PIA کی لندن پروازوں کی بحالی: پاکستانی ہوا بازی اور معیشت کے لیے ایک نیا موڑ
Lahore–London Flights Restart as PIA Strengthens UK Network and Investor Confidence
لاہور سے لندن کے لیے PIA کی پروازوں کا دوبارہ آغاز نہ صرف مسافروں کے لیے ایک خوشخبری ہے. بلکہ یہ پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر اور قومی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
برطانوی فضائی حدود میں طویل پابندی کے بعد، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) نے اپنی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ 30 مارچ سے لاہور سے لندن کے لیے پہلی پرواز (PK-757) روانہ ہوگی۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے. جب حکومتِ پاکستان نے ایئر لائن کے 75 فیصد حصص (Shares) کی نجکاری (Privatization) کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ ایک فنانشل مارکیٹ ایکسپرٹ کے طور پر، میں اسے محض ایک سفری خبر نہیں. بلکہ پاکستان کے ‘ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹک’ سیکٹر میں ایک بڑے اسٹرکچرل شفٹ (Structural shift) کے طور پر دیکھتا ہوں۔
اہم نکات (Key Points)
-
پروازوں کا آغاز: لاہور سے لندن (ہیتھرو ایئرپورٹ) کے لیے براہ راست پروازیں 30 مارچ سے شروع ہو رہی ہیں۔
-
نیٹ ورک میں اضافہ: اسلام آباد اور مانچسٹر کے بعد اب لاہور بھی براہ راست رابطے میں شامل ہو گیا ہے. جس سے برطانیہ کے لیے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد 7 ہو جائے گی۔
-
نجکاری کا اثر: پی آئی اے کی 75% ملکیت 135 ارب روپے میں فروخت ہونے کے بعد ایئر لائن کے آپریشنل ماڈل میں بڑی تبدیلیوں کی توقع ہے۔
-
معاشی اہمیت: براہ راست پروازوں کی بحالی سے زرمبادلہ (Foreign Exchange) کی بچت ہوگی اور تجارتی تعلقات میں بہتری آئے گی۔
PIA کی لندن پروازوں کا شیڈول کیا ہے؟
پی آئی اے 30 مارچ سے لاہور سے لندن (ہیتھرو) کے لیے براہ راست پروازیں شروع کر رہی ہے. جس کے بعد برطانیہ کے لیے کل ہفتہ وار پروازوں کی تعداد سات ہو جائے گی۔
PIA کے اعلامیے کے مطابق، لاہور سے پہلی پرواز PK-757 ہیتھرو ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر لینڈ کرے گی۔ اس سے قبل ایئر لائن نے 29 مارچ سے اسلام آباد سے بھی چار ہفتہ وار پروازوں کا اعلان کیا تھا۔ یہ واپسی تقریباً چھ سال کے طویل انتظار کے بعد ممکن ہوئی ہے. جو کہ ایئر لائن کے ریونیو اسٹریم (Revenue Stream) کے لیے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
برطانیہ نے PIA پر سے پابندی کیوں ختم کی؟
برطانیہ نے 16 جولائی کو PIA کو اپنی ‘ایئر سیفٹی لسٹ’ سے نکال دیا تھا، جس کی بنیاد ایئر لائن کے حفاظتی معیارات (Safety Standards) میں کی گئی تکنیکی اصلاحات اور کامیاب آڈٹس تھے۔
سال 2020 میں پی آئی اے کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا. جس کے نتیجے میں یورپی اور برطانوی فضائی حدود اس کے لیے بند کر دی گئی تھیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) اور پی آئی اے نے عالمی معیارات پر پورا اترنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔
مارکیٹس میں جب کوئی کمپنی ‘بلیک لسٹ’ سے باہر آتی ہے. تو اس کے اسٹاک کی قیمت میں فوری اضافہ دیکھا جاتا ہے. کیونکہ سرمایہ کار اسے آپریشنل ریکوری کی علامت سمجھتے ہیں۔ PIA کے معاملے میں بھی مارکیٹ کا ردعمل مثبت رہا ہے۔
PIA کی نجکاری اور اس کے معاشی اثرات
پی آئی اے کی نجکاری کا عمل 135 ارب روپے میں 75 فیصد حصص کی فروخت کے ساتھ مکمل ہونا، پاکستان کی معاشی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ ہے۔ ایک طویل عرصے سے خسارے میں چلنے والے اس ادارے (Loss-Making Entity) کو نجی شعبے کے حوالے کرنا، ملکی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
نجکاری کے بعد متوقع تبدیلیاں:
-
سروس کوالٹی میں بہتری: نجی انتظام (Private Management) کے تحت پروازوں کی وقت پر روانگی اور ان فلائٹ سروسز میں بہتری کی امید ہے۔
-
بیڑے کی توسیع (Fleet Expansion): نئے سرمایہ کاروں کی جانب سے نئے طیارے شامل کرنے سے PIA اپنی پرانی ساکھ بحال کر سکتی ہے۔
-
آپریشنل ایفیشنسی: غیر ضروری اخراجات میں کمی اور منافع بخش روٹس (Profitable Routes) پر توجہ مرکوز کرنا اب اولین ترجیح ہوگی۔
براہ راست پروازوں کی بحالی سے مسافروں کو کیا فائدہ ہوگا؟
براہ راست پرواز (Direct Flight) کی عدم موجودگی میں پاکستانی مسافروں کو خلیجی ممالک (Gulf countries) یا ترکی کے راستے سفر کرنا پڑتا تھا. جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا تھا. بلکہ کرایوں میں بھی اضافہ ہو جاتا تھا۔ لاہور سے لندن کا براہ راست سفر اب کم وقت میں ممکن ہوگا. جو خاص طور پر بزنس کمیونٹی اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔
برطانیہ کے لیے فلائٹ نیٹ ورک کی تفصیلات
| شہر | منزل | فریکوئنسی (ہفتہ وار) | ایئرپورٹ ٹرمینل |
| لاہور | لندن (ہیتھرو) | نئی سروس (30 مارچ) | ٹرمینل 4 |
| اسلام آباد | لندن (ہیتھرو) | 4 پروازیں | ٹرمینل 4 |
| اسلام آباد | مانچسٹر | بحال شدہ | مانچسٹر ایئرپورٹ |
مارکیٹ کا تجزیہ: ایوی ایشن سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع
ایک فنانشل اسٹریٹیجسٹ کے طور پر، میں سمجھتا ہوں. کہ پی آئی اے کی لندن واپسی صرف ایک ایئر لائن کی کامیابی نہیں. بلکہ پورے ‘ایوی ایشن ایکو سسٹم’ (aviation ecosystem) کے لیے مثبت پیغام ہے۔ جب قومی ایئر لائن بین الاقوامی روٹس پر واپس آتی ہے. تو اس سے متعلقہ شعبوں جیسے گراؤنڈ ہینڈلنگ، کیٹرنگ، اور ٹریول ایجنسیوں کے کاروبار میں بھی تیزی آتی ہے۔
میں نے ماضی میں دیکھا ہے کہ جب بھی کسی ملک کی قومی ایئر لائن اپنے بڑے بین الاقوامی روٹس بحال کرتی ہے. تو اس ملک کی کرنسی اور ‘ٹریڈ بیلنس’ پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں. کیونکہ مسافروں کا پیسہ مقامی کمپنی کے پاس رہتا ہے. نہ کہ غیر ملکی ایئر لائنز کے پاس۔
کیا PIA اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائے گی؟
PIA کی کامیابی کا انحصار اب اس کی انتظامی صلاحیتوں اور مسابقتی قیمتوں (Competitive Pricing) پر ہے۔ برٹش ایئرویز اور ورجن اٹلانٹک جیسے حریفوں کے درمیان جگہ بنانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
مارکیٹ میں واپسی کے لیے پی آئی اے کو درج ذیل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:
-
اعتماد کی بحالی: مسافروں کا اعتماد دوبارہ جیتنے کے لیے سیفٹی اور شیڈول کی پابندی لازمی ہے۔
-
جدید ٹیکنالوجی: بکنگ سسٹم اور کسٹمر سپورٹ کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
-
فیول پرائسنگ (Fuel Pricing): عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایئر لائن کے منافع (Profit Margins) پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
اختتامیہ.
PIA کی لاہور سے لندن کے لیے پروازوں کی بحالی پاکستانی ہوا بازی کی صنعت کے لیے ایک نئی صبح کی مانند ہے۔ نجکاری کے عمل کی تکمیل اور بین الاقوامی روٹس کی بحالی سے یہ امید پیدا ہوئی ہے. کہ ایئر لائن اب اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے گی۔ یہ نہ صرف معاشی لحاظ سے اہم ہے. بلکہ برطانیہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے اپنے وطن سے جڑنے کا ایک آسان ذریعہ بھی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا پی آئی اے کی نجکاری اور لندن پروازوں کی بحالی اس ادارے کو دوبارہ منافع بخش بنا سکے گی؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔
Source: PIAA – Stock quote for Pakistan International Airlines Corp – Pakistan Stock Exchange (PSX)
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



