BTC اور Gold Price کی شاندار پرواز: US Shutdown نے مارکیٹ کو Rate-Cut Bets کی طرف دھکیل دیا

Bitcoin surges to $120,000 while Gold climbs near $3,900 as investors eye Fed’s rate-cut cycle

Bitcoin اور Gold Price کی حالیہ تیزی کوئی اتفاق نہیں بلکہ دو بڑے معاشی اور ریگولیٹری عوامل کے ملنے کا نتیجہ ہے۔ سب سے بڑا محرک امریکی US Government Shutdown ہے۔ اس شٹ ڈاؤن نے روزگار کی رپورٹس (Employment Reports) اور دیگر اہم اقتصادی اعداد و شمار کی اشاعت کو روک دیا ہے، جس سے روایتی مارکیٹوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جب ڈیٹا غائب ہوتا ہے، تو سرمایہ کار محفوظ متبادل یا رسک اثاثوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

دراصل معاشی اعداد و شمار کی تاخیر نے مالیاتی مارکیٹ میں ایک اہم خلا پیدا کیا ہے۔ سرمایہ کاروں نے اس خلا کو شرح سود میں کمی (Rate Cut) کی تقریباً یقینی شرط کے طور پر لیا ہے۔ یہ توقع Bitcoin اور Gold Price دونوں کو ایک ساتھ اوپر لے گئی ہے. Bitcoin رسک اثاثہ کے طور پر، اور سونا ایک روایتی محفوظ پناہ گاہ (Safe Haven) کے طور پر۔ بٹ کوائن (BTC) $120,000 کو چھو گیا جبکہ Gold Price نے 2.9% اضافے کے ساتھ $3,900 کو ٹچ کیا۔

اہم نکات

  • معاشی ڈیٹا میں تاخیر اور اثاثوں میں اضافہ: US Government Shutdown  نے اہم معاشی ڈیٹا جیسے روزگار کی رپورٹس کو ملتوی کر دیا ہے. جس کے نتیجے میں تاجر Bitcoin اور Gold جیسے متبادل اثاثوں کی طرف تیزی سے جا رہے ہیں۔

  • شرح سود میں کمی کی شرطوں کی طاقت: شٹ ڈاؤن کے باعث فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے جلد ہی 25 بنیادی پوائنٹس (25 bps) کی شرح سود (Interest Rate) میں کمی کی توقعات تقریباً یقینی ہو گئی ہیں. جو کرپٹو جیسی رسک اثاثوں (Risk Assets) کے لیے ایک بڑی کشش ہے۔

  • بٹ کوائن کی تاریخی تیزی: اکتوبر کے مہینے نے تاریخی طور پر بٹ کوائن کے لیے تیزی کا رجحان (Bullish Trend) دکھایا ہے، اور رواں سال بھی ابتدائی اشارے اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں. جسے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (Institutional Investors) اور ای ٹی ایف (ETFs) کی بڑھتی ہوئی طلب سے مزید تقویت مل رہی ہے۔

  • کرپٹو-نیٹو مارکیٹ کی ترقی: ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) میں تجارتی سرگرمی کا حصہ نمایاں طور پر بڑھ رہا ہے. خاص طور پر ایشیا سے بڑھتی ہوئی شرکت اس تبدیلی کو فروغ دے رہی ہے۔

Bitcoin اور Gold Price میں تیزی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

میرے دس سالہ تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ فیڈ کی پالیسی میں تبدیلی کی توقع اکثر اصل کارروائی سے زیادہ مارکیٹ کو حرکت دیتی ہے۔ 2010 کی دہائی میں جب فیڈ نے مقداری آسانی (Quantitative Easing) کا اشارہ دیا تھا. تو اس نے اسٹاک اور رسک اثاثوں میں ایک مضبوط ریلی کو جنم دیا تھا.

Gold Price as on 3rd October 2025
Gold Price as on 3rd October 2025

اس سے پہلے کہ اصل میں بڑا اثر نظر آتا۔ آج، شرح سود میں کمی کی "تقریباً یقینی” شرط بالکل اسی طرح کام کر رہی ہے. تاجر کسی سرکاری اعلان کا انتظار کرنے کے بجائے، پہلے ہی پوزیشنیں لے رہے ہیں۔ یہ مارکیٹ کی کارکردگی کا ایک لازمی سبق ہے. مارکیٹیں مستقبل پر ڈسکاؤنٹ (Discount) کرتی ہیں، حال پر نہیں۔

Bitcoin اور Gold Price کی حالیہ تیزی کوئی اتفاق نہیں بلکہ دو بڑے معاشی اور ریگولیٹری عوامل کے ملنے کا نتیجہ ہے۔ سب سے بڑا محرک امریکی حکومتی شٹ ڈاؤن ہے۔ اس شٹ ڈاؤن نے روزگار کی رپورٹس (Employment Reports) اور دیگر اہم اقتصادی اعداد و شمار کی اشاعت کو روک دیا ہے، جس سے روایتی مارکیٹوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جب ڈیٹا غائب ہوتا ہے، تو سرمایہ کار محفوظ متبادل یا رسک اثاثوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

معاشی اعداد و شمار کی تاخیر نے مالیاتی مارکیٹ میں ایک اہم خلا پیدا کیا ہے۔ سرمایہ کاروں نے اس خلا کو شرح سود میں کمی (Rate Cut) کی تقریباً یقینی شرط کے طور پر لیا ہے۔ یہ توقع Bitcoin اور Gold Price دونوں کو ایک ساتھ اوپر لے گئی ہے— بٹ کوائن رسک اثاثہ کے طور پر، اور سونا ایک روایتی محفوظ پناہ گاہ (Safe Haven) کے طور پر۔ بٹ کوائن (BTC) $120,000 کو چھو گیا جبکہ سونے نے 2.9% اضافے کے ساتھ $3,900 کو ٹچ کیا۔

بٹ کوائن کا فیصلہ کن مرحلہ: میکرو اور کرپٹو عوامل کا تصادم

اس وقت Bitcoin ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے میں ہے جہاں میکرو اکنامک (Macroeconomic) اور کرپٹو-مخصوص (Crypto-Specific) عوامل ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔

شٹ ڈاؤن کے ریگولیٹری اثرات.

حکومتی شٹ ڈاؤن نے ایس ای سی (SEC) کے 90% سے زیادہ عملے کو فارغ کر دیا ہے. اور سی ایف ٹی سی (CFTC) کو صرف ایک کنکال عملے کے ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

  • فوری اثر: ریگولیٹری غیر موجودگی نے مارکیٹ کو قدرے آزاد ماحول فراہم کیا. جو کہ تاریخی طور پر رسک آن (Risk-On) رویے کو فروغ دیتا ہے۔

  • مستقبل کا خطرہ: اہم کرپٹو اثاثوں جیسے سولانا (Solana) اور ایکس آر پی (XRP) سے متعلق ای ٹی ایف کے فیصلوں میں تاخیر کا امکان ہے۔ ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال مستقبل کی مارکیٹ کے لیے ایک ڈریکنگ فیکٹر ہو سکتی ہے۔

تاریخی رجحان اور ادارہ جاتی طلب

اکتوبر کا مہینہ تاریخی طور پر Bitcoin کے لیے تیزی کا مہینہ رہا ہے۔ یہ تاریخی کارکردگی بڑھتی ہوئی ادارہ جاتی مانگ کے ساتھ مل کر ایک طاقتور بیانیہ بنا رہی ہے۔

  • ماہانہ طلب میں اضافہ: کرپٹو کوانٹ (CryptoQuant) کے مطابق، جولائی سے Bitcoin کی ظاہری طلب میں تقریباً 62,000 BTC فی مہینہ اضافہ ہوا ہے۔

  • بنیادی محرک: یہ مانگ بڑی حد تک ای ٹی ایف (ETFs) اور وہیلز (Whales) کی جانب سے آ رہی ہے۔ 2024 کی چوتھی سہ ماہی میں ای ٹی ایف ہولڈنگز میں 71% کا اضافہ اس بات کی ٹھوس گواہی ہے۔ Bitcoin اب محض ایک قیاس آرائی پر مبنی آؤٹ لائر نہیں رہا. بلکہ ایک ڈیجیٹل اثاثہ (Digital Asset) کے طور پر خود کو ثابت کر رہا ہے۔

ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) میں تیزی (Surge in Decentralized Finance)

کرپٹو کا اپنا مقامی بازار (Crypto-Native Market) بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ گزشتہ ماہ میں، ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (جسے سادہ الفاظ میں غیر مرکزی مالیات کہہ سکتے ہیں) کی تجارتی سرگرمی کا حصہ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

  • ایشیا کا کردار: ڈی فائی کی ترقی کا ایک بڑا محرک ایشیا سے نئی توانائی اور شرکت کا آنا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ڈی فائی (DeFi) اپنی دیرینہ صلاحیت کو پورا کرنا شروع کر رہا ہے. اور مارکیٹ میں اسے اپنانے کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ ڈی فائی پلیٹ فارمز میں لیکویڈیٹی (Liquidity) کا بڑھنا ہمیشہ پورے کرپٹو ایکو سسٹم کے لیے ایک مثبت علامت ہوتی ہے۔

Bitcoin as on 3rd October 2025
Bitcoin as on 3rd October 2025

مستقبل کے ممکنہ محرکات اور نقطہ نظر

مارکیٹ ہمیشہ نئے محرکات (Catalysts) کی تلاش میں رہتی ہے جو قیمتوں کو مزید آگے بڑھا سکیں۔

  1. آلٹ کوائن (Altcoin) ای ٹی ایف فیصلے: سولانا (Solana) اور ایکس آر پی (XRP) کے لیے ای ٹی ایف سے متعلق فیصلوں پر نظر رہے گی، اگرچہ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ان میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کی منظوری کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے دروازے مزید کھول دے گی۔

  2. ایتھیریم کا فوساکا اپ گریڈ (Ethereum’s Fusaka Upgrade): ایتھیریم (Ethereum) کا یہ اہم اپ گریڈ آہستہ آہستہ قریب آ رہا ہے۔ بڑے نیٹ ورک اپ گریڈز تاریخی طور پر متعلقہ کرپٹو اثاثوں میں دلچسپی اور قیمتوں میں اضافہ لاتے ہیں۔

  3. معاشی ڈیٹا کی بحالی: جب حکومتی شٹ ڈاؤن ختم ہوگا. اور اہم اقتصادی ڈیٹا، جیسے روزگار اور افراط زر کی رپورٹس، جاری ہوں گی، تو مارکیٹ میں مختصر مدت کے لیے ایک ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر ڈیٹا شرح سود میں کمی کی توقعات کی حمایت کرتا ہے. تو ریلی جاری رہے گی۔ اگر ڈیٹا توقعات کے خلاف جاتا ہے. تو خطرے سے بچاؤ (Risk Aversion) کا مختصر دور آ سکتا ہے۔

طویل المدتی حکمت عملی

یہ غیر معمولی دور، جہاں حکومتی جمود Bitcoin اور Gold Price کی ریلی کو ہوا دے رہا ہے، سیزنڈ ٹریڈرز (Seasoned Traders) کے لیے ایک گہرا سبق رکھتا ہے۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں. بلکہ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ روایتی مالیاتی نظام میں غیر یقینی کی صورتحال Bitcoin جیسی ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک پختہ قیمت کی تجویز (Value Proposition) بن چکی ہے۔

ایک دہائی کے تجربے سے، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اہم یہ نہیں ہے کہ حکومتی شٹ ڈاؤن ہوتا ہے یا نہیں. بلکہ یہ ہے کہ سرمایہ کار رسک کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ کم شرح سود کے ماحول میں، غیر مرکزی مالیاتی ٹیکنالوجی (DeFi) کی بڑھتی ہوئی بنیاد کے ساتھ. بٹ کوائن ایک مستحکم طویل مدتی بچاؤ کا اثاثہ (Hedge Asset) بننے کی طرف گامزن ہے. نہ کہ صرف ایک موسمی رجحان۔

آپ کس طرح منصوبہ بندی کرتے ہیں؟ اس صورتحال میں، کیا آپ اپنی رسک پروفائل (Risk Profile) کے مطابق Gold اور Bitcoin میں اپنا حصہ بڑھانے پر غور کریں گے؟ اپنا خیال نیچے تبصرے (Comments) میں ضرور شیئر کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button