ایران تنازعہ شدت اختیار کر گیا، تیل کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین ہفتہ وار بڑھوتری کی جانب

عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت جغرافیائی سیاسی کشیدگی سب سے بڑا موضوع بنی ہوئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کی عالمی سپلائی کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر خام تیل اس ہفتے تقریباً چار سال کی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یورپی منڈیوں پر دباؤ
یورپی اسٹاک مارکیٹس ہفتے کے اختتام پر دباؤ کا شکار نظر آئیں۔ ہفتے کے آغاز میں کچھ مثبت رجحان دیکھنے کو ملا تھا۔ تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر دیا۔
خاص طور پر یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں اس ہفتے کے آغاز میں تیزی سے بڑھیں۔ جس نے صنعتی اخراجات اور مجموعی مہنگائی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا۔ اگرچہ بعد میں گیس کی قیمتیں کچھ حد تک مستحکم ہو گئیں۔ مگر مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
برطانیہ کے FTSE 100 انڈیکس میں اس دوران دفاعی کمپنیوں اور تیل و گیس کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ اس کی بڑی وجہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی توقعات ہیں۔
Oil تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
عالمی منڈیوں میں Crude Oil خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار اب اس امکان کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ کہ اگر ایران سے متعلق تنازعہ طویل ہو گیا تو عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اگر یہ کشیدگی کئی ہفتوں تک جاری رہتی ہے تو توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ جو بالآخر عالمی مہنگائی کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ مختلف ممالک میں تیل کے ذخائر کی سطح بھی مختلف ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو کچھ ممالک جلد ہی توانائی کے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بحران کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
تیل، گیس، کیمیکلز اور دیگر اشیاء کی سپلائی چین متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو بھی اس تنازعے میں شامل کرنے کی حکمت عملی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
سعودی عرب کی پائپ لائن بھی خطرے میں
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے سعودی عرب کی East-West pipeline کو نشانہ بنایا تو عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے سعودی عرب اپنا تیل بحیرہ احمر کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچاتا ہے۔
اس کے علاوہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یمن میں حوثی باغی دوبارہ بحیرہ احمر کے راستے کو بند کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو عالمی تجارتی راستے اور سپلائی چین مزید دباؤ کا شکار ہو جائیں گے۔
عالمی مہنگائی میں اضافے کا خدشہ
اگر توانائی کی قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتیں صنعتوں کے اخراجات کو بڑھاتی ہیں، جس کا اثر بالآخر صارفین تک پہنچتا ہے۔
اسی وجہ سے سرمایہ کار اس صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
امریکی ملازمتوں کی رپورٹ پر نظریں
آج عالمی منڈیوں کی توجہ امریکہ کی فروری کی Nonfarm Payrolls (NFP) رپورٹ پر بھی مرکوز ہے۔ یہ رپورٹ امریکی لیبر مارکیٹ کی صورتحال کا اہم اشارہ سمجھی جاتی ہے۔
گزشتہ ماہ ملازمتوں میں 130 ہزار کا اضافہ ہوا تھا جو توقعات سے بہتر تھا۔ اگر اس بار بھی مضبوط اعداد و شمار سامنے آئے تو امریکی ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
فیڈرل ریزرو کی پالیسی پر اثرات
اگر امریکی لیبر مارکیٹ مضبوط رہتی ہے تو امکان ہے کہ فیڈرل ریزرو فوری طور پر شرح سود میں کمی نہ کرے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکی مانیٹری پالیسی نسبتاً سخت رہ سکتی ہے۔
سرمایہ کار خاص طور پر ملازمتوں کے ڈیٹا کی تفصیلات پر نظر رکھیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کس شعبے میں نوکریوں کا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں زیادہ ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔
ڈالر کی مضبوطی کے عوامل
حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر کو دو بڑی وجوہات سے تقویت ملی ہے:
عالمی کشیدگی کے دوران محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کی طلب
شرح سود کے حوالے سے توقعات میں تبدیلی
اگر امریکی ملازمتوں کا ڈیٹا مضبوط آیا تو ڈالر انڈیکس میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



