US Israel Attack on Iran کے بعد مشرق وسطیٰ بھڑکتی ہوئی آگ کی لپیٹ میں ، ہم اب تک کیا جانتے ہیں.

Leadership Strikes, Iran Retaliation and Regional Escalation Explained

فروری کے آخری ایام اور یکم مارچ 2026 کی صبح مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے لیے ایک زلزلے سے کم ثابت نہیں ہوئی۔ US Israel attack on Iran میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے خلاف ایک ایسی فوجی مہم کا آغاز کیا ہے. جس نے خطے کے پورے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

"آپریشن ایپک فیوری” (Operation Epic Fury) کے نام سے شروع ہونے والی اس کارروائی کا بنیادی مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کو جڑ سے اکھاڑنا اور اس کی عسکری قیادت کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔ اس وقت سب سے بڑی خبر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ہے. جس کی تصدیق ایرانی سرکاری میڈیا بھی کر چکا ہے۔

خامنائی کی شہادت کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک بھڑکتی ہوئی آگ کی زد میں آ چکا ہے. Iranian Supreme Leader کی شہادت اور وہ بھی US Israel attack on Iran کے پہلے ہی روز، کے کتنے دور رس اثرات مرتب ہونگے. اسکا اندازہ تو آنے والے دنوں میں ہی لگایا جا سکے گا. تاہم ایران کی طرف سے ہمسایہ عرب ریاستوں کے خلاف حملوں کی شدت سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تنازعہ محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے.

اہم نکات (Key Points)

  • امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر "آپریشن ایپک فیوری” کے تحت سینکڑوں فضائی حملے کیے۔

  • ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور 40 سے زائد اعلیٰ حکام کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

  • جوابی کارروائی میں ایران نے خلیجی ممالک (بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات) میں امریکی اڈوں پر سینکڑوں میزائل داغے ہیں۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں 13 فیصد تک کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ سونا (Gold) نئی بلندیوں کی طرف گامزن ہے۔

US Israel attack on Iran کا آغاز اور "آپریشن ایپک فیوری” کی تفصیلات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آپریشن ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) کے مطابق، اس حملے میں ایران کے میزائل بنانے والے کارخانوں، فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) اور انقلابی گارڈز (IRGC) کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل نے اس آپریشن کو "آپریشن رورنگ لائن” (Operation Roaring Lion) کا نام دیا ہے. جس کا مقصد اسرائیل کی بقا کو لاحق خطرات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

ایرانی حکومت کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اتوار کے روز  باضابطہ بیان جاری کیا ہے. کہ آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ان کے ساتھ ایران کے وزیرِ دفاع اور آئی آر جی سی کے سربراہ سمیت کئی اہم کمانڈر بھی مارے گئے ہیں۔ ایران نے ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے. اور ایک عبوری قیادت تشکیل دی گئی ہے. جو نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرے گی۔

فنانشل مارکیٹس میں کام کرتے ہوئے میں نے دیکھا ہے. کہ جب کسی ملک کی ‘Top Leadership’ کو اچانک ہٹایا جاتا ہے، تو اس ملک کی کرنسی اور مقامی اثاثوں کی قدر تقریباً صفر کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ ایران کے معاملے میں، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور قیادت کے خاتمے نے عالمی سرمایہ کاروں میں یہ خوف پیدا کر دیا ہے. کہ اب خطے میں ‘پاور ویکیوم’ پیدا ہوگا. جو طویل مدتی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

ایران کی جوابی کارروائی اور علاقائی اثرات

ایران نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے فوری طور پر بحرین، کویت، قطر، اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی عسکری تنصیبات پر درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے ہیں۔ اردن اور اسرائیل کے شہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں امریکی اور برطانوی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے. جس سے عالمی توانائی کی ترسیل میں شدید رکاوٹ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

برطانیہ اور یورپی طاقتوں کا موقف

برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے (بشمول قبرص) استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ فرانس اور جرمنی نے بھی ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے. کہ وہ خلیج فارس میں اپنے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں. اور اگر ایران نے اپنے حملے جاری رکھے تو وہ بھی براہِ راست فوجی مداخلت کر سکتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے اہم حکمتِ عملی (Trading Strategy)

موجودہ حالات میں سب سے اہم اصول "Capital Preservation” یعنی اپنے اصل سرمائے کو بچانا ہے۔ جب تک مشرقِ وسطیٰ سے فائر بندی (Ceasefire) یا صورتحال کے ٹھہراؤ کی خبر نہیں آتی. مارکیٹ میں بڑی پوزیشن لینے سے گریز کریں۔

مارکیٹ کے لیے "واچ لسٹ” (Watchlist)

  1. تیل کی قیمتیں: اگر قیمتیں مسلسل 100 ڈالر سے اوپر رہتی ہیں، تو عالمی افراطِ زر (Inflation) بڑھے گی۔

  2. ڈالر انڈیکس (DXY): ڈالر کی مضبوطی دیگر کرنسیوں (جیسے روپیہ) کے لیے خطرہ ہے۔

  3. سیاسی بیانات: صدر ٹرمپ کے اگلے بیانات مارکیٹ کی سمت متعین کریں گے۔

مستقبل کا منظرنامہ

US Israel attack on Iran محض ایک فوجی آپریشن نہیں. بلکہ ایک جیو پولیٹیکل ری سیٹ (Geopolitical Reset) ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا دور ختم ہو چکا ہے. اور اب دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا ایران اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا. یا ایک نئی اور زیادہ جارحانہ قیادت سامنے آئے گی۔

مالیاتی دنیا کے لیے یہ ایک ایسا موڑ ہے جہاں پرانے تمام تخمینے (Projections) ناکام ہو چکے ہیں۔ ایک سمجھدار سرمایہ کار وہی ہے. جو اس وقت جذباتی ہونے کے بجائے "ڈیٹا” اور "مارکیٹ ری ایکشن” کو دیکھ کر فیصلے کرے۔ آنے والے چند ہفتے عالمی معیشت کے لیے انتہائی نازک ثابت ہوں گے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ایران کی نئی قیادت مذاکرات کا راستہ اختیار کرے گی. یا یہ جنگ ایک عالمی تنازعے کی شکل اختیار کر لے گی؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔

Source: Reuters | Breaking International News & Views

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button