AUDUSD دباؤ میں، RBA فیصلہ اور ایران کشیدگی.
Aussie Holds Ground as US Dollar Strength and Iran Tensions Shape Market Direction
آسٹریلوی ڈالر (AUD) اور امریکی ڈالر (USD) کی جوڑی، جسے فاریکس مارکیٹ میں AUDUSD کہا جاتا ہے. اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف آسٹریلیا کے اندرونی معاشی حالات اور ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کا سخت رویہ ہے. تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس بلاگ پوسٹ میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے. کہ آنے والے دنوں میں AUDUSD کی سمت کیا ہو سکتی ہے۔
مختصر خلاصہ
-
RBA کا فیصلہ: مارکیٹ کو توقع ہے کہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر سکتا ہے. جو آسٹریلوی ڈالر کو سہارا دے گا۔
-
عالمی جغرافیائی سیاست: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے سرمایہ کار "سیف ہیون” (Safe-haven) اثاثوں، خاص طور پر امریکی ڈالر کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
-
ٹیکنیکل صورتحال: AUDUSD جوڑی اس وقت 0.7150 کے قریب مستحکم ہے. لیکن 0.7200 کی سطح کو عبور کرنے کے لیے اسے مضبوط محرکات کی ضرورت ہے۔
-
چین کا اثر: چین کی معیشت اب آسٹریلیا کے لیے بہت زیادہ تیزی کا سبب نہیں بن رہی. بلکہ ایک مستحکم قوت کے طور پر کام کر رہی ہے۔
کیا RBA شرح سود میں اضافہ کرے گا؟
ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کا آج کا اجلاس AUDUSD کے لیے سب سے اہم ایونٹ ہے۔ آسٹریلیا میں افراط زر (Inflation) کی شرح ابھی بھی 4.1% پر ہے، جو بینک کے ہدف سے کافی زیادہ ہے۔ مارکیٹ میں 82% امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 4.10% کر دیا جائے گا۔
مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ RBA شرح سود میں اضافہ کرے گا. کیونکہ ملکی سطح پر افراط زر ابھی تک قابو میں نہیں آئی۔ تاہم، بورڈ کے ارکان کے درمیان تقسیم (5 بمقابلہ 4 ووٹ) یہ ظاہر کرتی ہے. کہ مستقبل میں مزید اضافے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور امریکی ڈالر کا غلبہ
خلیج فارس اور خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ جب بھی عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے. سرمایہ کار امریکی ڈالر (USD) خریدنا شروع کر دیتے ہیں۔
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) اس وقت 98.50 کی سطح پر واپس آ گیا ہے. جس کی وجہ سے آسٹریلوی ڈالر جیسی "رسک کیلئے حساس” (Risk-sensitive) کرنسیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں. تو AUDUSD اپنی حالیہ بلندیوں سے نیچے گر سکتا ہے۔
آسٹریلیا کی معاشی حالت: کیا دراڑیں نظر آ رہی ہیں؟
آسٹریلیا کی معیشت اب بھی کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے. لیکن کچھ اشارے بتاتے ہیں کہ رفتار سست ہو رہی ہے:
-
لیبر مارکیٹ: بے روزگاری کی شرح 4.3% پر مستحکم ہے، لیکن نئی ملازمتوں کی تعداد 50 ہزار سے کم ہو کر 17.9 ہزار رہ گئی ہے۔
-
خریداری کے اشارے (PMI): مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبے بمشکل ترقی کی حد (50.0) سے اوپر ہیں۔
-
تجارتی سرپلس: فروری میں تجارتی سرپلس 5.686 ارب آسٹریلوی ڈالر رہا، جو ایک مثبت پہلو ہے۔
چین کا کردار: اب وہ انجن نہیں رہا
ماضی میں آسٹریلوی ڈالر اور AUDUSD جوڑی کی قیمت کا انحصار براہِ راست چین کی معاشی نمو پر ہوتا تھا۔ لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ چین کی جی ڈی پی (GDP) ترقی تو کر رہی ہے (5.0%) لیکن وہ جوش و خروش ختم ہو گیا ہے. جو پہلے دیکھا جاتا تھا۔ چین اب آسٹریلیا کو نیچے گرنے سے تو بچا رہا ہے. لیکن اسے اوپر لے جانے والا انجن نہیں رہا۔
دراصل چین آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے. جو کہ خام لوہے اور ڈیری پروڈکٹس کا سب سے بڑا درامد کنندہ ہے. آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر کی سب سے زیادہ طلب بھی Chinese Markets سے ہی پیدا ہوتی ہیں.
AUDUSD کا تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): اہم لیولز
تکنیکی اعتبار سے AUDUSD اس وقت 0.7169 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
-
مزاحمت (Resistance): پہلا بڑا ہدف 0.7188 ہے، جس کے بعد 0.7283 کی سطح اہم ہے۔
-
حمایت (Support): نیچے کی طرف 55 روزہ موونگ ایوریج (SMA) 0.7064 پر ہے، اور اس کے بعد 0.7007 ایک اہم نفسیاتی سطح ہے۔
اگر AUDUSD جوڑی 0.7188 سے اوپر بند ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے. تو یہ ایک مضبوط تیزی کا اشارہ ہوگا۔ لیکن اگر یہ 0.7000 سے نیچے گرتی ہے. تو مندی کا رجحان غالب آ سکتا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی اور ممکنہ منظر نامے
بطور ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ، میں تین ممکنہ منظر نامے دیکھ رہا ہوں.
-
تیزی کا منظر نامہ (Bull Case): اگر RBA شرح سود بڑھاتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں حالات پرسکون ہو جاتے ہیں. تو AUDUSD 0.7200 کو چھو سکتا ہے۔
-
مندی کا منظر نامہ (Bear Case): اگر RBA حیران کن طور پر خاموشی اختیار کرتا ہے. اور ایران-امریکہ کشیدگی بڑھتی ہے، تو قیمت 0.6900 تک گر سکتی ہے۔
-
مستحکم منظر نامہ (Consolidation): قیمت 0.7100 اور 0.7180 کے درمیان ہی رہے گی. جب تک کوئی بڑی خبر سامنے نہیں آتی۔
اختتامیہ.
خلاصہ یہ ہے کہ AUDUSD کی بنیادیں مضبوط ہیں. لیکن عالمی حالات اسے آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں۔ RBA کا فیصلہ آج کی ٹریڈنگ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ ایک ٹریڈر کے طور پر، آپ کو صرف چارٹس پر نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست (Geopolitics) پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا RBA کا اضافہ آسٹریلوی ڈالر کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا یا عالمی کشیدگی اسے نیچے گرا دے گی؟ نیچے کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



