھی ہوگا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اسلامی مالیات کا یہ بڑھتا ہوا رجحان پاکستان کی معیشت کو سود سے پاک کرنے میں مددگار ثابت ہوگا؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button