USD/JPY میں مسلسل دوسرا اضافہ، جاپانی ین پر BoJ پالیسی کی غیر یقینی صورتحال کا دباؤ

بدھ کے روز یورپی سیشن کے دوران USD/JPY کرنسی جوڑی میں مسلسل دوسرے دن اضافہ دیکھا گیا۔ اور یہ تقریباً 158.30 کی سطح کے قریب ٹریڈ کرتی رہی۔ جاپانی ین (JPY) پر دباؤ کی بنیادی وجہ Bank of Japan (BoJ) کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ہے۔ جس کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

BoJ کی پالیسی پر غیر یقینی صورتحال

مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ جاپان کی وزیراعظم سنے تاکائیچی ممکنہ طور پر BoJ کو شرح سود میں اضافے کے حوالے سے محتاط رہنے کا مشورہ دے سکتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ ان کی ملاقات BoJ کے گورنر کازوو اوئیڈا سے ہوئی تھی۔ جس میں مزید سخت مانیٹری پالیسی کے ممکنہ اثرات پر خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

اسی طرح BoJ گورنر اوئیڈا نے گزشتہ ہفتے اشارہ دیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معاشی اثرات کے پیش نظر شرح سود کو ایک طویل عرصے تک موجودہ سطح پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں عمومی توقع ہے کہ BoJ اپنی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ تبدیل نہیں کرے گا۔

یہ صورتحال جاپانی ین کو کمزور کر رہی ہے کیونکہ اگر مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ نہیں کرتا۔ تو سرمایہ کار زیادہ منافع والی کرنسیوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

امریکی ڈالر کو جیو پولیٹیکل صورتحال سے سہارا

دوسری جانب امریکی ڈالر (USD) نے بھی اپنی ابتدائی کمزوری کو کسی حد تک کم کیا ہے۔ کیونکہ عالمی سرمایہ کار اب بھی محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کی تلاش میں ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے جس سے ڈالر کو سہارا ملا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی رات کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ جلد ختم ہو سکتا ہے۔ تاہم منگل کو امریکی حکام نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں اور سفارتی مذاکرات کے امکانات محدود ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکہ اور اسرائیل کے حملے بند نہیں ہو جاتے۔ اس بیان نے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

امریکی مہنگائی کے اہم اعداد و شمار پر نظر

اب سرمایہ کاروں کی نظریں آج جاری ہونے والے امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے ڈیٹا پر مرکوز ہیں۔ یہ ڈیٹا فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے اہم اشارے فراہم کر سکتا ہے۔

اگر CPI توقعات سے زیادہ آتا ہے۔ تو اس سے یہ تاثر مضبوط ہو سکتا ہے کہ فیڈرل ریزرو شرح سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے۔ جس سے امریکی ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے اور USD/JPY میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ جمعہ کو جاری ہونے والا Personal Consumption Expenditures (PCE) Price Index بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہوگا کیونکہ یہ فیڈرل ریزرو کا پسندیدہ مہنگائی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔

USD/JPY کے ممکنہ تکنیکی لیولز

تکنیکی اعتبار سے USD/JPY اس وقت ایک مضبوط اپ ٹرینڈ میں دکھائی دیتا ہے۔

اگر جوڑی 158.50 سے اوپر مستحکم ہوتی ہے تو اگلا ہدف 159.00 ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد 160.00 ایک اہم نفسیاتی مزاحمتی سطح ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف اگر قیمت میں کمی آتی ہے تو:

157.50 پہلی سپورٹ ہو سکتی ہے۔

جبکہ 156.80 ایک اہم مضبوط سپورٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

مجموعی مارکیٹ صورتحال

مجموعی طور پر USD/JPY کی موجودہ حرکت تین بنیادی عوامل سے متاثر ہو رہی ہے:

BoJ کی نرم مانیٹری پالیسی کی توقعات

مشرق وسطیٰ میں جیو پولیٹیکل کشیدگی

امریکی مہنگائی کے اہم ڈیٹا کا انتظار

اگر امریکی ڈیٹا مضبوط آتا ہے اور BoJ اپنی نرم پالیسی برقرار رکھتا ہے تو USD/JPY مزید اوپر جا سکتا ہے۔ تاہم اگر مہنگائی میں کمی کے اشارے ملتے ہیں تو ڈالر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جس سے اس جوڑی میں اصلاح دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button