پاکستان میں ترسیلات زر کی صورتحال: جنوری 2026 کے اعداد و شمار اور معیشت پر اثرات
Record Remittances Growth Signals Stability for Pakistan’s Economy in FY26
پاکستان کی معیشت کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم یعنی ترسیلات زر Overseas Remittances ہمیشہ سے ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جنوری 2026 کے حالیہ اعداد و شمار نے مارکیٹ کے ماہرین اور سرمایہ کاروں کو ایک مثبت پیغام دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے مطابق، جنوری میں پاکستان کو 3.46 بلین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں. جو کہ ملک کے بیرونی کھاتوں (External Accounts) کے استحکام کے لیے ایک خوش آئند علامت ہے۔
خلاصہ.
-
جنوری 2026 کی کارکردگی: پاکستان کو جنوری میں 3.46 بلین ڈالر موصول ہوئے. جو سالانہ بنیادوں پر 15.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
-
مالی سال 26 کے پہلے 7 ماہ: جولائی سے جنوری تک مجموعی طور پر 23.2 بلین ڈالر Overseas Remittances کی آمد ہوئی. جو پچھلے سال کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے۔
-
نمایاں ممالک: سعودی عرب 740 ملین ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا. جبکہ یورپی یونین سے ہونے والے اضافے نے سب کو حیران کر دیا۔
-
مستقبل کا ہدف: ماہرین کا ماننا ہے. کہ مالی سال 2026 کے اختتام تک ترسیلات زر 41 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
جنوری 2026 میں Overseas Remittances کتنی رہیں؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق، جنوری 2026 میں سمندر پار پاکستانیوں نے 3.46 بلین ڈالر پاکستان بھیجے ہیں۔ اگر ہم اس کا موازنہ جنوری 2025 سے کریں. تو اس میں 15.4 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے. کیونکہ پچھلے سال اسی مہینے میں یہ رقم 3.0 بلین ڈالر تھی۔
تاہم، دسمبر 2025 کے مقابلے میں جنوری میں 4 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے (دسمبر میں یہ رقم 3.59 بلین ڈالر تھی)۔ ایک مالیاتی اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں اسے ‘سیزنل ایڈجسٹمنٹ’ (Seasonal Adjustment) قرار دوں گا. کیونکہ عام طور پر سال کے آخر میں ترسیلات میں غیر معمولی تیزی آتی ہے. جو جنوری میں تھوڑی مستحکم ہوتی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے 7 ماہ (7MFY26) کا جائزہ
موجودہ مالی سال کے پہلے سات مہینوں (جولائی تا جنوری) میں مجموعی ترسیلات زر 23.2 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی ہیں۔ پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 20.9 بلین ڈالر تھا، یعنی مجموعی طور پر 11.3 فیصد کی ترقی دیکھی گئی ہے۔ یہ مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے لیے زرمبادلہ (Foreign Exchange) کے ذخائر کو برقرار رکھنا اب پہلے سے زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔
Overseas Remittances میں اضافے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
اس اضافے کے پیچھے چند کلیدی عوامل (Key Factors) کارفرما ہیں. جنہیں سمجھنا ایک سرمایہ کار کے لیے ضروری ہے.
-
افرادی قوت کی برآمد (Manpower Export): پچھلے دو سالوں میں پاکستان سے ریکارڈ تعداد میں ہنرمند افراد بیرون ملک گئے ہیں. جس کا براہ راست اثر اب ڈالرز کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔
-
ایکسچینج ریٹ کا استحکام (Exchange Rate Stability): اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک ریٹ میں فرق کم ہونے کی وجہ سے لوگ غیر قانونی ذرائع (ہنڈی/حوالہ) کے بجائے قانونی بینکنگ چینلز کو ترجیح دے رہے ہیں۔
-
حکومتی مراعات (Incentives): پاکستان ریمیٹنس انیشیٹو (PRI) کے تحت بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو دی جانے والی سہولیات نے Overseas Remittances کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔
یہاں میں اپنے دس سالہ تجربے کی بنیاد پر ایک مشاہدہ شیئر کروں گا۔ میں نے دیکھا ہے. کہ جب بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہوتی ہیں. خلیجی ممالک (GCC) میں ترقیاتی کام بڑھ جاتے ہیں. جس سے پاکستانی لیبر کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے۔ جنوری کے ان اعداد و شمار میں خلیجی ممالک کا بڑا حصہ اسی معاشی تسلسل کا نتیجہ ہے۔
ملک وار بریک ڈاؤن: کہاں سے کتنا پیسہ آیا؟ (Country-wise Breakdown)
پاکستان کو ملنے والی Overseas Remittances کا بڑا حصہ روایتی طور پر چند بڑے خطوں سے آتا ہے۔ جنوری 2026 کی تفصیلات درج ذیل ہیں.
سعودی عرب بدستور پاکستان کا سب سے بڑا ریمیٹنس پارٹنر ہے، تاہم جنوری میں وہاں سے آنے والی رقم میں ماہانہ بنیاد پر 9 فیصد کی کمی آئی۔ دوسری طرف، یورپی یونین سے ہونے والا 36 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانیوں نے اب یورپ کی لیبر مارکیٹ میں بھی اپنی جگہ مضبوط کر لی ہے۔
پاکستان ریمیٹنس انیشیٹو (PRI) کا کردار (The Role of PRI)
پاکستان میں قانونی ذرائع سے رقم منگوانے کے لیے PRI کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ 2009 میں اس نیٹ ورک سے صرف 25 مالیاتی ادارے منسلک تھے. جو 2024 تک بڑھ کر 50 سے زائد ہو چکے ہیں۔ ان میں نہ صرف کمرشل بینک بلکہ اسلامک بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ایکسچینج کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اب الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (EMIs) کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بین الاقوامی شراکت داروں (International Partners) کی تعداد 45 سے بڑھ کر 400 تک پہنچ چکی ہے. جس نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے رقم بھیجنا اتنا ہی آسان بنا دیا ہے جتنا کہ ایک کلک۔
کیا مالی سال 2026 کا ہدف حاصل ہو پائے گا؟
مالیاتی تجزیہ کاروں نے مالی سال 2026 کے لیے Overseas Remittances کا ہدف 41 بلین ڈالر مقرر کیا ہے۔ اگر ہم موجودہ رفتار ($23.2bn in 7 months) کو دیکھیں. تو یہ ہدف نہ صرف حقیقت پسندانہ لگتا ہے بلکہ اس سے تجاوز کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان میں سیاسی استحکام برقرار رہتا ہے. اور آئی ایم ایف (IMF) کے پروگرام کے تحت اصلاحات جاری رہتی ہیں. تو سرمایہ کاروں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔
مارکیٹ میں ‘سینٹیمنٹ’ (Sentiment) سب کچھ ہوتا ہے.۔ جب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو لگتا ہے کہ ان کا پیسہ ملک کی معیشت کو سہارا دے رہا ہے اور ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے، تو وہ اپنی بچتیں پاکستان منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ 2026 کے آغاز میں ہمیں یہی مثبت سینٹیمنٹ نظر آ رہا ہے۔
Overseas Remittances کا عام آدمی پر اثر (Impact on Common Man)
یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں؛ یہ کروڑوں خاندانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
-
خاندانوں کی کفالت: لاکھوں گھرانے اپنی روزمرہ ضروریات اور تعلیم و صحت کے اخراجات کے لیے انھی ڈالرز پر انحصار کرتے ہیں۔
-
معاشی سرگرمی: جب یہ پیسہ مارکیٹ میں آتا ہے. تو اس سے کنزیومر ڈیمانڈ (Consumer Demand) بڑھتی ہے، جس سے مقامی کاروبار چمکتے ہیں۔
-
کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس: یہ رقوم پاکستان کے تجارتی خسارے (Trade Deficit) کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں. جس سے روپے کی قدر کو سہارا ملتا ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
جنوری 2026 کے ریمیٹنس ڈیٹا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ 3.46 بلین ڈالر کی ماہانہ آمد ایک بہت بڑا سنگ میل ہے۔ تاہم، حکومت اور اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ وہ ان ترسیلات کو صرف استعمال (Consumption) کے بجائے پیداواری شعبوں (Productive Sectors) جیسے کہ رئیل اسٹیٹ کے ریگولیٹڈ پروجیکٹس یا اسٹاک مارکیٹ کی طرف راغب کرنے کے لیے مزید مراعات دیں۔
مستقبل میں، ڈیجیٹل بینکنگ اور بلاک چین (Blockchain) ٹیکنالوجی کا استعمال ترسیلات کے اخراجات کو مزید کم کر سکتا ہے، جو کہ عالمی سطح پر ایک بڑی ضرورت ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کے خیال میں پاکستان اس سال 41 بلین ڈالر کا ہدف پورا کر سکے گا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بینکنگ چینلز اب پہلے سے زیادہ محفوظ اور تیز ہو چکے ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



