پاکستان کی Meat Exports کو بڑا فروغ: TOMCL کا چین کے ساتھ $7.5 ملین ڈالرز کا بڑا معاہدہ

Pakistan’s Meat Exports take a major leap forward as TOMCL seals a strategic agreement with China worth $7.5 million

پاکستان کی گوشت کی صنعت اور Meat Exports کے لیے ایک بڑی اور مثبت خبر سامنے آئی ہے. The Organic Meat Company Limited TOMCL نے چین کو پکے ہوئے اور حرارت سے محفوظ (Heat-Treated) جمے ہوئے ہڈی کے بغیر گوشت (Boneless Beef) کی برآمد کے لیے $7.5 ملین کے بڑے آرڈرز حاصل کیے ہیں۔

یہ معاہدہ صرف ایک کمپنی کے لیے نہیں، بلکہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی برآمدی صلاحیت اور عالمی منڈی میں اس کے مقام کی ایک مضبوط علامت ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو ملک کی معیشت اور PSX دونوں کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گا۔

اہم نکات کا خلاصہ

  • معاہدہ اور اہمیت: TOMCL نے مالی سال 2025-2026 کے لیے چین کو $7.5 ملین مالیت کا پکا ہوا گائے کا گوشت برآمد کرنے کے پختہ آرڈرز حاصل کیے ہیں۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے. جو پاکستان کی گوشت کی برآمدات کو مزید تقویت دے گی۔

  • اعلیٰ قدر کی مصنوعات: یہ معاہدہ TOMCL کی اعلیٰ معیار کی مصنوعات میں مسلسل سرمایہ کاری اور ہلال (Halal) گوشت کی مصنوعات میں اس کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے. جو اسے چین کی سخت فوڈ سیفٹی (Food Safety) کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل بناتا ہے۔

  • CPEC کا کردار: یہ برآمدات چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت دونوں ممالک کے درمیان گہرے ہوتے زرعی اور خوراک کی تجارت کے تعلقات کو نمایاں کرتی ہیں۔

  • ملکی معیشت  پر اثرات: یہ معاہدہ نہ صرف TOMCL کے لیے مستقبل کی آمدنی کی واضح راہ ہموار کرتا ہے بلکہ پاکستان کی مجموعی گوشت کی برآمدات کو بھی فروغ دے گا، جو کہ پاکستان کی معیشت کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ (Foreign exchange) کے حصول میں مددگار ہے۔

  • مارکیٹ میں مقام: یہ کامیابی TOMCL کو علاقائی سطح پر ہلال گوشت کی برآمد میں ایک اہم اور سرکردہ کمپنی کے طور پر مضبوط کرے گی. جس سے دوسرے ممالک بھی اس کی مصنوعات میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔

 TOMCL نے چین سے کتنا بڑا آرڈر حاصل کیا ہے؟

TOMCL نے چین کے لیے $7.5 ملین کے تصدیق شدہ (Confirmed) برآمدی آرڈرز حاصل کیے ہیں، جو مالی سال 2025-2026 کے دوران مکمل کیے جائیں گے۔ یہ آرڈرز خاص طور پر پکے ہوئے اور حرارت سے محفوظ (Heat-Treated) جمے ہوئے ہڈی کے بغیر گائے کے گوشت (Frozen Boneless Beef) کے لیے ہیں۔

یہ گوشت ان ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے جو سخت صفائی اور حیاتیاتی معیار (Sanitary and Phytosanitary) کے پروٹوکولز پر عمل کرتے ہیں، جیسا کہ چین میں ہے۔ یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ TOMCL کی مصنوعات اور پروسیسنگ (Processing) کے معیارات عالمی سطح کے ہیں۔

اس قسم کے آرڈرز کا حصول کسی بھی کمپنی کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فنانشل مارکیٹس میں، اس طرح کی خبریں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھاتی ہیں کیونکہ یہ کمپنی کے مستقبل کی آمدنی کا ایک واضح اشارہ دیتی ہیں۔

میرے 10 سال کے مالیاتی تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ جب کوئی کمپنی اپنے کاروباری ماڈل کو صرف ایک خطے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے متنوع (Diversify) بناتی ہے اور زیادہ منافع بخش (Higher-Margin) مصنوعات میں سرمایہ کاری کرتی ہے تو اس کی مارکیٹ ویلیو (Market Value) میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

ملکی معیشت میں اہمیت.

یہ آرڈر صرف TOMCL کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی Meat Industry کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔ یہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر اہم ہے:

  • اعتماد کی بحالی: چین دنیا کی سب سے بڑی گوشت درآمد کرنے والی مارکیٹوں میں سے ایک ہے. اور اس کی سخت جانچ (Inspections) کے معیار ہیں۔ TOMCL کا ان معیارات پر پورا اترنا بین الاقوامی سطح پر پاکستانی مصنوعات کے معیار پر اعتماد کو بڑھاتا ہے۔

  • اعلیٰ قدر کی برآمدات: خام (Raw) گوشت کی برآمد کے بجائے، پکا ہوا (Cooked) اور پیک شدہ (Packaged) گوشت زیادہ منافع بخش ہوتا ہے۔ یہ پاکستان کی ‘زیادہ قدر’ (Value-Added) کی مصنوعات کی برآمدی حکمت عملی کو مضبوط کرتا ہے. جو ملک کے لیے زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ لاتی ہے۔

  • مارکیٹ کی وسعت: ماضی میں پاکستان کی گوشت کی برآمدات زیادہ تر خلیجی ممالک (Gulf countries) تک محدود تھیں۔ چین کی مارکیٹ میں داخلہ پاکستان کے لیے برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے کا دروازہ کھولتا ہے۔

CPEC کا اس معاہدے سے کیا تعلق ہے؟

TOMCL نے Pakistan Stock Exchange میں کئے گئے اپنے اعلان میں یہ واضح کیا ہے کہ یہ آرڈرز CPEC کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان گہرے ہوتے زرعی اور خوراک کی تجارت کے تعلقات کو نمایاں کرتے ہیں۔ CPEC صرف سڑکوں اور توانائی کے منصوبوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ایک اہم حصہ زرعی تعاون (agricultural cooperation) بھی ہے۔

اس تعاون کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید بنانا، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو یقینی بنانا، اور خوراک کی مصنوعات کی برآمدات کو آسان بنانا ہے۔

اس کا فائدہ کیا ہے؟

CPEC کے تحت قائم ہونے والے بہتر روابط اور سہولیات (Infrastructure) جیسے کہ کولڈ چین لاجسٹکس (Cold Chain Logistics) اور جانچ کی جدید سہولیات (Testing Facilities) پاکستانی کمپنیوں کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

جب کوئی ملک اپنے تجارتی پارٹنر کے ساتھ اسٹریٹجک (Strategic) اور طویل مدتی (Long-Term) تعلقات استوار کرتا ہے. تو اس سے ایسی کاروباری ڈیلز کا راستہ ہموار ہوتا ہے. جو صرف مارکیٹ کی طاقت پر مبنی نہیں ہوتیں. بلکہ باہمی اعتماد پر بھی استوار ہوتی ہیں۔

ایک دہائی قبل جب ہم اسٹاک مارکیٹ میں کسی کمپنی کی خبر کا تجزیہ کرتے تھے. تو بنیادی طور پر اس کے مالیاتی اعداد و شمار (Financial Data) پر توجہ ہوتی تھی۔ لیکن اب، میں نے سیکھا ہے. کہ کسی بھی ڈیل کا تجزیہ کرتے وقت ہمیں اس سے جڑے جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) اور حکومتی پالیسی کے عوامل کو بھی دیکھنا چاہیے۔

یہ بڑی تصویر ہمیں بتاتی ہے. کہ آیا یہ کامیابی ایک وقتی موقع ہے. یا کسی بڑی، طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ۔ TOMCL کا چین کی مارکیٹ میں قدم CPEC کے وسیع تر فریم ورک کے اندر ایک بہت ہی سمجھداری والا قدم ہے۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے. جو کمپنی کو نہ صرف فوری فائدہ دے گی. بلکہ مستقبل کی ترقی کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔

اس معاہدے سے پاکستان کی مارکیٹ اور TOMCL پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

TOMCL کے مطابق، یہ معاہدہ مالی سال 2025-26 کے لیے اس کی برآمدی آمدنی کی واضح راہ (Revenue Visibility) کو نمایاں طور پر بہتر بناتا ہے۔ جب کسی کمپنی کے پاس مستقبل کے لیے پہلے سے طے شدہ آرڈرز ہوں. تو اس سے اس کی مالیاتی منصوبہ بندی (Financial Planning) آسان ہو جاتی ہے. اور سرمایہ کاروں کو اس کی مستقبل کی کارکردگی پر اعتماد ہوتا ہے۔

پاکستان کی معیشت کے لیے، گوشت کی برآمدات میں اضافہ غیر ملکی زرمبادلہ (Foreign Exchange) کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ ملک کے تجارتی خسارے (Trade Deficit) کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے. جو ایک بہت اہم اقتصادی مسئلہ ہے۔ ماضی میں پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل پر مشتمل تھا. لیکن اب زرعی اور خوراک کی مصنوعات جیسے کہ گوشت، چاول اور پھلوں کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے. جو معیشت کو زیادہ مستحکم اور متنوع بناتا ہے۔

مستقبل کا منظر: پاکستان کی گوشت کی برآمدات کا سفر کہاں جا رہا ہے؟

TOMCL کی کامیابی محض ایک کہانی نہیں ہے. یہ پاکستان کی گوشت کی صنعت میں ایک بڑے رجحان کا اشارہ ہے۔ یہ کمپنی پہلے ہی خلیجی ممالک، Far East، اور Commonwealth of Independent States (CIS) میں ایک مضبوط مارکیٹ رکھتی ہے. اور اب اس نے تاجکستان اور وسطی ایشیا کی نئی مارکیٹوں میں بھی قدم رکھا ہے۔

اس کے علاوہ، پالتو جانوروں کی خوراک (Pets Food) کے ذریعے اس نے امریکہ اور یورپ کی مارکیٹ میں بھی داخلہ حاصل کیا ہے۔

یہ تمام اقدامات پاکستان کی کمپنیوں کی طرف سے اعلیٰ معیار کی اور بین الاقوامی مارکیٹس کی ضروریات کے مطابق مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ طویل مدتی نقطہ نظر سے، پاکستان کے پاس اپنے بڑے مویشی پالنے کے شعبے (Livestock population) کی وجہ سے گوشت کی برآمدات میں بے پناہ امکانات ہیں۔

اگر دیگر پاکستانی کمپنیاں بھی TOMCL کے نقش قدم پر چلتی ہیں. اور بین الاقوامی معیارات پر توجہ دیتی ہیں. تو پاکستان عالمی ہلال گوشت کی منڈی میں ایک بڑا کھلاڑی بن سکتا ہے۔

حرف آخر.

TOMCL کا چین کے ساتھ $7.5 ملین کا معاہدہ ایک بڑی کامیابی ہے. جو پاکستانی گوشت کی صنعت کے لیے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہ نہ صرف ایک کمپنی کے لیے منافع کا باعث بنے گا. بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی ایک اہم غیر ملکی زرمبادلہ فراہم کرے گا۔

یہ ظاہر کرتا ہے کہ صحیح حکمت عملی، معیار پر توجہ اور بین الاقوامی تعلقات کی مدد سے پاکستان کی کمپنیاں کس طرح عالمی مارکیٹ میں اپنی پہچان بنا سکتی ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے. کیا یہ معاہدہ پاکستانی گوشت کی برآمدات کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button