پاکستان میں Inflation کی لہر: فروری 2026 میں افراطِ زر 7.4 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی
Rising CPI signals a base-effect inflation comeback as Ramadan demand and energy adjustments reshape Pakistan’s financial trajectory.
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ تازہ ترین معاشی رپورٹس اور ماہرین کے تجزیوں کے مطابق، فروری 2026 کے لیے Pakistan Inflation Forecast (پاکستان میں افراط زر کی پیش گوئی) کے اعداد و شمار تشویشناک اشارے دے رہے ہیں۔
آپٹیمس کیپیٹل مینجمنٹ (Optimus Capital Management) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، فروری میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) یعنی افراط زر کی شرح 7.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے. جو کہ گزشتہ 18 ماہ کی بلند ترین سطح ہوگی۔ یہ اضافہ صرف ایک عددی تبدیلی نہیں ہے. بلکہ اس کے پیچھے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، سونے کی عالمی قیمتوں میں تیزی، اور "بیس ایفیکٹ” (Base Effect) جیسے پیچیدہ معاشی عوامل کارفرما ہیں۔ اس بلاگ میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے. کہ فروری اور آنے والے مہینوں میں آپ کی جیب پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
خلاصہ
-
فروری 2026 میں پاکستان کی سالانہ مہنگائی (CPI Inflation) بڑھ کر 7.4% ہونے کی توقع ہے. جو جنوری میں 5.8% تھی۔
-
Inflation میں اس حالیہ اضافے کی بنیادی وجوہات بجلی کے ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ اور سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔
-
کور انفلیشن (Core Inflation) کے بھی بڑھ کر 7.9% ہونے کا امکان ہے. جو معیشت میں قیمتوں کے مستقل دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
-
ماہرین کے مطابق مارچ 2026 میں رمضان کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے. تاہم روپے کی استحکام (PKR Stability) ایک مثبت عنصر رہے گا۔
فروری 2026 میں Inflation کیوں بڑھ رہی ہے؟
فروری 2026 کے لیے مہنگائی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بجلی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اور سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہے۔ اس کے علاوہ، معاشی اصطلاح میں "بیس ایفیکٹ” (Base Effect) بھی اس سالانہ اضافے کو مہمیز دے رہا ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے. کہ اگرچہ خوراک کی قیمتوں میں معمولی کمی (0.4% MoM) متوقع ہے. لیکن توانائی کے شعبے میں ہونے والے مہنگے فیصلے اس ریلیف کو ختم کر دیں گے۔ خاص طور پر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) اور بجلی کے بنیادی ٹیرف میں تبدیلیاں عام آدمی کے ماہانہ بجٹ پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔
یہاں مجھے اپنے دس سالہ تجربے سے ایک بات یاد آتی ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل تناؤ بڑھتا ہے. تو پاکستان جیسی امپورٹ پر منحصر معیشت میں خام تیل اور سونے کی قیمتیں سب سے پہلے اثر دکھاتی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ٹریڈرز اکثر اس دوران ‘سیف ہیون’ (Safe Haven) اثاثوں کی طرف بھاگتے ہیں. جس سے مقامی مارکیٹ میں افراطِ زر کا دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
افراط زر کے کلیدی اعداد و شمار کا موازنہ
نیچے دیے گئے ٹیبل میں حالیہ مہینوں کے افراطِ زر کے رجحانات کا موازنہ کیا گیا ہے:
| انڈیکس (Index) | جنوری 2026 (Actual) | فروری 2026 (Forecast) | تبدیلی (Trend) |
| ہیڈ لائن انفلیشن (Headline CPI) | 5.8% | 7.4% | تیزی سے اضافہ |
| کور انفلیشن (Core Inflation) | 7.2% | 7.9% | بتدریج اضافہ |
| فوڈ انڈیکس (Food Index) | مستحکم | -0.4% (کمی) | معمولی ریلیف |
| بجلی اور ایندھن | مستحکم | اضافہ | دباؤ |
کور انفلیشن (Core Inflation) کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
Core Inflation سے مراد افراط زر کی وہ شرح ہے جس میں خوراک اور توانائی (بجلی، پیٹرول) کی قیمتیں شامل نہیں ہوتیں۔ یہ معیشت کی اصل حالت کو ظاہر کرتی ہے۔ فروری میں کور انفلیشن کا 7.9% تک پہنچنا اس بات کی علامت ہے. کہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان اب صرف موسمی نہیں رہا. بلکہ مستقل بنیادوں پر جڑیں پکڑ رہا ہے۔
جب کور انفلیشن بڑھتی ہے، تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے لیے سود کی شرح (Interest Rates) میں کمی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک اہم سگنل ہے. کہ شاید آنے والے وقت میں مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) سخت رکھی جائے۔
مستقبل کی پیش گوئی: جون 2026 تک کیا ہوگا؟
آپٹیمس کیپیٹل کی رپورٹ کے مطابق، مہنگائی کا یہ سفر فروری پر ختم نہیں ہوگا۔ توقع ہے کہ جون 2026 تک Inflation کی شرح 9% سے 10% کے درمیان پہنچ جائے گی۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں:
-
رمضان کا سیزن (Ramadan Seasonality): مارچ میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اشیائے خوردونوش کی طلب میں اضافہ قیمتوں کو اوپر لے جائے گا۔
-
خام تیل کی قیمتیں (Crude Oil Prices): عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل کشیدگی کی وجہ سے فروری اور مارچ میں تیل مہنگا ہونے کے خدشات موجود ہیں۔
-
بجلی کے اضافی چارجز: مثبت ایف سی اے (FCA) چارجز بجلی کے بلوں کو مزید بوجھل بنا دیں گے۔
سرمایہ کاروں اور عام عوام کے لیے مشورے
پاکستان میں بڑھتی ہوئی افراط زر کے اس دور میں اپنے مالیات کو محفوظ رکھنا ایک چیلنج ہے۔ ایک تجربہ کار مارکیٹ اسٹریٹیجسٹ کے طور پر، میں مندرجہ ذیل نکات پر غور کرنے کی سفارش کرتا ہوں.
-
سونے میں سرمایہ کاری: چونکہ Inflation اور سونے کا براہ راست تعلق ہے. اس لیے اپنے پورٹ فولیو کا کچھ حصہ سونے (Gold) میں رکھنا ایک اچھا ‘ہیج’ (Hedge) ثابت ہو سکتا ہے۔
-
بجٹ کی منصوبہ بندی: بجلی کے بلوں میں ممکنہ اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی کی بچت کے اقدامات کریں۔
-
اسٹاک مارکیٹ پر نظر: ان کمپنیز کے شیئرز پر توجہ دیں جن کے پاس "پرائسنگ پاور” (Pricing Power) ہے، یعنی جو خام مال مہنگا ہونے پر اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
حرف آخر.
فروری 2026 کی Inflation کی رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے. کہ پاکستان میں افراطِ زر کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک کا اوسط ہدف 5% سے 7% ہے، لیکن شارٹ ٹرم میں 7.4% کا ہندسہ مارکیٹ کے جذبات (Market Sentiment) کو متاثر کر سکتا ہے۔ روپے کا استحکام اب بھی ہماری سب سے بڑی ڈھال ہے، لیکن اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہوئیں تو دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک جون تک Inflation کو سنگل ڈیجٹ میں رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



