ڈونلڈ ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت AI Chips پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان.
National Security Driven Tariffs on Advanced Chips Trigger Market Ripples
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جدید ترین Computing AI Chips (advanced computing chips) کی درآمد پر 25 فیصد ٹیرف (Tariff) عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے نے عالمی مارکیٹس، بالخصوص سیمی کنڈکٹر انڈسٹری (Semiconductor Industry) میں ہلچل مچا دی ہے۔
اس پالیسی کا بنیادی نشانہ Nvidia H200 اور AMD MI325X جیسے ہائی اینڈ (High-End) پروسیسرز ہیں. جو مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین اس اقدام کو امریکی سپلائی چین کو مضبوط کرنے اور تائیوان (Taiwan) جیسے ممالک پر انحصار کم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
مضمون کے اہم نکات.
-
ٹیرف کا نفاذ: صدر ٹرمپ نے Nvidia اور AMD کی جدید AI چپس پر 25% امپورٹ ڈیوٹی لگا دی ہے۔
-
مقصد: قومی سلامتی (National Security) کا تحفظ اور امریکہ کے اندر چپس کی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا۔
-
مارکیٹ ری ایکشن: خبر کے فوراً بعد کرنسی مارکیٹ میں AUDUSD کی جوڑی 0.6680 تک گر گئی۔
-
استثنیٰ (Exemptions): امریکی ڈیٹا سینٹرز، اسٹارٹ اپس اور عوامی شعبے کے لیے درآمد کی جانے والی چپس فی الحال اس ٹیرف سے مستثنیٰ ہو سکتی ہیں۔
-
مستقبل کا منظرنامہ: ٹرمپ انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ مستقبل میں دیگر سیمی کنڈکٹر مصنوعات پر بھی ٹیرف بڑھایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے نئے چپ ٹیرف کا کیا مطلب ہے؟
صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی اعلامیہ (Proclamation) کے ذریعے Nvidia H200 اور AMD MI325X جیسی جدید Computing AI Chips کی درآمد پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ قومی سلامتی کے خدشات کو دور کرنے اور امریکہ کو چپس کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عالمی چپ ساز کمپنیاں اپنی فیکٹریاں تائیوان یا چین سے منتقل کر کے امریکہ میں لگائیں۔
سیمی کنڈکٹر مارکیٹ میں اس اقدام کو "تحفظ پسندانہ تجارت” (Protectionist Trade) کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے. کہ امریکہ فی الحال اپنی ضرورت کی صرف 10 فیصد چپس خود بناتا ہے. جو کہ ایک سنگین معاشی اور دفاعی خطرہ ہے۔
اپنی دس سالہ ٹریڈنگ جرنی کے دوران میں نے دیکھا ہے. کہ جب بھی امریکہ "نیشنل سیکیورٹی” کا نام لے کر ٹیرف لگاتا ہے. تو مارکیٹ اسے صرف ایک ٹیکس نہیں بلکہ ایک تجارتی جنگ (Trade War) کے آغاز کے طور پر لیتی ہے۔ 2018 میں بھی جب اسی طرح کے ٹیرف لگے تھے. تو ٹیک (Tech) سیکٹر میں ابتدائی گراوٹ کے بعد سپلائی چین کی ری اسٹرکچرنگ شروع ہوئی تھی۔
Nvidia H200 اور AMD MI325X ہی کیوں؟
یہ دو چپس دنیا کے طاقتور ترین AI ایکسلریٹر (AI Accelerators) ہیں۔ Nvidia H200 خاص طور پر ڈیٹا سینٹرز میں بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) جیسے ChatGPT کی تربیت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ان مخصوص چپس کو نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ وہ "ٹیکنالوجی کی برتری” (Technological Supremacy) کی جنگ میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔
تائیوان کی کمپنی TSMC ان چپس کی اصل مینوفیکچرر ہے۔ ٹرمپ کا 25 فیصد ٹیرف دراصل TSMC اور ان جیسے دیگر اداروں کو یہ پیغام ہے. کہ اگر انہوں نے امریکہ میں اپنی پیداواری صلاحیت (Manufacturing Capacity) نہ بڑھائی. تو ان کا کاروبار مہنگا پڑ جائے گا۔
کیا یہ ٹیرف صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کا باعث بنے گا؟
طویل مدت میں یہ ٹیرف الیکٹرانکس اور کلاؤڈ سروسز (Cloud Services) کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی ڈیٹا سینٹرز کو کچھ رعایتیں دی ہیں. لیکن اگر سپلائی چین امریکہ سے باہر رہی. تو کمپنیوں کو یہ 25 فیصد اضافی لاگت کسی نہ کسی طرح صارفین تک منتقل کرنی پڑے گی۔
مارکیٹ انالیسس میں ایک اصول ہے جسے "Cost Pass-through” کہتے ہیں۔ جب بھی بڑی کمپنیوں پر ٹیکس لگتا ہے. وہ اپنا مارجن بچانے کے لیے قیمتیں بڑھا دیتی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایسے مواقع پر سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے منافع (Profit Margins) عارضی طور پر سکڑتے ہیں. جس سے شارٹ ٹرم ٹریڈرز کو "Short Selling” کے مواقع ملتے ہیں۔
سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کا مستقبل اور امریکی حکمت عملی
ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے Computing AI Chips پر Tariffs عائد کرنے کا یہ فیصلہ محض ایک ٹیرف نہیں. بلکہ ایک وسیع تر انڈسٹریل پالیسی (industrial policy) کا حصہ ہے۔ اس کے پیچھے چند بڑے مقاصد ہیں.
-
انسیٹو پروگرام (Incentive Programs): ٹیرف سے حاصل ہونے والی رقم کو امریکی چپ ساز کمپنیوں کو سبسڈی (subsidies) دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
-
تائیوان پر انحصار کا خاتمہ: جغرافیائی سیاسی (geopolitical) صورتحال کے پیش نظر امریکہ اب تائیوان پر مکمل انحصار کو خطرناک سمجھتا ہے۔
-
چین کی AI ترقی کو روکنا: جدید چپس کی قیمت بڑھا کر یا ان کی رسائی مشکل بنا کر امریکہ چین کے AI عزائم کو سست کرنا چاہتا ہے۔
کیا دیگر کمپنیوں پر بھی اثر پڑے گا؟
اگرچہ ابھی صرف Nvidia اور AMD کا نام لیا گیا ہے، لیکن انٹیل (Intel) اور کوالکوم (Qualcomm) جیسی کمپنیاں بھی ریڈار پر ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ پالیسی کامیاب رہی. تو لیپ ٹاپ، اسمارٹ فونز اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والی عام چپس پر بھی ٹیرف لگ سکتا ہے۔
اختتامیہ.
صدر ٹرمپ کا Computing AI Chips پر 25 فیصد ٹیرف لگانا عالمی ٹیکنالوجی کی جنگ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ یہ قدم جہاں امریکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دے سکتا ہے. وہاں عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مہنگائی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مارکیٹ کا ابتدائی ردعمل (AUDUSD کا گرنا) ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار فی الحال محتاط ہیں۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ٹرمپ کے یہ ٹیرف امریکہ کو دوبارہ "چپ پاور ہاؤس” بنا پائیں گے. یا اس سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



