چمن کے تاجروں کا معاشی بحران: Pak Afghan Trade کی بندش اور مستقبل کے خدشات
Traders Warn of Mounting Losses as Cross-Border Trade Remains Uncertain
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی گزرگاہ، چمن بارڈر کی بار بار بندش نے جہاں مقامی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے، وہاں بین الاقوامی تجارت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز (Stakeholders) کے لیے بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور چمن چیمبر آف کامرس (CCCI) کے درمیان ہونے والی ملاقات اس سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہے. جہاں Pak Afghan Trade کی بحالی اب محض ایک مطالبہ نہیں. بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے تاجروں کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا. کہ Ministry of Commerce قانونی تجارت کے فروغ اور سہولت کاری کے لیے مکمل تعاون کرے گی. تاہم انہوں نے واضح کیا کہ Pak–Afghan Border کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ صرف وزارت تجارت کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ قومی سلامتی اور وسیع تر حکومتی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔
اہم نکات
-
معاشی نقصان: سرحد کی مسلسل بندش سے چمن کے تاجروں کو اربوں روپے کا مالی نقصان (Financial Loss) اٹھانا پڑ رہا ہے۔
-
سپلائی چین میں رکاوٹ: خراب ہونے والی اشیاء (Perishable Goods) خصوصاً پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
-
حکومتی موقف: وزارت تجارت نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے. تاہم حتمی فیصلہ قومی سلامتی (National Security) کے تناظر میں اجتماعی طور پر کیا جائے گا۔
-
بے روزگاری کا خدشہ: سرحد پر انحصار کرنے والی مقامی آبادی میں بے روزگاری کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
Pak Afghan Trade کی بندش سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات کیا ہیں؟
پاک افغان سرحد (Pak-Afghan border) کی بندش کا براہ راست اثر دوطرفہ تجارت کے حجم پر پڑتا ہے۔ جب سرحد بند ہوتی ہے. تو سپلائی چین (supply chain) مکمل طور پر ٹوٹ جاتی ہے. جس سے نہ صرف تاجروں کا سرمایہ پھنس جاتا ہے. بلکہ مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
ایک طویل تجربے کی بنیاد پر میں نے دیکھا ہے. کہ جب بھی تجارتی راستے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں. تو سمارٹ کیپیٹل (Smart capital) اس خطے سے نکلنا شروع کر دیتا ہے. جس سے طویل مدتی سرمایہ کاری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے.
تاجر برادری کے بڑے تحفظات
چمن کے تاجروں نے وفاقی وزیر کے سامنے درج ذیل بنیادی مسائل رکھے ہیں.
-
مالیاتی خسارہ: مال بردار ٹرکوں کے کھڑے رہنے سے ڈیمریج (Demurrage) چارجز اور سامان کی کوالٹی خراب ہونے سے بھاری نقصان۔
-
روزگار کا خاتمہ: چمن کی مقامی معیشت کا 90 فیصد سے زائد دارومدار سرحد پار تجارت پر ہے۔
-
شفافیت کی کمی: بارڈر مینجمنٹ (Border Management) کے اصولوں میں تسلسل نہ ہونا تاجروں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
وزارت تجارت کا کردار اور حکومتی حکمت عملی
وفاقی وزیر جام کمال خان نے واضح کیا ہے کہ Pak Afghan Trade کو کم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ تاہم، انہوں نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ سرحد کھولنے کا فیصلہ تنہا وزارت تجارت نہیں بلکہ وفاقی حکومت مشترکہ طور پر کرتی ہے۔
میٹنگ میں خاص طور پر اس پہلو پر زور دیا گیا. کہ تازہ پھل، سبزیاں اور دیگر Perishable Goods Export کی بندش سے براہِ راست مالی نقصان ہو رہا ہے. کیونکہ تاخیر کی صورت میں یہ اشیاء مارکیٹ ویلیو کھو دیتی ہیں. جس سے نہ صرف تاجر بلکہ ٹرانسپورٹ اور لیبر سے وابستہ طبقہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
کیا مستقبل میں پائیدار حل ممکن ہے؟
حکومت اب ایسے حل تلاش کر رہی ہے. جو سیکیورٹی (Security) اور تجارت (Trade) کے درمیان توازن برقرار رکھ سکیں۔ اس کے لیے.
-
باہمی فورمز پر مذاکرات۔
-
بارڈر مینجمنٹ کو ڈیجیٹل اور شفاف بنانا۔
-
نقصانات کے درست تخمینے کے لیے ڈیٹا کا حصول۔
وزارت تجارت نے چمن چیمبر سے نقصانات کے تفصیلی اعداد و شمار (Statistics) طلب کیے ہیں تاکہ مستقبل کی پالیسی سازی میں ان کو مدنظر رکھا جا سکے۔
سرحد کی بندش کے وسیع تر اثرات
ایک فنانشل مارکیٹ اسٹریٹجسٹ کے طور پر، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا. کہ چمن بارڈر محض ایک راستہ نہیں. بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کا گیٹ وے ہے۔ جب یہاں تجارت رکتی ہے. تو اس کا اثر پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس (Current Account Balance) اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی پڑتا ہے۔
مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہے. کہ سیاسی تناؤ کی وجہ سے جب تجارتی راستے بند ہوتے ہیں. تو افراط زر (Inflation) میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ متبادل راستے مہنگے پڑتے ہیں۔
مستقبل کی سمت
چمن کے تاجروں اور حکومت کے درمیان حالیہ رابطہ ایک مثبت قدم ہے. لیکن اس کے نتائج کا دارومدار عملی اقدامات پر ہے۔ سرحد کی بندش صرف مقامی نہیں. بلکہ ایک قومی معاشی مسئلہ ہے جس کے لیے "پریڈیکٹبلٹی” (predictability) یعنی تجارت میں تسلسل اور پیش گوئی کا ہونا لازمی ہے۔
اگر حکومت سیکیورٹی خدشات کو دور کرتے ہوئے قانونی تجارت (lawful trade) کو تحفظ فراہم کرتی ہے. تو نہ صرف چمن بلکہ پورے ملک کی معیشت مستحکم ہوگی۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا سرحد پر سیکیورٹی اور تجارت کو ساتھ ساتھ چلایا جا سکتا ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



