پاکستان کی معیشت میں نیا موڑ، Standard Chartered Bank کے ساتھ حکومت کا تاریخی عالمی رابطہ
Standard Chartered Bank–Led Roadshow Signals Reform-Led Financial Revival
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے. جہاں برسوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد اب استحکام کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں حکومتِ پاکستان اور Standard Chartered Bank کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ورچوئل روڈ شو (Virtual Roadshow) نے عالمی مالیاتی حلقوں میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
یہ ایونٹ محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت تھا. کہ دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے اب پاکستان کو ایک سنجیدہ "انویسٹمنٹ کیس” (Investment Case) کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اس بلاگ میں ہم تفصیلی جائزہ لیں گے کہ کس طرح Pakistan Investment Narrative and Economic Reforms نے عالمی سطح پر $35 ٹریلین سے زائد کے اثاثوں کا انتظام کرنے والے اداروں کی توجہ حاصل کی. اور عام سرمایہ کار کے لیے اس کے کیا معنی ہیں۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
حکومت اور Standard Chartered Bank کے اشتراک سے ہونے والے روڈ شو میں 225 سے زائد عالمی اداروں نے شرکت کی، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
-
سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز پاکستان میں ہونے والی میکرو اکنامک استحکام (Macroeconomic Stability) اور ساختی اصلاحات (Structural Reforms) ہیں۔
-
عالمی سطح پر $35 ٹریلین ڈالرز کے اثاثہ جات مینیج (Manage) کرنے والے بڑے اداروں نے پاکستان کے مستقبل میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
-
افراط زر میں کمی، مالیاتی ڈسپلن اور آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ بہتر تعلقات نے ملک کی کریڈبلٹی (Credibility) میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستان کا انویسٹمنٹ بیانیہ کیا ہے؟
پاکستان کا موجودہ انویسٹمنٹ بیانیہ (Investment Narrative) محض وعدوں پر نہیں. بلکہ ٹھوس اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں معاشی ٹیم نے دنیا کو بتایا. کہ اب پاکستان "شارٹ ٹرم” ریلیف سے نکل کر "لانگ ٹرم” پائیدار ترقی (Sustainable Growth) کی طرف گامزن ہے۔
Pakistan Investment Narrative and Economic Reforms کا بنیادی مقصد یہ ہے. کہ دنیا کو دکھایا جائے.کہ پاکستان میں اب پالیسیاں تسلسل کے ساتھ چل رہی ہیں۔ جب ہم معاشی استحکام کی بات کرتے ہیں. تو اس کا مطلب ہے کہ فارن ایکسچینج مارکیٹ (FX Market) مستحکم ہے. اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنا منافع واپس لے جانے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ایک تجربہ کار مالیاتی اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں نے دیکھا ہے کہ بڑے سرمایہ کار ہمیشہ "پیشن گوئی” (Predictability) تلاش کرتے ہیں۔ پاکستان نے اس روڈ شو کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے. کہ اب یہاں معاشی فیصلے سیاسی مصلحتوں کے بجائے عالمی معیار کے مطابق ہو رہے ہیں۔
ورچوئل روڈ شو کی تاریخی اہمیت اور شرکاء کا معیار
Standard Chartered Bank اور ڈیبٹ مینجمنٹ آفس (Debt Management Office) کے تعاون سے منعقد ہونے والا یہ روڈ شو حالیہ برسوں کا سب سے بڑا ایونٹ تھا۔ اس میں شامل 225 سرمایہ کاروں میں صرف سٹے باز (Speculators) نہیں تھے. بلکہ انشورنس کمپنیاں، پنشن فنڈز اور سوورین ویلتھ فنڈز (Sovereign Wealth Funds) شامل تھے۔
عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی وجوہات
-
بڑے اثاثہ جات کے مینیجرز: اس روڈ شو میں ایسے اداروں نے شرکت کی جن کے پاس مجموعی طور پر 35 ٹریلین ڈالرز سے زائد کے اثاثے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی رقم ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی (GDP) سے کئی گنا زیادہ ہے۔
-
جغرافیائی تنوع: امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا پیسیفک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے. کہ پاکستان کا بیانیہ عالمی سطح پر قبول کیا جا رہا ہے۔
-
حقیقی سرمایہ کاری (Real Money Investors): یہاں "ہاٹ منی” (Hot Money) کے بجائے لانگ ٹرم کیپیٹل کی بات ہو رہی ہے. جو ملک میں طویل عرصے تک ٹھہرتا ہے۔
یہاں مجھے اپنے کیریئر کا وہ وقت یاد آتا ہے. جب 2010 کی دہائی میں ہم روڈ شوز کرتے تھے تو سرمایہ کاروں کا پہلا سوال صرف "ڈیفالٹ” کے بارے میں ہوتا تھا. لیکن آج، گفتگو کا رخ بدل کر "گروتھ” اور "سیکٹر ریفارمز” پر آ گیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی نفسیاتی تبدیلی ہے. جو مارکیٹ کے رویے کو بدل دیتی ہے۔
معاشی اصلاحات: نیت سے عمل درآمد تک کا سفر
مشیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق، اب اصلاحات محض کاغذوں تک محدود نہیں رہیں۔ سرمایہ کاروں کو درج ذیل شعبوں میں واضح بہتری دکھائی گئی ہے.
-
ٹیکس نیٹ میں اضافہ (Tax Modernization): ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ٹیکس کے نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے۔
-
توانائی کے شعبے میں اصلاحات (Energy Sector Restructuring): گردشی قرضے (Circular Debt) کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات۔
-
سرکاری اداروں کی نجکاری (SOE Reforms): خسارے میں چلنے والے اداروں کی تنظیمِ نو۔
-
ریگولیٹری آسانی (Regulatory Simplification): کاروبار کرنے میں آسانی (Ease of Doing Business) کو یقینی بنانا۔
معاشی اشاریوں میں بہتری کا موازنہ
| اشاریہ (Indicator) | سابقہ صورتحال | موجودہ/متوقع سمت |
| مہنگائی (Inflation) | بلند ترین سطح | بتدریج کمی |
| مالیاتی خسارہ (Fiscal Deficit) | غیر مستحکم | بہتر ڈسپلن |
| غیر ملکی ذخائر (FX Reserves) | دباؤ کا شکار | مستحکم اور بڑھتے ہوئے |
| عالمی درجہ بندی (Ratings) | منفی آؤٹ لک | مستحکم/مثبت کی طرف گامزن |
آئی ایم ایف کا کردار اور عالمی ساکھ (External Validation)
عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے تحت ڈسپلن نے پاکستان کی ساکھ کو بحال کیا ہے۔ جب آئی ایم ایف کسی ملک کے ساتھ منسلک ہوتا ہے، تو یہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک "گرین سگنل” (Green Signal) کی طرح ہوتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک اپنی اصلاحات کے بارے میں سنجیدہ ہے اور اس کے پاس بیرونی ادائیگیوں کے لیے ایک روڈ میپ موجود ہے۔
کیا اب پاکستان میں سرمایہ کاری کا بہترین وقت ہے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان کی مارکیٹ اس وقت "انڈر ویلیوڈ” (Undervalued) ہے۔ یعنی یہاں اثاثوں کی قیمتیں ان کی اصل مالیت سے کم ہیں. جو مستقبل میں بڑے منافع (Asymmetric Upside) کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ جیسے جیسے اصلاحات جڑ پکڑیں گی. انویسٹر کانفیڈنس بڑھے گا اور قیمتیں اپنی اصل سطح پر آئیں گی۔
مستقبل کا لائحہ عمل: بیرونی فنڈنگ اور آر ایف پیز (RFPs)
وزیرِ خزانہ نے روڈ شو کے دوران واضح کیا کہ پاکستان اب مارکیٹ پر مبنی فنڈنگ (Market-based Funding) کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اس کے لیے جلد ہی آر ایف پیز (Request for Proposals) جاری کی جائیں گی. تاکہ بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ سے فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے. کہ پاکستان اب امداد (Aid) کے بجائے تجارت (Trade) اور سرمایہ کاری (Investment) پر یقین رکھتا ہے۔
مالیاتی مارکیٹس میں جب کوئی ملک آر ایف پیز جاری کرنے کا اعلان کرتا ہے. تو یہ اس کی خود اعتمادی کی علامت ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب حکومتیں شفاف طریقے سے پلان سامنے رکھتی ہیں. تو سیکنڈری مارکیٹ میں ان کے بانڈز کی قیمتیں فوری طور پر اوپر جاتی ہیں. کیونکہ مارکیٹ "غیریقینی” سے نفرت کرتی ہے۔
کیا یہ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا؟
Standard Chartered Bank کے ساتھ یہ ورچوئل روڈ شو محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ ایک Sustained Investor Engagement Cycle کا آغاز ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب حکومت مسلسل عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔ پاکستان نے کامیابی کے ساتھ خود کو عالمی مالیاتی ریڈار (Financial Radar) پر واپس لا کھڑا کیا ہے۔
Pakistan Investment Narrative and Economic Reforms کی کامیابی کا دارومدار اب ان اصلاحات کے تسلسل پر ہے۔ اگر حکومت ٹیکس چوری، توانائی کے بحران اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب رہتی ہے، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان خطے کی ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بن کر ابھرے گا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کا یہ اعتماد عام پاکستانی کی زندگی میں بھی تبدیلی لائے گا؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔
Source: SCBPL – Stock quote for Standard Chartered Bank (Pak) Ltd – Pakistan Stock Exchange (PSX)
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



