پاکستان کا معاشی منظرنامہ: SBP کی رپورٹ اور سیلاب کے چیلنجز

Banking Sector Outlook Remains Resilient Amid Heavy Floods and Torrential Rains

پاکستان کی معاشی بحالی کا سفر کئی اتار چڑھاؤ کے بعد ایک مستحکم راہ پر گامزن نظر آ رہا تھا، لیکن حالیہ موسمی تبدیلیوں نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ SBP Economic Outlook ایک جامع تصویر پیش کر رہا ہے. جس میں کامیابیوں اور خطرات دونوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

یہ جائزہ ہمیں بتاتا ہے کہ ملک کی معیشت کیسی کارکردگی دکھا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں کن چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے؟

ایک مالیاتی ماہر کے طور پر، میں نے اکثر دیکھا ہے کہ معیشت کو متاثر کرنے والے سب سے بڑے عوامل صرف پالیسی فیصلوں تک محدود نہیں ہوتے. بلکہ قدرتی آفات بھی ایک بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ رپورٹ اس بات کی گواہی ہے کہ کس طرح سیلاب اور شدید بارشیں معاشی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتی ہیں۔

تاہم، اس میں بینکنگ سیکٹر کی لچک (Resilience) کو بھی نمایاں کیا گیا ہے. جو ایک حوصلہ افزا پہلو ہے۔ اس مضمون میں ہم اس رپورٹ کے اہم نکات کا تجزیہ کریں گے. اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے. کہ پاکستان کا Economic Outlook آنے والے دنوں میں کیسا ہو سکتا ہے۔

خلاصہ (اہم نکات)

 

  • SBP کی وسط سالانہ جائزہ رپورٹ SBP Economic Outlook کے مطابق، کم افراطِ زر اور بہتر کریڈٹ ریٹنگ جیسے عوامل معاشی بحالی کی حمایت کر رہے ہیں۔

  • تاہم، حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب نے اس معاشی بحالی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں. خاص طور پر زراعت کے شعبے میں۔

  • اس کے باوجود، رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کا Banking Sector مضبوط اور مستحکم ہے. اور کسی بھی بڑے جھٹکے کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • آنے والے چھ ماہ میں قرضوں کی مانگ (Advances) میں اضافے کی توقع ہے، جس سے بینکوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • State Bank of Pakistan کے مطابق، مالی استحکام اور بہتر اقتصادی سرگرمیوں سے قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری آئے گی۔

کیا حالیہ سیلاب معاشی بحالی کے لیے خطرہ ہیں. اس حوالے سے SBP Economic Outlook کیا نشاندہی کر رہی ہے؟

SBP Economic Outlook کے مطابق، حالیہ سیلاب اور شدید بارشیں پاکستان کی معاشی بحالی کو کچھ چیلنجز پیش کر سکتی ہیں۔ ان آفات کا سب سے بڑا ممکنہ اثر زراعت کے شعبے پر ہو سکتا ہے۔ زراعت سے منسلک قرض داروں کی قرض کی واپسی (Repayment) کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے، کیونکہ فصلوں اور مویشیوں کو نقصان پہنچنے سے ان کی آمدنی متاثر ہو گی۔ یہ ایک واضح اور فوری خطرہ ہے۔

میں نے مالیاتی منڈیوں میں 10 سال سے زیادہ عرصے تک کام کرتے ہوئے یہ بات بارہا مشاہدہ کی ہے. کہ جب کسی بھی ملک کی معیشت میں کوئی غیر متوقع واقعہ، جیسے قدرتی آفت، پیش آتا ہے. تو اس کا سب سے پہلا اثر متعلقہ شعبے پر پڑتا ہے. لیکن اس کے اثرات بہت تیزی سے دوسرے شعبوں تک پھیل جاتے ہیں۔

میرے تجربے میں، زراعت جیسی بنیادی معاشی سرگرمی میں رکاوٹ سپلائی چین (Supply Chain) کو بری طرح متاثر کرتی ہے. جس سے افراطِ زر (Inflation) بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

ایک ٹریڈر کے طور پر، میں ایسی صورتحال میں سب سے پہلے ان کمپنیوں کے اسٹاکس کا جائزہ لیتا ہوں. جو زراعت پر منحصر ہیں. جیسے کھاد اور خوراک کی کمپنیاں۔ سیلاب کے بعد، میں نے دیکھا ہے. کہ مارکیٹ ان شعبوں کے مستقبل کے منافع کے بارے میں تیزی سے محتاط ہو جاتی ہے. اور اس کا اثر ان کے شیئرز کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔

بینکنگ سیکٹر کتنا مضبوط ہے؟

 

SBP Economic Outlook کے مطابق، پاکستان کا بینکنگ سیکٹر انتہائی مضبوط اور مستحکم ہے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے. کیونکہ کسی بھی معیشت کا دل اس کا مالیاتی نظام ہوتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بینکوں کے پاس کافی سرمائے کا Cushion موجود ہے اور زراعت کو دیے گئے قرضوں کا حصہ ان کے کل پورٹ فولیو (Portfolio) میں نسبتاً کم ہے۔ اس لیے، سیلاب کی وجہ سے زراعت کے قرضوں میں کمی بھی بینکنگ سیکٹر کی مجموعی صحت کو متاثر نہیں کرے گی۔

SBP Economic Outlook بتاتی ہے کہ Capital Adequacy Ratio (CAR) جو کہ بینکوں کی مالی حالت کا ایک اہم پیمانہ ہے. بڑھ کر 21.4% ہو گیا ہے، جو کہ ضروری Regulatory Requirement (11.5%) سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی یقین دلاتے ہیں. کہ پاکستانی بینکوں کا نظام محفوظ ہے۔

  • بینکوں کا اثاثہ (Asset) کی بنیاد: H1CY25 میں بینکوں کے اثاثوں میں 11% کا اضافہ ہوا. جس کی وجہ زیادہ تر حکومتی سیکیورٹیز (Government Securities) میں سرمایہ کاری تھی۔

  • قرضوں کی صورتحال: مجموعی طور پر قرضے (Advances) کم ہوئے، لیکن چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کو دیے گئے قرضوں میں اضافہ ہوا۔

آنے والے دنوں میں کیا توقع ہے؟

SBP Economic Outlook  کے مطابق، 2025 کے دوسرے نصف میں بینکنگ سیکٹر کی کارکردگی مستحکم رہنے کی توقع ہے۔ مالی حالات میں آسانی (Easing Financial Conditions) اور اقتصادی بحالی کی وجہ سے قرضوں کی مانگ میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

اس کے ساتھ ہی، کم شرح سود (Policy Rate) کی وجہ سے بینکوں کی آمدنی میں کمی آ سکتی ہے. لیکن قرضوں کے حجم میں متوقع اضافے سے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

یہاں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے Fiscal Consolidation یعنی مالی استحکام کی کوششیں جاری ہیں. جس سے سرکاری قرضوں کی ضرورت کم ہو گی۔ اس سے نجی شعبے (Private Sector) کو قرض کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوں گے۔ تاہم، سیلاب کی وجہ سے حکومتی مالیات پر دباؤ پڑ سکتا ہے. جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

  • غیر فعال قرضے (NPLs): بینکوں کے غیر فعال قرضے (Non-Performing Loans – NPLs) کم ہوئے. جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی قرض کا خطرہ (Credit Risk) قابو میں ہے۔

اقتصادی بحالی کا راستہ اور چیلنجز

SBP Economic Outlook کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف تو ایسے اشارے مل رہے ہیں. جو معاشی بحالی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسے:

  • کم افراطِ زر (subdued inflation): جس سے قوت خرید میں بہتری کی امید ہے۔

  • مستحکم ایکسچینج ریٹ (stable exchange rate): جو کاروباری منصوبہ بندی کے لیے اہم ہے۔

  • بہتر کریڈٹ ریٹنگ (improved credit rating): جو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھاتی ہے۔

دوسری طرف، سیلاب جیسی غیر متوقع آفات اور ان کے معاشی اثرات، خاص طور پر زرعی شعبے پر، ایک بڑا خطرہ ہیں۔ یہ رپورٹ دراصل ایک توازن کا پیغام دیتی ہے. ہمیں محتاط رہتے ہوئے بھی پرامید رہنا چاہیے۔

میرے تجربے میں، ایسے حالات میں سب سے اہم چیز منصوبہ بندی اور حکمت عملی (Strategic Planning) ہوتی ہے۔ حکومت اور مالیاتی اداروں کو اب سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے تیزی سے اقدامات کرنے ہوں گے. تاکہ زراعت کا شعبہ جلد بحال ہو سکے اور سپلائی چین میں خلل نہ پڑے۔

جب میں ٹریڈنگ فلور پر تھا، تو ایسے غیر معمولی حالات میں ہماری ٹیم کا سب سے پہلا ردِ عمل یہ ہوتا تھا کہ ہم فوری طور پر مختلف سیکٹرز پر ان اثرات کا تجزیہ کرتے تھے. تاکہ پورٹ فولیو میں خطرات کو کم کیا جا سکے۔

تمام اسٹیک ہولڈرز کا جائزہ.

 دوران ٹریڈنگ ہم صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہتے تھے. بلکہ ان تمام کمپنیوں کا جائزہ لیتے تھے. جو بالواسطہ (Indirectly) متاثر ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، سیلاب کے بعد، تعمیراتی شعبے (Construction Sector) میں بھی سرگرمی بڑھنے کی توقع ہوتی ہے کیونکہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو (Reconstruction) کا کام ہوتا ہے۔

اسی طرح، ہم ان کمپنیوں کے اسٹاکس پر نظر رکھتے تھے. جو ہنگامی امداد کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ فنانشل مارکیٹ میں کامیابی کا راز صرف ایک خبر کو پڑھنا نہیں. بلکہ اس کے ممکنہ تمام اثرات کو سمجھنا ہوتا ہے۔

حرف آخر

SBP Economic Outlook ایک جامع اور حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ بنیادی اقتصادی اشارے (Economic indicators) بہتری کی طرف جا رہے ہیں. اور بینکنگ سیکٹر جیسا کہ اس نے 2008 کے عالمی مالیاتی بحران اور دیگر معاشی جھٹکوں میں ثابت کیا. بہت مضبوط ہے۔ تاہم، سیلاب جیسی آفات ایک یاددہانی ہیں. کہ کسی بھی معیشت کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایک مالیاتی ماہر کے طور پر، میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان کے لیے یہ ایک "معاشی ٹیسٹ” کا وقت ہے۔ اگر حکومت اور تمام ادارے ان چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر پاتے ہیں. تو یہ اعتماد مزید بڑھے گا۔ اس کے بعد ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فنانشل مارکیٹس میں طویل مدتی کامیابی کے لیے، صرف آج کے اعداد و شمار پر نظر رکھنا کافی نہیں ہے. بلکہ ان کی روشنی میں مستقبل کے خطرات اور مواقع کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

کیا آپ اس رپورٹ کے بارے میں کوئی مزید سوال پوچھنا چاہیں گے. یا آپ کا اس پاکستان کا SBP Economic Outlook پر کیا خیال ہے؟

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button