Moody’s Banking Sector Outlook میں استحکام، GDP Growth کی نئی امید اور مالیاتی نظام کی بحالی کی داستان

Moody’s Projects Stronger GDP Growth and Stable Banking Performance Amid Controlled Inflation Trends

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، جہاں عالمی ریٹنگ ایجنسی Moody’s نے پاکستانی بینکنگ سیکٹر کے حوالے سے اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں Moody’s Banking Sector Outlook کو ‘پازیٹو’ (Positive) سے بدل کر ‘اسٹیبل’ (Stable) کر دیا گیا ہے۔

یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے. جب ملک بتدریج معاشی بحالی (Economic Recovery) کی طرف بڑھ رہا ہے. اور مالیاتی خسارے میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس تفصیلی بلاگ پوسٹ میں ہم جائزہ لیں گے. کہ Moody’s Banking Sector Outlook کے پاکستانی سرمایہ کاروں، بینکرز اور عام آدمی کے لیے کیا معنی ہیں. اور 2026 تک پاکستان کی معیشت کا رخ کیا رہنے والا ہے۔

خلاصہ

  • Moody’s نے پاکستانی Banking Sector Outlook ‘اسٹیبل’ کر دیا ہے. جو کہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی حالات اور مالیاتی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔

  • سال 2026 کے لیے پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی (Real GDP) گروتھ کا تخمینہ 3.5% لگایا گیا ہے. جو 2025 کے 3.1% سے بہتر ہے۔

  • مہنگائی (Inflation) جو 2024 میں 23% تھی، 2025 میں کم ہو کر 4.5% تک آنے کی توقع ہے. تاہم 2026 میں یہ دوبارہ 7.5% تک جا سکتی ہے۔

  • شرح سود (Interest Rates) میں کمی سے قرضوں کی طلب (Credit Demand) بڑھے گی. جس سے بینکوں کے منافع میں استحکام آئے گا۔

موڈیز نے پاکستان کا Banking Sector Outlook ‘اسٹیبل’ کیوں کیا؟

Moody’s کی جانب سے ‘اسٹیبل’ Banking Sector Outlook کا مطلب یہ ہے کہ اگلے 12 سے 18 مہینوں کے دوران بینکنگ سیکٹر کی کارکردگی میں کوئی بڑا خطرہ یا غیر معمولی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔ ایجنسی کے مطابق، پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی پوزیشن (External Position) مضبوط ہو رہی ہے. اور حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں معاشی اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

Moody’s نے Banking Sector Outlook کو ‘اسٹیبل’ قرار دیا ہے. کیونکہ ملک کی معاشی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے. اور مالیاتی خسارہ کنٹرول میں آ رہا ہے۔ اگرچہ بینکوں کو اب بھی اثاثوں کی کوالٹی (Asset Quality) اور منافع بخش چیلنجز کا سامنا ہے. لیکن مجموعی طور پر سسٹم مستحکم ہے۔ حکومت کے ساتھ بینکوں کے گہرے مالیاتی تعلقات اور سرکاری سیکیورٹیز میں بھاری سرمایہ کاری نے اس آؤٹ لک کو حکومتی ریٹنگ (Caa1 Stable) کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔

مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو قریب سے دیکھنے والے ماہرین جانتے ہیں. کہ جب بھی کوئی ریٹنگ ایجنسی ‘اسٹیبل’ کا لفظ استعمال کرتی ہے. تو اس کا مقصد سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے. کہ ‘اب سانس لینے کا وقت ہے’۔ ماضی میں جب ہم نے 2008 یا حالیہ ڈیفالٹ کے خطرات دیکھے.  تو بینکنگ سیکٹر سب سے زیادہ دباؤ میں تھا۔ موجودہ استحکام ظاہر کرتا ہے. کہ بینکوں نے اپنے کیپیٹل بفرز (Capital Buffers) کو مضبوط کر لیا ہے۔

پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ اور معاشی اصلاحات (GDP Growth & Reforms)

Moody’s کی پیش گوئی کے مطابق، پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار 2026 میں 3.5% تک پہنچ جائے گی۔ یہ ترقی گزشتہ سالوں کے مقابلے میں ایک خوش آئند علامت ہے۔

معاشی ترقی کے محرکات:

  1. حکومتی اصلاحات: آئی ایم ایف (IMF) اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کی جانے والی اصلاحات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔

  2. صنعتی اور سروسز سیکٹر: زرعی شعبہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے. لیکن انڈسٹریل اور سروسز سیکٹر میں بہتری کی امید ہے۔

  3. شرح سود میں کمی: جب سود کی شرح نیچے آتی ہے. تو کاروباروں کے لیے قرض لینا سستا ہو جاتا ہے. جس سے براہ راست معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

افراط زر کا رجحان: 4.5% سے دوبارہ 7.5% کی طرف؟

ایک دلچسپ پہلو جو موڈیز نے اجاگر کیا ہے وہ افراط زر (Inflation) کا اتار چڑھاؤ ہے۔ 2024 میں 23% کی بلند ترین سطح کے بعد، 2025 میں اس کے 4.5% تک گرنے کی توقع ہے۔ لیکن، ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں یہ دوبارہ 7.5% تک جا سکتی ہے۔

اس کی بڑی وجہ ‘بیس ایفیکٹ’ (Base Effect) ہے۔ جب پچھلے سال کی قیمتیں بہت کم ہوں. تو معمولی اضافہ بھی فیصد کے لحاظ سے زیادہ نظر آتا ہے۔ تاہم، 7.5% کی شرح بھی ماضی کے 23% کے مقابلے میں بہت بہتر ہے. اور اس سے مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کو نرم رکھنے میں مدد ملے گی۔

بینکوں کی منافع بخش اور اثاثوں کی کوالٹی (Profitability & Asset Quality)

پاکستانی بینکوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان کے ‘نان پرفارمنگ لونز’ (Non-Performing Loans – NPLs) ہیں۔ Moody’s کا اندازہ ہے کہ یہ تناسب (Stage 3 loans) تقریباً 8% پر برقرار رہے گا۔

بینکوں کے منافع پر اثرات:

  • مارجن میں کمی (Margin Compression): شرح سود کم ہونے سے بینکوں کا خالص منافع (Spread) تھوڑا کم ہو سکتا ہے۔

  • بزنس والیم میں اضافہ: کم سود کی وجہ سے جب زیادہ لوگ قرض لیں گے. تو بینکوں کا کاروبار بڑھے گا. جو مارجن کی کمی کو پورا کر دے گا۔

  • سرکاری بانڈز: پاکستانی بینک اپنے اثاثوں کا تقریباً آدھا حصہ حکومتی سیکیورٹیز میں رکھتے ہیں۔ چونکہ ان پر ‘رسک ویٹیج’ (Risk-weighting) صفر ہوتی ہے. اس لیے بینکوں کا کیپیٹل ریشو (Capital Ratio) مضبوط رہتا ہے۔
انڈیکیٹر (Indicator) 2024/25 کی صورتحال 2026 کی پیش گوئی
جی ڈی پی گروتھ (GDP Growth) 3.1% 3.5%
مہنگائی (Inflation) 4.5% (2025) 7.5%
کیپیٹل ریشو (Tier 1 Capital) 18% مستحکم رہنے کی توقع
نان پرفارمنگ لونز (NPLs) 8% 8% (اسٹیبل)

ایڈوانسز ٹو ڈپازٹ ریشو (ADR) ٹیکس کا اثر

2025 کے آغاز میں بینکوں کے لون بک (Loan Book) میں کمی دیکھی گئی تھی. جس کی وجہ ADR Tax کا خاتمہ تھا۔ اس وقت بینکوں کے قرضے ان کے کل اثاثوں کا صرف 23% ہیں۔ تاہم، 2026 میں موڈیز ‘ڈبل ڈیجٹ’ (Double-digit) کریڈٹ گروتھ کی توقع کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بینک اب حکومت کو قرض دینے کے بجائے نجی شعبے (Private Sector) کو قرض دینے پر زیادہ توجہ دیں گے۔

فنانشل مارکیٹس میں 10 سالہ تجربے کے دوران میں نے دیکھا ہے. کہ جب بینک نجی شعبے کو قرض دینا شروع کرتے ہیں. تو یہ حقیقی معاشی پہیہ چلنے کی علامت ہوتی ہے۔ صرف حکومت کو قرض دے کر بینک محفوظ تو رہ سکتے ہیں لیکن ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ 2026 میں متوقع ‘ڈبل ڈیجٹ گروتھ’ اسٹاک مارکیٹ میں بینکنگ شیئرز کے لیے ایک بہت بڑا ‘بُلش سگنل’ (Bullish Signal) ہو سکتا ہے۔

کیا پاکستانی بینک محفوظ ہیں؟ (Capital Adequacy)

سرمایہ کاروں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان کا پیسہ بینکوں میں محفوظ ہے؟ موڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2025 تک سسٹم کا Tier 1 Capital Ratio 18% تھا، جو ریگولیٹری حد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی بینک کسی بھی مالیاتی جھٹکے کو سہنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

بینکوں کے پاس موجود اضافی سرمایہ (Retained Earnings) ان کے بیلنس شیٹ کو بڑھانے اور ڈیویڈنڈ (Dividend) کی ادائیگی جاری رکھنے کے لیے کافی ہوگا۔

مستقبل کا منظرنامہ اور چیلنجز

اگرچہ Banking Sector Outlook مثبت نظر آ رہی ہے. لیکن Moody’s نے کچھ خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے:

  1. قرضوں کی پائیداری (Debt Sustainability): پاکستان کی مالیاتی پوزیشن اب بھی کمزور ہے. اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی ایک بڑا چیلنج ہے۔

  2. کمزور شعبے: زراعت اور توانائی (Energy Sector) جیسے شعبوں میں قرضوں کی واپسی میں تاخیر (Delinquencies) کا خطرہ برقرار رہے گا۔

  3. عالمی حالات: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں یا سیاسی عدم استحکام ان تمام پیش گوئیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

اختتامیہ.

Moody’s کی جانب سے پاکستان کی Banking Sector Outlook ‘اسٹیبل’ قرار دیا جانا ایک خوش آئند پیغام ہے. کہ پاکستان کی معیشت اب طوفانی دور سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ 2026 میں 3.5% جی ڈی پی گروتھ اور بینکوں کی بہتر ہوتی ہوئی کریڈٹ گروتھ اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی نظام میں جان باقی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ بینکنگ سیکٹر کے ان بینکوں پر نظر رکھیں جن کا ایکسپوژر (Exposure) نجی شعبے میں بڑھ رہا ہے اور جن کے کیپیٹل بفرز مضبوط ہیں۔ معاشی بحالی کا سفر شاید سست ہو، لیکن یہ درست سمت میں گامزن ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ 2026 میں شرح سود میں مزید کمی سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا یا مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button