پاکستان میں Overseas Remittances کا سیلاب! ستمبر 2025 میں 3.2 بلین ڈالر کی ریکارڈ آمد
Steady growth in remittance inflows strengthens Pakistan’s external account and fiscal outlook
پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئی کرن امید کی نظر آئی ہے، جب Remittances یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر نے ستمبر 2025 میں زبردست اضافہ دکھایا۔ State Bank of Pakistan (SBP) کے اعدادوشمار کے مطابق، اس مہینے میں Remittances کا حجم 3.2 بلین ڈالر تک پہنچ گیا. جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے۔
یہ اضافہ نہ صرف معیشت کے لیے استحکام کا اشارہ ہے. بلکہ ملک کے بیرونی کھاتے کو مضبوط کرنے کی ایک بڑی علامت بھی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی رفتار نے حکومتی توقعات کو بھی نئی توانائی دی ہے. کیونکہ معاشی ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک Remittances 41 بلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔
خلاصہ
-
بڑا اعداد و شمار: ستمبر 2025 میں سمندر پار پاکستانیوں (Overseas Pakistanis) کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر (Remittances) $3.2 بلین رہیں. جو کہ پاکستان ریمیٹنس ستمبر 2025 کا ایک اہم سنگ میل ہے۔
-
نمو (Growth): یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کے اسی مہینے کے $2.9 بلین کے مقابلے میں 11.3 فیصد سال بہ سال (YoY) اضافہ کو ظاہر کرتا ہے. جو معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔
-
سہ ماہی کارکردگی: مالی سال 26 (FY26) کے پہلے تین مہینوں (3MFY26) میں مجموعی ترسیلات $9.5 بلین ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے $8.8 بلین کے مقابلے میں 8.4 فیصد زیادہ ہیں۔
-
حکومتی ہدف: مشیر خزانہ نے موجودہ مالی سال میں ترسیلات زر کے $41 بلین سے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کی ہے. جو گزشتہ سال کے $38.3 بلین سے کہیں زیادہ ہے۔
-
مارکیٹ پر اثر: ترسیلات زر ملک کے بیرونی کھاتے (External Account) کی حمایت اور روپے کے استحکام میں ایک "لائف لائن” کا کردار ادا کرتی ہیں. جو مارکیٹ کے اعتماد کو بڑھاتی ہیں۔
Remittances کیا ہیں اور یہ پاکستانی معیشت کے لیے کیوں اہم ہیں؟
Remittances سے مراد وہ رقوم ہیں جو بیرون ملک مقیم پاکستانی محنت کش باقاعدہ بینکاری چینلز (Formal Banking Channels) کے ذریعے اپنے خاندانوں اور عزیز و اقارب کو ملک میں بھیجتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان ریمیٹنس ستمبر 2025 میں $3.2 بلین تک پہنچ گئیں. جو ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط اشارہ ہے۔
یہ آمدنی ملک کے بیرونی کھاتے (External Account) کو سہارا دینے، تجارتی خسارے (Trade Deficit) کو کم کرنے، اور سب سے اہم، ان لاکھوں گھرانوں کی براہ راست مدد کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے. جو ان فنڈز پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ فنڈز ملک میں کھپت (Consumption) اور چھوٹی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
مارکیٹ میں دہائیوں پر محیط تجربے سے میں نے دیکھا ہے. کہ ترسیلات زر کی مضبوط اور مستحکم آمد کس طرح پاکستانی روپے (PKR) اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے اعتماد کے درمیان ایک نفسیاتی بفر (Psychological buffer) کا کام کرتی ہے۔
جب ترسیلات زر مضبوط ہوتی ہیں. تو یہ خود بخود ڈیلرز اور سرمایہ کاروں کے خوف کو کم کرتی ہیں. جو ادائیگیوں کے توازن (Balance of Payments) کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں۔ یہ صرف ایک نمبر نہیں ہے. یہ مارکیٹ کے اعتماد کا ایک میٹرک (Metric) ہے۔
ستمبر 2025 کی کارکردگی: کتنی نمو ہوئی اور کیوں؟
پاکستان ریمیٹنس ستمبر 2025 کا ڈیٹا غیر معمولی طور پر مثبت رہا۔
Remittances کی نمو بنیادی طور پر سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے باقاعدہ بینکاری چینلز کے استعمال میں اضافہ اور عالمی سطح پر ان کی محنت و کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر 1 فیصد اور سال بہ سال 11.3 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (PRI) کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ یہ مثبت رجحان بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور درآمدات کے اخراجات کو پورا کرنے کی پاکستان کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاون ہے۔
FY26 کے لیے حکومتی توقعات کیا ہیں؟
مشیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق، حکومت کو توقع ہے کہ جاری مالی سال میں Remittances کا حجم $41 بلین سے تجاوز کر جائے گا، جو گزشتہ مالی سال کے $38.3 بلین کے مقابلے میں ایک اہم اضافہ ہوگا۔ یہ ہدف ملک کی مالیاتی لچک (financial resilience) اور پائیدار ترقی (Sustainable Growth) کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ ہدف موجودہ سہ ماہی کی مضبوط کارکردگی کی بنیاد پر قابل حصول نظر آتا ہے۔
ترسیلات زر کی نمو بنیادی طور پر سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے باقاعدہ بینکاری چینلز کے استعمال میں اضافہ اور عالمی سطح پر ان کی محنت و کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر 1 فیصد اور سال بہ سال 11.3 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے. کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (PRI) کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ یہ مثبت رجحان بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور درآمدات کے اخراجات کو پورا کرنے کی پاکستان کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاون ہے۔
FY26 کے لیے حکومتی توقعات کیا ہیں؟
مشیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق، حکومت کو توقع ہے. کہ جاری مالی سال میں ترسیلات زر کا حجم $41 بلین سے تجاوز کر جائے گا. جو گزشتہ مالی سال کے $38.3 بلین کے مقابلے میں ایک اہم اضافہ ہوگا۔ یہ ہدف ملک کی مالیاتی لچک (Financial Resilience) اور پائیدار ترقی (Sustainable Growth) کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ ہدف موجودہ سہ ماہی کی مضبوط کارکردگی کی بنیاد پر قابل حصول نظر آتا ہے۔
Remittances کا بریک ڈاؤن: کون سے خطے سب سے زیادہ حصہ ڈال رہے ہیں؟
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ رقوم کن بڑے خطوں سے آ رہی ہیں. تاکہ مستحکم بہاؤ (Stable Flow) کے پیچھے کی وجہ کو سمجھا جا سکے۔ ستمبر 2025 میں، مندرجہ ذیل ممالک نے سب سے زیادہ حصہ ڈالا:
-
سعودی عرب: $751 ملین کی ترسیلات بھیجیں، جو ماہ بہ ماہ 2 فیصد اور سال بہ سال 10 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ سب سے بڑا واحد ماخذ (Source) رہا۔
-
متحدہ عرب امارات (UAE): $677 ملین کی ترسیلات کے ساتھ دوسرا بڑا حصہ دار، جو سال بہ سال 7 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
-
برطانیہ (UK): برطانیہ سے $455 ملین کی ترسیلات آئیں، جس میں سال بہ سال 7 فیصد کا اچھا اضافہ دیکھا گیا۔
-
یورپی یونین (EU): EU ممالک سے مجموعی طور پر $424 ملین آئے۔
-
امریکہ (US): امریکہ سے $269 ملین کی ترسیلات آئیں، تاہم. اس میں سال بہ سال 3 فیصد کی کمی نوٹ کی گئی۔
خلیجی ممالک (Gulf countries) اور برطانیہ کی مضبوط نمو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے. کہ ان خطوں میں پاکستانی ورکرز کی جانب سے روزگار کے مواقع اور تنخواہوں میں بہتری آ رہی ہے۔ امریکہ سے سال بہ سال کمی کا تجزیہ ضروری ہے. کیونکہ یہ ڈالر کے ریٹ پر مارکیٹ کے عوامل یا چینل شفٹنگ (Channel Shifting) کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔
Pakistan Remittances Initiative کا کردار
Pakistan Remittances Initiative اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت خزانہ اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کی جانب سے ایک مشترکہ اقدام ہے۔ 2009 سے، PRI کا بنیادی مقصد ترسیلات زر کو غیر رسمی ذرائع سے ہٹا کر باقاعدہ اور قانونی بینکاری چینلز کی طرف لانا ہے۔
اس کے نتیجے میں، PRI نیٹ ورک میں شامل مالیاتی اداروں (FIs) کی تعداد 2009 کے تقریباً 25 سے بڑھ کر 2024 میں 50 سے زیادہ ہو گئی ہے. جس میں روایتی بینک، اسلامی بینک، اور ایکسچینج کمپنیاں (ECs) شامل ہیں۔ اس توسیع نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے رقم بھیجنا زیادہ آسان، سستا، اور محفوظ بنا دیا ہے۔
وسیع مالیاتی نیٹ ورک اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (EMIs) کو بینکوں کے ذریعے ترسیلات وصول کرنے کی اجازت دینے سے. بین الاقوامی پارٹنرز کی تعداد بھی 2009 کے 45 سے بڑھ کر اب تقریباً 400 ہو چکی ہے۔
باقاعدہ چینلز کا مضبوط ہونا ملک میں باضابطہ ڈالر کی آمد کو یقینی بناتا ہے۔ یہ ڈالر مارکیٹ میں آتے ہیں. روپے کی قدر کو سہارا دیتے ہیں اور اسٹیٹ بینک کے لیے زر مبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) میں استحکام لاتے ہیں۔ ایک تجربہ کار مارکیٹ تجزیہ کار کے طور پر. میں کہہ سکتا ہوں. کہ قانونی چینلز سے زیادہ آمد مارکیٹ میں "ڈالرائزیشن” (dollarization) کے دباؤ کو کم کرتی ہے۔
مستقبل کے لیے ایک پائیدار بنیاد.
ستمبر 2025 میں Remittances کا $3.2 بلین تک پہنچنا، اور سہ ماہی میں $9.5 بلین کی مضبوط کارکردگی، پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مستحکم اور انتہائی ضروری محرک (impetus) فراہم کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف حساب کتاب نہیں ہیں.
یہ ملک کی اقتصادی لچک (economic resilience) اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی ہیں۔ $41 بلین کے ہدف کی طرف بڑھتے ہوئے، پاکستان کو بیرونی محاذ پر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط دفاع مل رہا ہے۔
Remittances کی مسلسل نمو نہ صرف بیرونی کھاتے کو سہارا دے گی. بلکہ یہ مقامی مارکیٹ کے اعتماد (Local Market Sentiment) کو بھی مضبوط کرے گی. جو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کلیدی ہے۔
مستقبل میں، حکومت اور SBP کو چاہیے کہ وہ PRI کے اقدامات کو مزید وسعت دیں. اور ڈیجیٹل (Digital) ترسیلات کو فروغ دیں تاکہ بہاؤ کی مستقل مزاجی (Consistency of Flow) کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Remittances میں یہ اضافہ روپے کی قدر کو مزید مستحکم کر پائے گا. اور آپ اس ڈیٹا کو دیکھتے ہوئے کس طرح اپنی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں؟ اپنے خیالات کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں.
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



