Bitcoin کو 87,000 ڈالر کی سطح پر مضبوط مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ اس سطح پر پرافٹ بکنگ اور بڑے سیلرز فعال ہیں۔ جب بھی قیمت اس حد کو چھوتی ہے، فروخت کا دباؤ خریداروں کی قوت پر حاوی ہو جاتا ہے۔
Tag
27 مضامین
Bitcoin کو 87,000 ڈالر کی سطح پر مضبوط مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ اس سطح پر پرافٹ بکنگ اور بڑے سیلرز فعال ہیں۔ جب بھی قیمت اس حد کو چھوتی ہے، فروخت کا دباؤ خریداروں کی قوت پر حاوی ہو جاتا ہے۔
ٹیتھر (Tether) کا سب سے بڑا سٹیبل کوائن USDT ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے اصل گھر یعنی بٹ کوائن (Bitcoin) پر واپس آ رہا ہے۔ یہ پیش رفت کرپٹو انڈسٹری میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہے
کرپٹو کرنسی (cryptocurrency) کی دنیا میں جب بھی مارکیٹ کوئی بڑی چھلانگ لگاتی ہے، تو سرمایہ کاروں کا جوش و خروش عروج پر ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بٹ کوائن (Bitcoin) نے ایک بار پھر زبردست کارکردگی دکھائی اور آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔
بٹ کوائن (Bitcoin) اپنی اہم سپورٹ پر ڈٹا ہوا ہے، وہیں دوسری طرف بانڈ ییلڈز (Bond yields) اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سرمایہ کاروں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
Bitcoin کی قیمت تقریباً 83,200 ڈالر اور Ethereum تقریباً 2,648 ڈالر کے قریب آگئی؛ تازہ دستیاب نرخوں میں دونوں اتوار کے مقابلے میں مزید کمزور رہے۔ BTC گزشتہ ہفتے کی تقریباً 87,300 ڈالر کی بلند سطح سے نیچے ہے۔ اب 82,900 سے 83,000 ڈالر کا علاقہ نگرانی میں ہے، جبکہ 85,000 کی واپسی بحالی کو تقویت دے گی۔ ETH دوبارہ 2,700 ڈالر سے نیچے آگیا ہے۔ 2,600 ڈالر کے قریب خریداروں کا ردعمل اہم ہوگا، جبکہ 2,750 سے 2,800 کا علاقہ بحالی کی اگلی آزمائش رہے گا۔ ایران کے بارے میں غیر یقینی، مہنگا تیل اور بلند امریکی بانڈ منافع کے ساتھ Nasdaq futures اور ایشیائی حصص بھی کمزور رہے؛ تاہم ہر کرپٹو حرکت کو ایک خبر سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ پیر کی کمی نے حالیہ تیزی کا تسلسل کمزور کیا ہے، مگر بڑی بحالی ختم ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے۔ امریکی مہنگائی اور روزگار کے اعداد، بانڈ منافع اور اگلے سیشن کی خریداری اہم ہوں گے۔
BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔
دنیا کی سب سے بڑی کریٹو کرنسی یعنی Bitcoin ایک محدود دائرے میں ٹریڈ کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی مارکیٹس میں بانڈز کی فروخت میں کمی اور خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں نرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سرمایہ کاروں کی توجہ اب روایتی سرمائے سے ہٹ کر متبادل کرپٹوز (Altcoins) کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
آج Treasury yields میں اضافے کی وجہ سے پوری کرپٹو انڈسٹری دباؤ کا شکار ہے۔ ایشیائی سیشن کے دوران بٹ کوئن (Bitcoin) کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور یہ 84,000 ڈالر کی سطح سے نیچے ٹریڈ کرتا نظر آیا۔
BTC بدھ کو 87,000 ڈالر کے قریب دوبارہ ناکامی کے بعد 84,000 ڈالر سے نیچے آگیا؛ بعد کی رپورٹ میں کم ترین قیمت تقریباً 83,508 ڈالر بتائی گئی، جو تازہ نرخ نہیں۔ چار گھنٹوں میں تقریباً 280 ملین ڈالر کی لانگ لیکویڈیشن رپورٹ ہوئی؛ ایک گھنٹے کی الگ ریڈنگ میں مجموعی جبری بندش تقریباً 230 ملین ڈالر تھی، دونوں کو جمع نہ کیا جائے۔ ایک گھنٹے کے مذکورہ وقفے میں تقریباً 223 ملین ڈالر لانگ پوزیشنز سے متعلق تھے؛ BTC اور ETH کی مجموعی لیکویڈیشن بالترتیب 60.88 اور 59.91 ملین ڈالر رہی۔ ETH بھی 2,660 سے 2,680 ڈالر کے علاقے میں آیا؛ XRP، SOL اور DOGE سمیت بڑی کرپٹو کرنسیوں کی کمزوری نے فروخت کے وسیع ہونے کی نشاندہی کی۔ مضبوط امریکی PMI اور بلند بانڈ منافع اہم پس منظر ہیں؛ اب BTC کے لیے 84,000 سے 85,000 ڈالر میں استحکام، اسپاٹ خریداری اور لیوریج کے دباؤ میں کمی دیکھنا ہوگی۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں مارکیٹ کے سرکردہ اثاثے یعنی بٹ کوئن کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ سرمایہ کاروں کے آلٹ کوائنز میں منتقلی کے رجحان کے تحت 86,000 ڈالر سے نیچے آ چکا ہے
BTC ایشیائی سیشن میں تقریباً 86,500 ڈالر اور ETH تقریباً 2,760 ڈالر کے قریب رہے؛ حالیہ تیزی برقرار ہے، مگر بلند سطحوں پر خریداری کا تسلسل اب اہم ہوگا۔ امریکی Bitcoin ETF میں 22 ستمبر کو 714.7 ملین ڈالر کی مزید خالص آمد ہوئی؛ چار مسلسل مثبت کاروباری سیشنز میں مجموعہ تقریباً 2.31 ارب ڈالر ہوگیا۔ Ethereum ETF میں 21 ستمبر کی خالص آمد 270 ملین ڈالر تھی؛ 22 ستمبر کے دستیاب اعداد نامکمل ہیں، اس لیے تیسرے مثبت سیشن کا حتمی دعویٰ قبل از وقت ہے۔ BTC کے لیے 87,000 سے 87,400 ڈالر اور ETH کے لیے 2,800 ڈالر کے آس پاس قیمت کا ردعمل اہم ہے؛ محض سطح عبور کرنا پائیدار بریک آؤٹ کی ضمانت نہیں۔ ETF سرمایہ آمد شارٹ لیکویڈیشن سے الگ طلب کا اشارہ دیتی ہے، لیکن اسے صرف ادارہ جاتی خریداری کہنا درست نہیں؛ بڑھتا لیوریج قیمت کی واپسی کو تیز کرسکتا ہے۔ قیمتوں اور فنڈ فلو کی مختلف تاریخوں کو ملانے سے بھی گریز ضروری ہے، کیونکہ کرپٹو تجارت مسلسل جاری رہتی ہے۔
بٹ کوائن پیر، 21 ستمبر کو 85,000 ڈالر عبور کرکے جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچا؛ ابتدائی رپورٹوں کے بعد دستیاب نرخ تقریباً 85,900 ڈالر تک آگئے۔ پیر کی ایک رپورٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کی مجموعی کرپٹو لیکویڈیشن 746.6 ملین ڈالر اور شارٹ پوزیشنز کی بندش 647.9 ملین ڈالر بتائی گئی، یعنی تقریباً 87 فیصد۔ ETH تقریباً 2,737 ڈالر، XRP تقریباً 1.50 ڈالر اور SOL تقریباً 118.16 ڈالر رہا؛ اسی اسنیپ شاٹ میں XRP اور SOL کی فیصدی تیزی BTC سے زیادہ تھی۔ شارٹ لیکویڈیشن قیمت میں تیزی کو مزید بڑھا سکتی ہے، مگر بند ہونے والے معاہدوں کی مالیت کو اسپاٹ مارکیٹ میں اتنی ہی نئی سرمایہ کاری سمجھنا درست نہیں۔ اگلا امتحان 85,000 ڈالر کے اوپر قیمت کا برقرار رہنا، اسپاٹ خریداری کا تسلسل اور نئی لیوریج کی نوعیت ہے؛ محض ایک سطح عبور کرنا مستقل تیزی کی ضمانت نہیں۔
بٹ کوائن کی قیمت نے پیر کے روز نمایاں تیزی دکھاتے ہوئے مثبت رجحان کے ساتھ 85,000 ڈالر کی حد کو عبور کر لیا ہے۔ یہ ریکوری گزشتہ ہفتے کی 5 فیصد بہتری کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے آٹھ ماہ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
آج ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ Crypto Market میں ایک زبردست بحالی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں Zcash price میں اضافے (زی کیش پرائیویسی ٹوکن کی قیمت میں اضافہ) نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے
ڈیجیٹل اثاثہ جات کی فنانشل سروسز فراہم کرنے والی معروف فرم ٹو پرائم نے پیرٹو (Pareto) پلیٹ فارم پر ایک نیا Bitcoin Yield Vault متعارف کرا دیا ہے۔ اس کا مقصد ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو محفوظ طریقے سے 1.5% سے 2% تک سالانہ منافع فراہم کرنا ہے۔
کرپٹو انڈسٹری میں اتار چڑھاؤ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب Clarity Act پر امریکی سینیٹ میں ووٹنگ کے تناظر میں Bitcoin کی قیمت لڑھک کر 77,000 ڈالر تک آ گئی۔ کرپٹو کرنسی (cryptocurrency) مارکیٹ کے لیے یہ دن انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے کیونکہ امریکی سینیٹ (US Senate) میں کلیدی ضابطہ جاتی بل پر کارروائی جاری ہے۔
ٹوکیو میں قائم کمپنی Metaplanet نے جب اپنی کارپوریٹ حکمت عملی کو تبدیل کر کے بٹ کوائن ٹریژری اسٹریٹجی (Bitcoin Treasury Strategy) اپنائی، تو اس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی۔
بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج (HKEX) میں MicroBT کی جانب سے ہانگ کانگ کے پہلے Bitcoin and Gold ETF کا آغاز بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
✓ شکریہ! آپ کی سبسکرپشن کامیابی سے درج ہو گئی۔
پہلا ڈائجسٹ آپ کے انباکس میں جلد پہنچے گا۔
آپ کے پسندیدہ معاشی شعبے، سونا صرافہ، فاریکس اور پی ایس ایکس ایکسچینج کی روزانہ یا ہفتہ وار آپ ڈیٹس براہِ راست اِن باکس میں وصول کریں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں