پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر اور شمسی توانائی، KML کا بڑا Solar Project
Kohinoor Mills Limited boosts its cost efficiency and sustainability with a 4.5MW solar project
پاکستان کی صنعت، خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر، ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ مہنگی بجلی اور درآمدی ایندھن پر انحصار نے آپریٹنگ اخراجات کو آسمان پر پہنچا دیا ہے. جس سے کاروباروں کی منافع بخشی متاثر ہو رہی ہے۔ اس مشکل صورتحال میں، کئی بڑی کمپنیاں شمسی توانائی کی طرف دیکھ رہی ہیں پاکستان کے صنعتی شعبے میں تیزی سے Renewable Energy کی طرف رخ بڑھ رہا ہے اور اسی دوڑ میں ٹیکسٹائل کی بڑی کمپنی KML نے ایک زبردست سنگ میل عبور کیا ہے۔
کمپنی نے اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹ میں 4.5MW کا Solar Project مکمل کر لیا ہے جبکہ باقی 2.7MW بھی جلد مکمل ہونے والا ہے۔
خلاصہ
-
کوہ نور ملز KML کا بڑا قدم: کوہ نور ملز لمیٹڈ KML نے 4.5 میگاواٹ کا بڑا سولر پراجیکٹ لگایا ہے. جس سے اس کی 20% سے زیادہ توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی۔ یہ ایک اہم قدم ہے. جو لاگت کی بچت اور ماحول دوست آپریشنز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
-
وسیع صنعتی رجحان: یہ صرف KML کا اقدام نہیں ہے۔ جے کے اسپننگ، دیوان سیمنٹ، اور انٹرنیشنل اسٹیلز جیسی دیگر کمپنیاں بھی بڑے سولر پراجیکٹس لگا رہی ہیں۔ یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے. کہ پاکستان کا صنعتی سیکٹر توانائی کے خود مختار ذرائع کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
-
اقتصادی اور مارکیٹ پر اثرات: توانائی کے خود انحصاری سے کمپنیوں کی آپریٹنگ لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس سے ان کی منافع بخشی بڑھے گی. جو بالآخر پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) میں ان کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
-
قومی سطح پر فوائد: یہ اقدامات نہ صرف انفرادی کمپنیوں کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ پورے ملک کے لیے بھی اہم ہیں۔ یہ غیر ملکی ایندھن پر انحصار کم کرے گا اور پاکستان کو قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) کی طرف لے جائے گا۔
کوہ نور ملز KML شمسی توانائی کیوں اپنا رہی ہے؟
اس وقت پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کرتا ہے. جو کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف پیداواری اخراجات (Production Costs) میں اضافہ کر رہی ہیں. بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت (Competitiveness) کو بھی کم کر رہی ہیں۔
اسی پس منظر میں، کوہ نور ملز لمیٹڈ KML کا اپنے فیصلٹی (Facility) میں 4.5 میگاواٹ کا سولر سسٹم نصب کرنا ایک اسٹریٹجک اقدام ہے۔ یہ اقدام کمپنی کو اپنے آپریٹنگ اخراجات (Operational Costs) کو کنٹرول کرنے میں مدد دے گا۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق، اس سسٹم سے ان کی 20% سے زیادہ توانائی کی ضرورت پوری ہوگی. اور باقی 2.7 میگاواٹ کی تنصیب بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔
میں نے اپنی دس سالہ فنانشل مارکیٹس کی کیریئر میں ایک بات بہت واضح طور پر سیکھی ہے. کہ جب کوئی کمپنی اپنے بنیادی آپریٹنگ اخراجات پر قابو پاتی ہے. تو اس کی منافع بخشی میں غیر معمولی بہتری آتی ہے۔
ایسی کمپنیاں نہ صرف اپنے حریفوں سے آگے نکل جاتی ہیں بلکہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی ان کی قدر بڑھتی ہے۔ یہ اقدام KML کی طویل المدتی پائیدار ترقی (Long-Term Sustainable Growth) کا اشارہ دیتا ہے. جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش علامت ہے۔
کیا یہ صرف ایک کمپنی کا رجحان ہے؟
یہ سوچنا غلط ہوگا کہ یہ صرف KML کا فیصلہ ہے۔ درحقیقت، یہ پاکستان میں ایک وسیع صنعتی رجحان ہے، اور کئی دیگر کمپنیاں بھی قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
کچھ نمایاں مثالیں:
-
جے کے اسپننگ ملز لمیٹڈ: کمپنی نے 7 میگاواٹ کی اضافی سولر صلاحیت نصب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
-
دیوان سیمنٹ لمیٹڈ: کراچی میں اپنی فیکٹری میں 6 میگاواٹ کا سولر پاور سسٹم کامیابی سے شروع کر چکی ہے۔
-
انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ (ISL): یہ کمپنی بھی کراچی میں 6.4 میگاواٹ کا سولر پراجیکٹ مکمل کر چکی ہے۔
-
طارق کارپوریشن لمیٹڈ (TCORP): اس نے 200 کلوواٹ کا سولر سسٹم لگانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ مثالیں واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستانی صنعت تیزی سے مہنگے تیل اور گیس سے سستے اور پائیدار توانائی کے ذرائع کی طرف جا رہی ہے۔ یہ نہ صرف ان کمپنیوں کے اپنے اخراجات کو کم کرے گا بلکہ قومی گرڈ پر بھی دباؤ کم کرے گا۔
اس رجحان کے پاکستان سٹاک مارکیٹ (PSX) پر کیا اثرات ہوں گے؟
شمسی توانائی کے پراجیکٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کا پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) پر براہ راست اور مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
-
بہتر منافع بخشی (Profitability): توانائی کے اخراجات میں کمی سے کمپنیوں کی خالص آمدنی (Net Income) میں اضافہ ہوگا۔ یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے.، جو بہتر کارکردگی والی کمپنیوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
-
سرمایہ کاری میں اضافہ: جب کمپنیاں اپنے آپریٹنگ اخراجات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرتی ہیں. تو وہ زیادہ پُراعتماد ہو کر مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔ اس سے ان کی پیداواری صلاحیت (Production Capacity) بڑھے گی، جو بالآخر ان کی مارکیٹ قدر (Market Value) میں اضافہ کرے گی۔
-
ماحولیاتی، سماجی، اور حکمرانی (ESG) کی درجہ بندی میں بہتری: قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں اپنی ESG پروفائل کو بہتر کرتی ہیں۔ عالمی سطح پر سرمایہ کار تیزی سے ان کمپنیوں میں دلچسپی لے رہے ہیں جو ESG معیاروں کو پورا کرتی ہیں۔ اس سے پاکستان کی کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی صنعت صرف بقا کی جنگ نہیں لڑ رہی. بلکہ مستقبل کے لیے ایک ٹھوس حکمت عملی (Solid Strategy) بھی بنا رہی ہے۔ شمسی توانائی میں یہ سرمایہ کاری ایک طویل مدتی حکمت عملی ہے. جو نہ صرف کاروباری لاگت کو کم کرے گی. بلکہ قومی معیشت کی پائیداری (Sustainability) میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
حرف آخر.
KML کا یہ اقدام اور دیگر کمپنیوں کا اسی راہ پر چلنا پاکستان کے صنعتی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ صرف توانائی کے حل کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ کاروبار کے ایک نئے ماڈل (Business Model) کی طرف منتقلی ہے جہاں پائیداری اور لاگت کی کارکردگی (Cost Efficiency) کو یکجا کیا جا رہا ہے۔
اس سے نہ صرف انفرادی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا بلکہ پورے ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔ آنے والے وقتوں میں ہم مزید کمپنیوں کو اس رجحان کی پیروی کرتے ہوئے دیکھیں گے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ رجحان پاکستان کے صنعتی منظر نامے کو حقیقی معنوں میں تبدیل کر سکتا ہے؟ نیچے تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



