پاکستان کا Current Account نومبر 2025 میں 100 ملین ڈالر سرپلس: معاشی بہتری یا عارضی ریلیف؟
November 2025 data reveal a fragile but meaningful surplus driven by controlled imports and resilient remittances
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر عالمی مالیاتی اسٹیج پر ایک محتاط مگر حوصلہ افزا سانس لیتی دکھائی دیتی ہے. جہاں نومبر 2025 میں Current Account $100 ملین کے سرپلس کے ساتھ بند ہوا. ایک ایسا موڑ جو اکتوبر کے $291 ملین خسارے کے بعد آیا. اور اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ مالی نظم و ضبط آہستہ آہستہ اثر دکھانا شروع ہو چکا ہے۔
State Bank of Pakistan کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ سرپلس کسی غیر معمولی برآمدی بوم کا نتیجہ نہیں. بلکہ ایک خاموش مگر مؤثر درآمدی سکڑاؤ کی کہانی ہے. جس نے بیرونی کھاتوں کو وقتی سہارا فراہم کیا۔
اہم نکات (Key Points)
-
مثبت تبدیلی: اکتوبر کے 291 ملین ڈالر خسارے کے بعد نومبر میں 100 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔
-
بنیادی وجہ: درآمدات (Imports) میں 12% کی نمایاں کمی اور عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں گراوٹ نے اس سرپلس میں کلیدی کردار ادا کیا۔
-
ترسیلاتِ زر (Remittances): اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقم 3.19 ارب ڈالر رہی. جو خسارے کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوئی۔
-
زرمبادلہ کے ذخائر: پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) 14.68 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں. جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 21% زیادہ ہیں۔
Current Account سرپلس کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
Current Account سرپلس کا مطلب ہے کہ ملک میں آنے والا غیر ملکی سرمایہ (درآمدات، ترسیلاتِ زر وغیرہ کے ذریعے) باہر جانے والے سرمایے سے زیادہ ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں ڈالر کی کمی اکثر معاشی بحران کا سبب بنتی ہے. کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس میں ہونا روپے کی قدر کو مستحکم کرنے اور افراط زر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔
نومبر 2025 میں Current Account سرپلس کی اصل وجہ کیا تھی؟
ماہرین کے مطابق، اس بہتری کی سب سے بڑی وجہ امپورٹ کمپریشن (Import Compression) یعنی درآمدات میں دانستہ یا قدرتی کمی ہے۔ نومبر میں درآمدی بل 5.68 ارب ڈالر رہا. جو اکتوبر کے مقابلے میں 12 فیصد کم ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور دیگر اجناس (Commodities) کی قیمتوں میں کمی نے بھی حکومت کو ریلیف فراہم کیا۔

اپنی 10 سالہ ٹریڈنگ جرنی میں میں نے دیکھا ہے. کہ جب بھی پاکستان کی امپورٹس میں 10% سے زیادہ کی اچانک کمی آتی ہے. تو مارکیٹ اسے ‘مجبوری کی بچت’ کے طور پر دیکھتی ہے۔ اگرچہ یہ عارضی طور پر کرنسی کو سہارا دیتا ہے. لیکن صنعتی پیداوار (Industrial Output) میں کمی کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے. جسے ایک منجھے ہوئے ٹریڈر کو ہمیشہ نظر میں رکھنا چاہیے۔
کیا برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں کمی تشویشناک ہے؟
Current Account کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نومبر میں پاکستان کی برآمدات (Exports) 3.09 ارب ڈالر رہیں. جس میں ماہانہ بنیادوں پر 10 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح، سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر (Remittances) بھی 7 فیصد کمی کے ساتھ 3.19 ارب ڈالر رہیں۔
اگرچہ یہ دونوں عوامل منفی سمت میں گئے. لیکن درآمدات میں ہونے والی 12 فیصد کی بڑی کمی نے ان اثرات کو زائل کر دیا اور مجموعی توازن کو سرپلس میں بدل دیا۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی موجودہ صورتحال
Current Account Report کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 14.68 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ ذخائر کسی بھی بیرونی جھٹکے (External Shocks) کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال (Buffer) کا کام کرتے ہیں۔
مالی سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ (5MFY26) کا موازنہ
اگر ہم طویل مدتی تصویر دیکھیں. تو جولائی سے نومبر (5MFY26) تک مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ 812 ملین ڈالر کے خسارے میں ہے۔ پچھلے سال اسی مدت میں ہم 503 ملین ڈالر کے سرپلس میں تھے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ معیشت پر اب بھی ساختی دباؤ (Structural Pressures) موجود ہیں. اور ہمیں صرف ایک ماہ کے Current Account Surplus پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
جے ایس گلوبل کے ریسرچ ہیڈ وقاص غنی کے مطابق، امپورٹس میں کمی اور عالمی قیمتوں میں استحکام نے سرپلس پیدا کرنے میں مدد دی. جس نے کمزور برآمدات کے اثر کو ختم کر دیا۔
مستقبل کا منظرنامہ
نومبر کا Current Account Surplus پاکستانی معیشت کے لیے آکسیجن کی مانند ہے، لیکن چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔ برآمدات میں کمی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر طویل مدتی پالیسی کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں عالمی اجناس کی قیمتوں اور آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر نظر رکھیں، کیونکہ یہ عوامل روپے کی قیمت اور اسٹاک مارکیٹ کی سمت متعین کریں گے۔
آپ کے خیال میں کیا پاکستان اس Current Account Surplus کو اگلے چند ماہ تک برقرار رکھ پائے گا؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



