USDJPY کی مضبوطی یا خاموش طوفان؟ Tariffs، BoJ Policy اور Forex Market میں نئی کشمکش
Trump Tariffs, US Dollar Pressure and BoJ Rate Expectations Drive Fresh Momentum in Forex Markets
فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں USDJPY اس وقت ایک انتہائی دلچسپ موڑ پر ہے۔ منگل کے ایشیائی سیشن کے دوران، امریکی ڈالر اور جاپانی ین کی جوڑی (USDJPY) اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے تھوڑا نیچے آئی ہے. لیکن ابھی بھی 155.00 کے نفسیاتی لیول (Psychological level) کے قریب مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں (Tariff policies) کے گرد گھومتی غیر یقینی صورتحال ہے،.
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتحال صرف ایک کرنسی جوڑی کی کہانی نہیں. بلکہ عالمی معاشی طاقتوں کے ٹکراؤ کا عکس ہے۔ امریکی تجارتی حکمت عملی، جاپان کی مانیٹری سختی اور سرمایہ کاروں کا Risk Sentiment مل کر USDJPY کو ایک ایسے مقام پر لے آئے ہیں. جہاں اگلا بڑا بریک آؤٹ عالمی سرمایہ کے رخ کا تعین کرے گا۔
دوسری طرف بینک آف جاپان (BoJ) کی شرح سود میں اضافے کی توقعات۔ اس تحریر میں ہم ان تمام عوامل کا گہرائی سے جائزہ لیں گے. جو آنے والے دنوں میں اس کرنسی پیئر کی سمت متعین کریں گے۔
اہم نکات.
-
155.00 کا اہم لیول: USDJPY فی الحال 155.00 کے گرد گھوم رہا ہے. جہاں جاپانی حکام کی جانب سے مداخلت (Intervention) کے خدشات قیمت کو مزید اوپر جانے سے روک رہے ہیں۔
-
ٹرمپ ٹیرف اور عدالتی فیصلہ: امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے ٹیرف کو "غیر قانونی” قرار دیے جانے کے بعد مارکیٹ میں عارضی ہلچل ہے، لیکن ٹرمپ کے متبادل منصوبوں نے ڈالر کو سہارا دیا ہوا ہے۔
-
جاپانی افراطِ زر (Inflation): جاپان کے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے اعداد و شمار توقع سے کم رہے ہیں. جس نے BoJ کے اگلے قدم کے بارے میں مارکیٹ کو کشمکش میں ڈال دیا ہے۔
-
ٹیکنیکل آؤٹ لک: 200 دن کی موونگ ایوریج (200-day EMA) خریداروں کے لیے ایک مضبوط سپورٹ کے طور پر کام کر رہی ہے. جبکہ 155.79 پر سخت مزاحمت (Resistance) موجود ہے۔
کیا USDJPY کی قیمت 155.00 سے اوپر جا سکے گی؟
موجودہ حالات میں USDJPY کا 155.00 سے اوپر ٹھہرنا مشکل نظر آتا ہے. کیونکہ جاپان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے کرنسی کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے مداخلت (Intervention) کا شدید خطرہ موجود ہے۔ اگرچہ امریکی ڈالر کو ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں سے سہارا مل رہا ہے. لیکن 155.80 اور 156.60 کے لیولز پر فروخت کا دباؤ (Selling pressure) بڑھ سکتا ہے۔
ٹرمپ ٹیرف اور امریکی ڈالر پر اس کے اثرات
امریکی سپریم کورٹ (US Supreme Court) نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کو بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی طاقتوں کے ایکٹ (IEEPA) کے غلط استعمال کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس فیصلے نے ابتدائی طور پر امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) کو 97.40 کی سطح تک گرا دیا تھا۔
تاہم، ایک تجربہ کار حکمت عملی ساز (Strategist) کے طور پر میں یہ دیکھ رہا ہوں. کہ مارکیٹ نے اس خبر کو بہت جلد ہضم کر لیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے 15% عالمی ٹیرف کے نئے اعلان نے یہ واضح کر دیا ہے. کہ White House کے پاس اپنے تجارتی ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے دیگر قانونی راستے موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر انڈیکس دوبارہ سنبھل کر 97.66 کے قریب ٹریڈ ہو رہا ہے۔
میں نے 2018-19 کی تجارتی جنگ کے دوران دیکھا ہے کہ جب بھی ٹیرف کے حوالے سے قانونی رکاوٹیں آتی ہیں. مارکیٹ شروع میں گھبراہٹ کا شکار ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی متبادل پالیسی سامنے آتی ہے. ڈالر اپنی "سیف ہیون” (Safe-haven) حیثیت کی وجہ سے دوبارہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال بھی بالکل ویسی ہی ہے۔
بینک آف جاپان (BoJ) اور افراطِ زر کے اعداد و شمار
جاپانی ین (JPY) کی حالیہ کمزوری کی ایک بڑی وجہ جنوری کے افراطِ زر (CPI) کے اعداد و شمار ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر افراط زر کی شرح 1.5% رہی، جو کہ دسمبر کے 2.1% سے نمایاں طور پر کم ہے۔
جاپانی افراطِ زر کا موازنہ
| انڈیکیٹر (Indicator) | جنوری کا ڈیٹا | دسمبر کا ڈیٹا | ماہرین کی توقع |
| ہیڈ لائن CPI (Headline CPI) | 1.5% | 2.1% | 1.7% |
| کور CPI (Ex-Fresh Food) | 2.0% | 2.4% | 2.0% |
یہ سست روی بینک آف جاپان کے لیے شرح سود میں جارحانہ اضافے (Rate hike) کو مشکل بنا سکتی ہے۔ اگر BoJ نے اپنی پالیسی سخت نہ کی تو ین پر دباؤ برقرار رہے گا۔
USDJPY ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis)
ٹیکنیکل چارٹ پر نظر ڈالیں تو USDJPY ایک دلچسپ پیٹرن بنا رہا ہے۔
سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز (Support & Resistance)
-
اہم سپورٹ (Support): 200 دن کی ایکسپونینشل موونگ ایوریج (200-Day EMA) جو کہ 152.63 پر ہے، اس وقت سب سے بڑی دفاعی لائن ہے۔ جب تک قیمت اس سے اوپر ہے. رجحان (Trend) مثبت رہے گا۔
-
فبوناچی لیولز (Fibonacci Levels): قیمت نے 38.2% ریٹریسمنٹ لیول کو عبور کر لیا ہے. جو کہ تیزی (Bullish momentum) کی علامت ہے۔
-
اہم مزاحمت (Resistance): اگلا بڑا ہدف 50% فبوناچی لیول ہے. جو 155.79 پر واقع ہے۔ اس کے بعد 156.64 کا لیول اہم ہوگا۔

مومینٹم انڈیکیٹرز (Momentum Indicators)
-
MACD: ایم اے سی ڈی لائن سگنل لائن سے اوپر نکل رہی ہے. اور ہسٹوگرام (Histogram) مثبت زون میں داخل ہو رہا ہے. جو خریداروں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
-
RSI: آر ایس آئی (Relative Strength Index) 50 کے قریب ہے، جو ظاہر کرتا ہے. کہ مارکیٹ نہ تو بہت زیادہ خریدی گئی ہے (Overbought) اور نہ ہی بہت زیادہ بیچی گئی (Oversold)۔ یہ ایک سائیڈ ویز یا کنسولیڈیشن (Consolidation) کی طرف اشارہ ہے۔
MACD Indicator صفر لائن کے قریب مثبت زون میں داخل ہو چکا ہے جبکہ Histogram میں ہلکی بہتری دیکھی جا رہی ہے، جو بتاتی ہے کہ مارکیٹ آہستہ آہستہ رفتار پکڑ رہی ہے۔
دوسری طرف RSI Indicator تقریباً 50 پر موجود ہے، یعنی خرید اور فروخت کا دباؤ برابر ہے۔ اگر قیمت 155.79 عبور کرتی ہے. تو اگلا ہدف 156.64 ہو سکتا ہے جبکہ مضبوط بریک آؤٹ کی صورت میں 157.86 تک راستہ کھل سکتا ہے۔
کیا جاپانی حکومت مداخلت کرے گی؟
تاریخی طور پر، جب بھی USDJPY لیولز 155.00 اور 160.00 کے درمیان پہنچتا ہے. جاپانی حکام کے بیانات میں سختی آ جاتی ہے۔ ٹریڈرز کو "زبانی مداخلت” (Verbal intervention) پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر ین کی قدر میں اچانک بڑی کمی آتی ہے. تو بینک آف جاپان براہ راست مارکیٹ سے ین خرید کر ڈالر بیچ سکتا ہے. جس سے USDJPY کی قیمت میں 300 سے 500 پپس کی اچانک گراوٹ آ سکتی ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی (Market Outlook & Strategy)
ایک ماہر کے طور پر، میرا مشورہ ہے کہ اس جوڑی میں "بریک آؤٹ” (Breakout) کا انتظار کریں۔
-
خریداری کی صورت میں: اگر قیمت 155.80 کے اوپر موم بتی (Candle) بند کرتی ہے. تو 157.80 تک کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
-
فروخت کی صورت میں: اگر 152.15 کا لیول ٹوٹتا ہے. تو یہ ایک بڑے رجحان کی تبدیلی (Trend reversal) کا اشارہ ہوگا۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ریٹیل ٹریڈرز 155.00 جیسے لیولز پر جذباتی ہو کر بڑی پوزیشنز لے لیتے ہیں۔ میری نصیحت یہ ہے کہ ہمیشہ اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال کریں، کیونکہ مداخلت کی خبر کسی بھی وقت مارکیٹ کا رخ بدل سکتی ہے۔
اختتامیہ.
مجموعی طور پر USDJPY اس وقت ایک کشمکش کی حالت میں ہے۔ ایک طرف امریکی معیشت کی مضبوطی اور ٹرمپ کی پالیسیاں ڈالر کو سہارا دے رہی ہیں، تو دوسری طرف جاپانی مداخلت کا خوف اور BoJ کی ممکنہ پالیسی تبدیلی ین کو گرنے سے بچا رہی ہے۔ ٹریڈرز کو چاہیے کہ وہ عالمی سیاسی خبروں اور خاص طور پر ٹیرف سے متعلق عدالتی معاملات پر گہری نظر رکھیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بینک آف جاپان شرح سود میں اضافہ کرے گا یا ڈالر کی برتری برقرار رہے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



