پاکستان اور World Liberty Financial کے درمیان معاہدہ: ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نئے دور کا آغاز

MoU Signals a New Chapter in Digital Payments and Cross-Border Innovation

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے. جہاں روایتی بینکاری نظام سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ حال ہی میں حکومتِ پاکستان اور World Liberty Financial – WLF کے درمیان ہونے والا مفاہمت کی یادداشت (MoU) کا معاہدہ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

یہ کمپنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے وابستہ ہے. جس کی وجہ سے اس معاہدے کی عالمی اور سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس تحریر میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے. کہ یہ معاہدہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، سرحد پار ادائیگیوں (Cross-Border Payments) اور عام سرمایہ کاروں پر کیا اثرات مرتب کرے گا۔

اہم نکات (Key Points)

  • بڑی شراکت داری: پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے کرپٹو بزنس ‘World Liberty Financial‘ کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے معاہدہ کیا ہے۔

  • اسٹیبل کوائن کی شمولیت: اس معاہدے کے تحت WLF کا USD1 اسٹیبل کوائن پاکستان کے ریگولیٹڈ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ڈھانچے میں شامل کیا جائے گا۔

  • اسٹیٹ بینک کا کردار: ورلڈ لبرٹی فنانشل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گی. تاکہ ڈالر سے منسلک ٹوکنز کو قانونی فریم ورک کا حصہ بنایا جا سکے۔

  • ترسیلاتِ زر میں آسانی: اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک سے آنے والے پیسوں (Remittances) کو سستا، تیز رفتار اور شفاف بنانا ہے۔

  • عالمی ساکھ: یہ معاہدہ پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل فنانس کی مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کرتا ہے۔

پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان کیا معاہدہ ہوا ہے؟ 

پاکستان اور SC Financial Technologies LLC (جو World Liberty Financial کی ایک ذیلی شاخ ہے) کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ بنیادی طور پر ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز اور سرحد پار مالیاتی اختراعات (Financial Innovations) پر تعاون کے لیے ہے۔

اس معاہدے کی خاص بات یہ ہے. کہ یہ کسی ریاست اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان پہلا عوامی سطح پر اعلان کردہ باضابطہ گٹھ جوڑ ہے۔ اس کا مقصد پاکستان میں ایک ایسا محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بنانا ہے. جہاں کرپٹو اثاثے اور روایتی کرنسی ایک ساتھ کام کر سکیں۔

فنانشل مارکیٹس میں جب بھی کوئی ملک کسی بڑے عالمی برانڈ یا سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے. تو اس کا پہلا اثر ‘اعتماد’ (Confidence) کی صورت میں نظر آتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایسے معاہدے اکثر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے لیے دروازے کھول دیتے ہیں. کیونکہ عالمی سرمایہ کار اسے ایک مثبت سگنل سمجھتے ہیں۔

USD1 اسٹیبل کوائن کیا ہے اور یہ پاکستان میں کیسے کام کرے گا؟

World Liberty Financial کا USD1 ایک اسٹیبل کوائن (Stablecoin) ہے۔ سادہ الفاظ میں، یہ ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے. جس کی قیمت امریکی ڈالر کے برابر رہتی ہے۔

پاکستان کے لیے اس کی اہمیت:

  1. ریگولیٹڈ انٹیگریشن: اسے اسٹیٹ بینک کے ڈیجیٹل کرنسی ڈھانچے کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

  2. کرنسی کا استحکام: کیونکہ یہ ڈالر سے منسلک ہے. اس لیے یہ سرحد پار تجارت کرنے والوں کے لیے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خطرے کو کم کرے گا۔

  3. ڈیجیٹل روپیہ: یہ پاکستان کے اپنے مجوزہ ڈیجیٹل روپے (CBDC) کے ساتھ مل کر کام کر سکے گا۔

کیا اس معاہدے سے عام پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا؟ 

اس معاہدے کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں:

  • سستی ترسیلاتِ زر (Cheaper Remittances): بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جب پیسے بھیجتے ہیں. تو بینک بھاری فیس کاٹتے ہیں۔ بلاک چین (Blockchain) ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ فیس نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔

  • مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion): وہ لوگ جن کے بینک اکاؤنٹ نہیں ہیں. وہ بھی ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے عالمی معیشت کا حصہ بن سکیں گے۔

  • شفافیت: ڈیجیٹل ادائیگیوں سے کالے دھن اور منی لانڈرنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی. جو پاکستان کے لیے ایف اے ٹی ایف (FATF) جیسے معاملات میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ڈیجیٹل کرنسی کی طرف سفر 

اسٹیٹ بینک کے گورنر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں. کہ پاکستان ڈیجیٹل کرنسی کے پائلٹ پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ World Liberty Financial کے ساتھ یہ شراکت داری اس عمل کو تیز کر دے گی۔ پاکستان اب ورچوئل اثاثوں (Virtual Assets) کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کے آخری مراحل میں ہے۔

ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن ایک دو دھاری تلوار ہے۔ میں نے اپنے تجربے میں دیکھا ہے. کہ اگر قوانین بہت سخت ہوں تو جدت رک جاتی ہے. اور اگر بہت نرم ہوں تو فراڈ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان کا PVARA (Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority) بنانا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ ہم ایک متوازن راستہ اختیار کر رہے ہیں. جو کہ منڈی کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

عالمی مارکیٹس پر اس کے اثرات (Impact on Global Markets)

پاکستان کا یہ اقدام دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک ماڈل بن سکتا ہے۔ اگر ایک بڑی معیشت کامیابی سے اسٹیبل کوائنز کو اپنے قومی نظام میں ضم کر لیتی ہے. تو یہ عالمی سطح پر ڈالر کی ڈیجیٹل شکل میں منتقلی کو تیز کرے گا۔ ابوظہبی کی کمپنی MGX کی جانب سے WLF کے ذریعے بائنانس (Binance) میں سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے. کہ بڑے ادارے اس ٹیکنالوجی پر بھروسہ کر رہے ہیں۔

مستقبل کی حکمتِ عملی.

پاکستان اور World Liberty Financial کا یہ معاہدہ صرف ایک ٹیکنالوجی کا معاہدہ نہیں ہے. بلکہ یہ پاکستان کی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا "ڈیجیٹل پاکستان” کا ویژن اور آرمی چیف کی اس میں موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے. کہ ریاست اس منصوبے کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے۔

سرمایہ کاروں اور عام صارفین کے لیے مشورہ ہے. کہ وہ ڈیجیٹل والٹس اور کرپٹو ریگولیشنز کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔ آنے والا وقت ڈیجیٹل فنانس کا ہے. اور جو ملک یا فرد اس تبدیلی کو جلد اپنائے گا، وہی فائدہ اٹھائے گا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا پاکستان میں ڈالر سے منسلک ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال کامیاب ہو سکے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button