ڈالر انڈیکس 100 سے اوپر: تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے خدشات نے ڈالر کو سہارا دیا

US Dollar امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) جمعہ کو مزید مضبوطی کے ساتھ 100 کی سطح سے اوپر چلا گیا۔ جو نومبر کے بعد اس کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ عالمی مارکیٹوں میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، اور امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود پالیسی سے متعلق نئی توقعات نے ڈالر کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔
مارکیٹ میں سرمایہ کار اس بات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا فیڈرل ریزرو اس سال شرح سود میں کمی کر پائے گا یا نہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب توانائی کی قیمتوں میں تیزی مہنگائی کو دوبارہ بڑھا سکتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں تیزی اور مہنگائی کے خدشات
Dollar ڈالر کی حالیہ مضبوطی کے پیچھے سب سے اہم عنصر خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹوں میں سپلائی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ممکنہ بندش ایران کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔ یہ آبنائے عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ آتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی خدشے کے باعث برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ جس سے عالمی معیشت میں مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔
اسٹریٹجک ذخائر کے باوجود تیل مارکیٹ غیر مستحکم
عالمی توانائی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا۔
اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں سپلائی بڑھانا اور قیمتوں میں اضافے کو محدود کرنا تھا۔ تاہم اس کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ کیونکہ جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور موجود ہیں۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو توانائی کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر عالمی مہنگائی اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں پر پڑے گا۔
فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں کمی کی توقعات کم
تیل کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود پالیسی سے متعلق مارکیٹ کی توقعات کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔
بینک MUFG کے ماہرین کے مطابق:
اگر تیل کی قیمت 10 ڈالر بڑھتی ہے تو امریکی مہنگائی میں تقریباً 0.2 فیصد پوائنٹ اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگر تیل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب رہتا ہے تو مہنگائی تقریباً 0.8 فیصد پوائنٹس تک بڑھ سکتی ہے۔
جبکہ 150 ڈالر فی بیرل کی صورتحال میں مہنگائی 4 فیصد سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔
اس صورتحال میں فیڈرل ریزرو ممکنہ طور پر شرح سود میں کمی مؤخر کر سکتا ہے، جس سے ڈالر کو مزید سپورٹ مل سکتی ہے۔
امریکی معیشت اور شرح سود کا منظرنامہ
کینیڈا کے نیشنل بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی معیشت اب بھی مضبوط نمو دکھا رہی ہے۔ تاہم توانائی کی قیمتوں میں اضافہ فیڈ کے لیے پالیسی فیصلوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
بینک کا اندازہ ہے کہ:
اس سال دو مرتبہ شرح سود میں کمی ممکن ہے
لیکن اگر مہنگائی دوبارہ بڑھتی ہے تو فیڈ کچھ عرصہ کے لیے شرح سود برقرار رکھ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار فی الحال ڈالر میں دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اہم امریکی اقتصادی ڈیٹا پر مارکیٹ کی نظر
جمعہ کو امریکی اقتصادی کیلنڈر کافی مصروف ہے اور کئی اہم ڈیٹا ریلیز ہونے والے ہیں، جن میں شامل ہیں:
PCE Price Index (فیڈ کا پسندیدہ مہنگائی پیمانہ)
Durable Goods Orders
GDP ڈیٹا
University of Michigan Consumer Sentiment Index
یہ تمام اعداد و شمار یہ اشارہ دیں گے کہ امریکی معیشت اور مہنگائی کس سمت جا رہی ہے اور فیڈرل ریزرو آئندہ مہینوں میں کیا پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔
US Dollar Index تکنیکی تجزیہ
تکنیکی چارٹ کے مطابق ڈالر انڈیکس تقریباً 100.07 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے اور مجموعی رجحان بلش دکھائی دیتا ہے۔
اہم تکنیکی نکات:
مزاحمت (Resistance):
100.39 فوری رکاوٹ
اس سطح کے اوپر بند ہونے سے مزید تیزی ممکن
سپورٹ (Support):
99.30 ابتدائی سپورٹ
98.60 کے قریب 100-day Simple Moving Average

انڈیکس اس وقت 100-day SMA سے واضح طور پر اوپر ہے، جو طویل مدتی تیزی کا اشارہ دیتا ہے۔
تاہم RSI انڈیکیٹر 72 تک پہنچ چکا ہے، جو بتاتا ہے کہ مارکیٹ اووربوٹ زون میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیزی برقرار رہ سکتی ہے مگر قلیل مدت میں رفتار سست ہو سکتی ہے۔
US Dollar نتیجہ
Dollar ڈالر انڈیکس کی حالیہ مضبوطی بنیادی طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، اور فیڈ کی شرح سود میں کمی کی توقعات میں کمی کی وجہ سے ہے۔
اگر تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں اور مہنگائی کے خدشات بڑھتے ہیں تو امریکی ڈالر کو مزید سپورٹ مل سکتی ہے۔ تاہم آئندہ دنوں میں آنے والا امریکی معاشی ڈیٹا اس رجحان کو مزید واضح کرے گا اور مارکیٹ کے اگلے بڑے موو کا تعین کرے گا۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



