AUDUSD نئی بلندی پر، RBA کی پرامید پالیسی اور Fed کے اشارے سے مارکیٹ میں ہلچل
Australian Dollar gains momentum against US Dollar as traders eye Fed’s policy shift and RBA’s inflation outlook
AUDUSD کا جوڑا حالیہ دنوں میں مسلسل اوپر جا رہا ہے. اور اب یہ اپنی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ یہ تیزی ایک رات میں نہیں آئی. بلکہ اس کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں. جن میں ریزرو بینک آف آسٹریلیا RBA کے مثبت اشارے اور امریکی ڈالر کی مسلسل کمزوری شامل ہے۔
ایک تجربہ کار مارکیٹ تجزیہ کار کی حیثیت سے، میں جانتا ہوں کہ کوئی بھی بڑی حرکت شاذ و نادر ہی ایک وجہ کی وجہ سے ہوتی ہے. یہ ہمیشہ متعدد، آپس میں جڑے ہوئے عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے۔
امریکی ڈالر (USD) کی کمزوری اس وقت مارکیٹ میں سب سے اہم عنصر ہے۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) آنے والے دنوں میں اپنی سخت مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کو نرم کرے گا. اور ممکنہ طور پر شرح سود (Interest Rates) میں کمی کرے گا۔
جب کسی ملک کی شرح سود کم ہوتی ہے تو اس کی کرنسی کم پرکشش ہو جاتی ہے. کیونکہ وہ کم ریٹرن فراہم کرتی ہے۔ اس توقع نے امریکی ڈالر کو جولائی کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر دھکیل دیا ہے. جس سے AUD جیسے جوڑوں کو اوپر جانے کا موقع ملا ہے۔
خلاصہ
-
AUDUSD سال کی نئی بلند ترین سطح پر: AUDUSD کا جوڑا 0.6675 کی سطح کے قریب ایک نئی سالانہ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے. جو بنیادی طور پر امریکی ڈالر کی وسیع پیمانے پر کمزوری کی وجہ سے ہے۔
-
RBA کے مثبت تبصرے: ریزرو بینک آف آسٹریلیا RBA کی اسسٹنٹ گورنر سارہ ہنٹر کے حالیہ تبصروں نے آسٹریلوی ڈالر (AUD) کو تقویت بخشی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک افراط زر (Inflation) کے ہدف کے قریب ہے۔
-
فیڈرل ریزرو کی ممکنہ پالیسی تبدیلی: امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے جلد ہی شرح سود میں کمی کے امکانات نے امریکی ڈالر کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے. جس سے AUDUSD کی تیزی کو مدد مل رہی ہے۔
-
چین کا ڈیٹا کمزور: چین کے صنعتی پیداوار (Industrial Production) اور ریٹیل سیلز (Retail Sales) کے اعداد و شمار توقعات سے کمزور رہے. جس نے AUD کو مختصر مدت کے لیے دباؤ میں رکھا، لیکن امریکی ڈالر کی کمزوری اس پر غالب آ گئی۔
-
مستقبل کی آؤٹ لُک: تکنیکی اشارے (Technical Indicators) AUDUSD کے لیے مزید تیزی کی نشاندہی کرتے ہیں. جب تک کہ یہ کلیدی سپورٹ سطحوں (Support Levels) سے اوپر رہے۔
آسٹریلیا کی معاشی فضا اور RBA کے اشارے
RBA کی اسسٹنٹ گورنر سارہ ہنٹر نے واضح کیا کہ بینک افراط زر کو ہدف تک لانے کے قریب ہے. جبکہ گھریلو خرچ اور کنزیومر اسپینڈنگ میں بہتری نظر آ رہی ہے۔ مرکزی بینک کی پالیسی فورڈ لکنگ انداز میں ہے. اور معیشت کو فل ایمپلائمنٹ کے قریب رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ یہ بیانات مارکیٹ میں آسٹریلین ڈالر کی طلب بڑھا رہے ہیں۔
RBA کا موقف: کیا آسٹریلوی معیشت مضبوط ہے؟
AUDUSD میں تیزی کو تقویت دینے والی ایک اور کلیدی خبر ریزرو بینک آف آسٹریلیا RBA کی اسسٹنٹ گورنر سارہ ہنٹر کے تبصرے تھے۔ انہوں نے منگل کو کئی حوالوں سے مارکیٹ کو حیران کر دیا. اس سے یہ تاثر ملا کہ آسٹریلوی معیشت توقع سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ:
-
خطرات متوازن ہیں: معاشی آؤٹ لُک (Outlook) کے گرد خطرات متوازن ہیں، یعنی کوئی بڑا اوپر یا نیچے کا جھٹکا متوقع نہیں۔
-
کھپت (Consumption) میں بہتری: صارفین کا خرچ (Consumer Spending) بہتر ہو رہا ہے، جو معیشت کی صحت کا ایک اہم اشارہ ہے۔
-
مکمل روزگار کی خواہش: آر بی اے آسٹریلوی معیشت کو مکمل روزگار (Full Employment) کے قریب رکھنا چاہتا ہے۔
چینی اعداد و شمار کا اثر کیوں محدود رہا؟
جیسا کہ ہم جانتے ہیں، آسٹریلیا کی معیشت کا گہرا تعلق چین کے ساتھ ہے۔ جب چین کے معاشی اعداد و شمار کمزور آتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر آسٹریلوی ڈالر پر پڑتا ہے۔ حالیہ رپورٹ میں چین کی صنعتی پیداوار (Industrial Production) اور ریٹیل سیلز (Retail Sales) توقعات سے کم رہیں۔ اس خبر نے AUDUSD کو ایشیائی ٹریڈنگ سیشن میں مختصر طور پر نیچے دھکیل دیا، لیکن یہ گراوٹ دیرپا نہیں رہی۔
اس کی وجہ بہت واضح ہے: مارکیٹ کی توجہ اس وقت چین کے اعداد و شمار کے بجائے امریکی ڈالر کی کمزوری پر زیادہ ہے۔ یہ ایک کلاسیک مثال ہے کہ کس طرح بعض اوقات ایک بڑا، عالمی عنصر (جیسے فیڈ کی پالیسی کی توقعات) علاقائی خبروں (جیسے چینی ڈیٹا) کے اثر کو کم کر سکتا ہے۔ تجربے سے میں نے سیکھا ہے. کہ مارکیٹ ہمیشہ سب سے طاقتور ڈرائیور (Driver) کی پیروی کرتی ہے. اور اس وقت وہ امریکی فیڈرل ریزرو ہے۔
AUDUSD کا تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): کیا یہ تیزی برقرار رہے گی؟
AUDUSD کے تکنیکی چارٹس (Charts) موجودہ تیزی کے رجحان (Trend) کی تائید کر رہے ہیں۔
-
ڈیلی چارٹ: قیمت اپنی تمام اہم موونگ ایوریجز (Moving Averages) سے اوپر ٹریڈ کر رہی ہے۔ 20 سادہ موونگ ایوریج (SMA) اب اوپر کی طرف مڑ رہا ہے. جو خریداروں کی دلچسپی میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ مومینٹم (Momentum) اور RSI انڈیکیٹرز بھی تیزی کی حالت میں ہیں. حالانکہ RSI اوورباٹ (Overbought) سطحوں کے قریب ہے۔
-
4-گھنٹے کا چارٹ: یہ چارٹ بھی مزید تیزی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قیمت SMA بھی 20 سے اوپر برقرار ہے. جو کہ 0.6640 پر ایک مضبوط ڈائنامک سپورٹ (Dynamic Support) کے طور پر کام کر رہی ہے۔ تکنیکی اشارے اپنی اوپر کی رفتار کھو چکے ہیں. لیکن پھر بھی اوورباٹ ریڈنگز (Overbought Readings) کے قریب ہیں. جو کسی بھی اہم کمی کی نشاندہی نہیں کرتے۔
اہم سطحیں:
-
سپورٹ (Support) سطحیں: 0.6640، 0.6590، 0.6550
-
مزاحمت (Resistance) سطحیں: 0.6700، 0.6730، 0.6775
اگر AUDUSD مزاحمتی سطح 0.6640 کی سطح سے اوپر رہتا ہے. تو اس کی اوپر کی طرف حرکت جاری رہنے کا امکان ہے. جس کا اگلا ہدف 0.6700 کی نفسیاتی (Psychological) سطح ہو سکتا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ.
آنے والے دنوں میں، مارکیٹ کی توجہ امریکی ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار اور سب سے اہم، فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی میٹنگ پر ہوگی۔ اگر امریکی ڈیٹا توقع سے کمزور آیا تو امریکی ڈالر پر مزید دباؤ آئے گا، جس سے AUDUSD کو مزید اوپر جانے کا موقع ملے گا۔
ایک دہائی کے تجربے سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ مارکیٹ کبھی بھی سیدھی لکیر میں حرکت نہیں کرتی۔ راستے میں اتار چڑھاؤ (volatility) کا امکان موجود ہے، خاص طور پر اہم اقتصادی اعداد و شمار کی رپورٹس اور مرکزی بینک کے اعلانات کے ارد گرد۔ موجودہ تکنیکی اور بنیادی عوامل (Fundamental Factors) AUDUSD کے حق میں ہیں، لیکن کلیدی سطحوں کی نگرانی کرنا اور غیر متوقع خبروں کے لیے تیار رہنا دانشمندی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا AUDUSD کی تیزی جاری رہے گی یا امریکی ڈیٹا اس کے رجحان کو تبدیل کر دے گا؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



