WTI تیل کی قیمت $96 کے قریب مستحکم، آبنائے ہرمز کی بندش نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) Crude Oil خام تیل کی قیمت منگل کے یورپی سیشن کے دوران تقریباً $96.10 فی بیرل کے قریب مستحکم رہی، جہاں اس میں 3% سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی جزوی بندش ہے، جو عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش — عالمی توانائی سپلائی کے لیے بڑا خطرہ
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین آئل ٹرانزٹ روٹس میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اس راستے کی بندش نے مارکیٹ میں سپلائی شاک کا خدشہ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی۔
یو اے ای میں ڈرون حملہ — کشیدگی میں مزید اضافہ
حالیہ رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں ایک ڈرون حملے کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔ اگرچہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس نے توانائی انفراسٹرکچر کے خطرات کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
اس حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کے خام تیل کے بینچ مارکس ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات موجود ہیں۔
امریکی اتحادیوں کا انکار — عالمی سیاست نے قیمتوں کو سہارا دیا
امریکی صدر Donald Trump نے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی حفاظت کے لیے جنگی بحری جہاز تعینات کریں، لیکن بیشتر ممالک نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
اس انکار کے باعث:
عالمی سپلائی چین غیر یقینی کا شکار رہی
مارکیٹ میں خوف و ہراس بڑھا
تیل کی قیمتوں کو مزید سپورٹ ملی
پیر کے دن کی کمی — امید کی ایک کرن
دلچسپ بات یہ ہے کہ پیر کے روز WTI کی قیمت میں 4.25% سے زائد کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ:
کچھ Oil آئل ٹینکرز کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزر گئے
مارکیٹ میں عارضی طور پر سپلائی بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی
بھارت سمیت کئی ممالک اضافی بحری جہازوں کے ذریعے تیل کی ترسیل کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ پس پردہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ — کشیدگی میں کمی کی امید
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ایک براہ راست کمیونیکیشن چینل فعال ہو چکا ہے۔ جو ممکنہ طور پر صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اسی دوران امریکہ ایران کو محدود پیمانے پر تیل برآمد کرنے کی اجازت بھی دے رہا ہے۔ جو مارکیٹ میں مکمل بحران کو روکنے کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟ — WTI Oil آئل کی پیشگوئی
موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے:
Bullish عوامل:
آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش
مشرق وسطیٰ میں جیو پولیٹیکل کشیدگی
سپلائی میں رکاوٹ
Bearish عوامل:
ٹینکرز کی جزوی بحالی
ایران کے ساتھ مذاکرات
سفارتی حل کی امید
اگر کشیدگی برقرار رہی تو WTI قیمت $100+ کی سطح کو بھی چھو سکتی ہے۔
جبکہ کسی بھی سفارتی پیشرفت کی صورت میں قیمتیں دوبارہ $90 کے قریب آ سکتی ہیں۔
نتیجہ
تیل کی عالمی مارکیٹ اس وقت مکمل طور پر جیوپولیٹیکل خبروں کے زیر اثر ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران-امریکہ تعلقات، اور عالمی طاقتوں کا ردعمل آئندہ دنوں میں WTI کی سمت کا تعین کرے گا۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



