Stablecoins کا عروج اور CBDCs کی پسپائی، ایشیائی مارکیٹس کا نیا رجحان.

Hong Kong’s FinTech Week marks a global financial turning point — shifting from Central Bank Digital Currencies to market-driven Stablecoins

ایشیا میں رواں ہفتے منعقد ہونے والی Hong Kong FinTech Week نے عالمی مالیاتی منظرنامے میں ایک تاریخی موڑ کا اعلان کیا۔ وہ وقت گزر چکا جب CBDCs (Central Bank Digital Currencies) کو مستقبل کی واحد امید سمجھا جاتا تھا۔ اب منظر بدل چکا ہے. سرمایہ کاروں اور ماہرین کی توجہ Stablecoins کی جانب منتقل ہو رہی ہے. جہاں مارکیٹ کا رحجان ریاستی مداخلت سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتا ہے۔

یہ بلاگ پوسٹ آپ کو بتائے گی کہ یہ تبدیلی کیوں ہو رہی ہے. اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں، اور فنانشل مارکیٹس میں طویل مدتی سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کے لیے اس کے کیا معنی ہیں۔

خلاصہ (Key Takeaways)

  • توجہ میں تبدیلی: ہانگ کانگ فِنٹیک ویک میں CBDCs کے بجائے سٹیبل کوائنز (Stablecoins) اور ٹوکنائزڈ ڈپازٹس (Tokenized Deposits) مرکزی موضوع رہے۔ یہ ڈیجیٹل پیسے کی عالمی کہانی میں ایک اہم موڑ ہے۔

  • CBDC کی رفتار میں کمی: برازیل کے CBDC، "ڈریکس” (Drex)، کو روکنا اس بات کی واضح مثال ہے. کہ مرکزی بینکوں کے ڈیجیٹل کرنسی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔ دنیا بھر میں صرف تین چھوٹے ممالک نے CBDC لانچ کیے ہیں۔

  • نجی شعبے کا عروج: سٹیبل کوائنز، جو نجی شعبے کے ذریعے جاری کی جاتی ہیں. زیادہ لچکدار (Flexible) اور تیز رفتاری سے کام کر رہی ہیں. جبکہ مرکزی بینک ڈیزائن اور قانون سازی کے مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

  • Libra کا اثر: CBDCs کا ابتدائی جنم نوآوری (Innovation) کے بجائے ایک دفاعی قدم تھا. جو فیس بک کے "لائبرا” (Libra) منصوبے کے عالمی ادائیگیوں (Payment Rails) پر کنٹرول حاصل کرنے کے خوف سے پیدا ہوا۔

CBDCs بمقابلہ سٹیبل کوائنز: اصل فرق کیا ہے؟

اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان دو ڈیجیٹل کرنسیوں کے بنیادی فرق کو سمجھا جائے:

خاصیت (Feature) CBDC (مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی) سٹیبل کوائنز (Stablecoins)
جاری کرنے والا (Issuer) ملک کا مرکزی بینک (Central Bank) نجی کمپنیاں (Private Companies)
پشت پناہی (Backing) حکومتی اعتبار اور مرکزی بینک کے ذخائر (Sovereign Guarantee) عموماً امریکی ڈالر یا دیگر اثاثہ جات (USD/Asset Backed)
مقصد (Primary Goal) مالیاتی استحکام، مالیاتی پالیسی کا نفاذ (Monetary Policy) مارکیٹ کی کارکردگی، بلاک چین پر آسانی سے ٹریڈنگ (Efficiency & Trading)
حالیہ رجحان (Current Momentum) سست روی، پائلٹ پراجیکٹس میں رکاوٹیں (Slow, Bureaucratic) تیزی سے ترقی، عملی استعمال میں اضافہ (Rapid Growth, Real-World Use)

ڈیجیٹل پیسے کی بحث CBDC سے سٹیبل کوائنز کی طرف کیوں پلٹی؟

یہ تبدیلی اس لیے ہوئی کیونکہ CBDCs نوآوری کے بجائے زیادہ تر ایک دفاعی ردعمل تھے (فیس بک کے لائبرا کے خوف سے). جس کے نتیجے میں وہ بیوروکریٹک سست روی کا شکار ہو گئے۔

اس کے برعکس، Stablecoins مارکیٹ سے چلنے والی، زیادہ لچکدار اور عملی طور پر تیزی سے مقبول ہوئیں۔ ہانگ کانگ فِنٹیک ویک نے اس بات کو اجاگر کیا. کہ نجی شعبہ ادائیگیوں کا وہ انفراسٹرکچر بنا چکا ہے جس کے لیے CBDCs کو ڈیزائن کیا گیا تھا۔

برازیل کا ‘ڈریکس’ وقفہ: عالمی سست روی کا اشارہ

CBDCs کی رفتار میں کمی کا سب سے واضح ثبوت برازیل کے پراجیکٹ ‘ڈریکس’ (Drex) کو روکنے کا فیصلہ ہے۔ برازیل کو ایک عرصے سے مالیاتی نوآوری (Financial Innovation) میں سب سے آگے مانا جاتا تھا. اس لیے ان کا اس منصوبے کو عارضی طور پر روکنا ایک اہم پیش رفت ہے۔

CBDC کی رفتار سست کیوں ہوئی؟

  1. واضح مقصد کی کمی (Lack of Clear Purpose): بہت سے مرکزی بینک یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے. کہ خوردہ CBDC (Retail CBDC) عوام کو کیا فائدہ پہنچائے گا. جو موجودہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں پہلے سے موجود نہیں ہے۔

  2. نجی شعبے کی تیز رفتار ترقی: سٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزڈ ڈپازٹس جیسی نجی حل پہلے ہی زیادہ تر ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کر رہے ہیں۔ بینکنگ کے شعبے میں اب بحث ریاستی ڈیجیٹل کیش کے بجائے ہانگ کانگ ڈالر (HKD) کے پشت پناہ سٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزڈ ڈپازٹس (Tokenized Deposits) پر مرکوز ہے۔

  3. قانونی اور تکنیکی رکاوٹیں: CBDCs کے نفاذ میں پرائیویسی، مالیاتی استحکام (Financial Stability) ، اور ٹیکنالوجی کی انٹرآپریبلٹی (Interoperability) جیسے پیچیدہ مسائل درپیش ہیں جن پر مرکزی بینکوں کو کوئی واضح اتفاق رائے حاصل نہیں۔

ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر، میں نے مارکیٹوں میں ہمیشہ یہ دیکھا ہے. کہ جب Innovation کا مقابلہ بیوروکریسی سے ہوتا ہے تو جیت ہمیشہ اس حل کی ہوتی ہے. جو سب سے زیادہ مارکیٹ فرینڈلی ہو۔ CBDC کے برعکس، سٹیبل کوائنز، لیکویڈیٹی (Liquidity) فراہم کرتی ہیں. اور ٹریڈنگ میں آسانی پیدا کرتی ہیں. اس لیے کرپٹو مارکیٹ کے کھلاڑیوں نے انہیں فوراً اپنا لیا۔

یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ مارکیٹ کو صرف ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ فوری، قابل اعتماد اور کم لاگت والی لین دین (Transaction) کی سہولت چاہیے۔

Stablecoins کا عملی کردار اور مستقبل کی سمت.

Stablecoins کیوں جیت رہی ہیں؟ سٹیبل کوائنز نے کرپٹو مارکیٹوں کو ایک ایسا پل فراہم کیا ہے. جو غیر مستحکم (volatile) ڈیجیٹل اثاثوں کو روایتی، مستحکم فیاٹ کرنسی (Fiat Currency) سے جوڑتا ہے۔ وہ فوری طور پر لین دین، سرحد پار ادائیگیوں (Cross-border Payments) ، اور نقد رقم کو بلاک چین پر مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے بہترین ہیں۔

ڈیجیٹل پیسے کا مستقبل کون بنا رہا ہے؟

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے سی ای او بل ونٹرز (Bill Winters) نے فِنٹیک ویک میں کہا. "تقریباً تمام لین دین بالآخر بلاک چینز پر طے ہوں گے، اور تمام پیسہ ڈیجیٹل ہو گا (Pretty much all transactions will settle on Blockchains Eventually, and all money will be digital)۔”

یہ بیان واضح کرتا ہے کہ مرکزی بینکوں کے ڈیزائن پیپرز پر بحث کرنے کے دوران، نجی شعبہ پہلے ہی عملی حل تیار کر رہا ہے:

  • بینکوں کی شمولیت: بڑے مالیاتی ادارے اب ‘ٹوکنائزڈ ڈپازٹس’ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، جو بنیادی طور پر بینک کی ذمہ داریوں (liabilities) کو بلاک چین پر پیش کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

  • ریگولیٹرز کا جواب: ہانگ کانگ اور دیگر اہم مالیاتی مراکز سٹیبل کوائنز کے لیے ریگولیٹری فریم ورک (Regulatory Framework) بنانے میں تیزی لا رہے ہیں، جو ان کی مرکزی دھارے میں آنے کی علامت ہے۔

نتیجے کا خلاصہ اور آگے کا لائحہ عمل

Stablecoins vs CBDCs momentum shift ہمیں ایک سبق سکھاتا ہے: مالیاتی مارکیٹوں میں، رفتار اور مارکیٹ کی ضروریات کا جواب دینے کی صلاحیت بیوروکریسی سے زیادہ اہم ہے۔ CBDCs کا ارتقاء ایک سست، حکومت سے چلنے والا عمل ہے، جبکہ سٹیبل کوائنز ایک تیز، مارکیٹ سے چلنے والی تبدیلی ہیں۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں مارکیٹ کے شرکاء (Market Participants) کو سٹیبل کوائنز پر مبنی مالیاتی حل پر گہری نظر رکھنی چاہیے. کیونکہ یہ کرپٹو اور روایتی فنانس کے درمیان مستقبل کے پل بنیں گے۔ نجی شعبے کی یہ قیادت، عالمی ادائیگیوں کے نظام کی بنیاد کو از سر نو تشکیل دے رہی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ مرکزی بینک اپنی رفتار تیز کر سکیں گے. یا سٹیبل کوائنز ہی ڈیجیٹل پیسے کے میدان میں غالب رہیں گی؟ ذیل میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button