South Korea Chuseok – Thanksgiving Day

چوسوک (Chuseok) جنوبی کوریا کا سب سے اہم اور روایتی تہوار ہے جسے عموماً یومِ تشکر یا Harvest Festival کہا جاتا ہے۔ یہ تہوار قمری کیلنڈر کے مطابق آٹھویں مہینے کی پندرھویں تاریخ کو منایا جاتا ہے، جب چاند مکمل ہوتا ہے۔ چوسوک عام طور پر تین دن تک جاری رہتا ہے اور اس دوران پورا ملک جشن اور روایات میں ڈوبا ہوتا ہے۔
Chuseok تاریخی پس منظر
Chuseok چوسوک کی جڑیں قدیم کورین زرعی معاشرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ تہوار فصلوں کی کٹائی مکمل ہونے پر منایا جاتا تھا تاکہ اچھی پیداوار پر شکر ادا کیا جا سکے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ دن نہ صرف فصل بلکہ آباؤ اجداد کی یاد اور احترام کا بھی دن بن گیا۔
خاندانی اجتماع اور روایات
چوسوک کے موقع پر لوگ اپنے آبائی شہروں اور دیہاتوں کا رخ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں سفر غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے۔ خاندان کے افراد اکٹھے ہو کر چاریے (Charye) نامی رسم ادا کرتے ہیں، جس میں آباؤ اجداد کی قبروں پر حاضری، دعائیں اور روایتی کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ اسے سونگمیو (Seongmyo) بھی کہا جاتا ہے۔
روایتی کھانے
چوسوک کا ذکر سونگ پیون (Songpyeon) کے بغیر ادھورا ہے۔ یہ چاول سے بنی آدھے چاند کی شکل کی مٹھائی ہوتی ہے جس میں تل، پھلیاں یا شہد بھرا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو شخص خوبصورت سونگ پیون بناتا ہے، اس کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تازہ پھل، چاول، مچھلی اور مختلف روایتی پکوان بھی تیار کیے جاتے ہیں۔
ثقافتی سرگرمیاں
چوسوک کے دوران مختلف روایتی کھیل اور ثقافتی سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں، جیسے:
سسیرم (Ssireum) – روایتی کورین کشتی
گنگ گانگ سُلیے (Ganggangsullae) – خواتین کا روایتی دائرہ نما رقص
لوک موسیقی اور روایتی لباس ہان بوک (Hanbok) کا استعمال
جدید دور میں چوسوک
اگرچہ جنوبی کوریا جدید ٹیکنالوجی اور شہری زندگی میں بہت آگے بڑھ چکا ہے، مگر چوسوک آج بھی خاندانی اقدار، شکرگزاری اور روایت کی علامت ہے۔ حکومت اس موقع پر سرکاری تعطیلات دیتی ہے، جبکہ کمپنیاں اور ادارے ملازمین کو خصوصی تحائف بھی دیتے ہیں۔
نتیجہ
چوسوک صرف ایک تہوار نہیں بلکہ شکرگزاری، خاندان اور ثقافت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ دن جنوبی کوریا کی شناخت، روایات اور سماجی ہم آہنگی کو اجاگر کرتا ہے، اور نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



