کیا US Iran Deal دنیا کی معاشی سمت بدل دے گی؟

Trump’s final-stage Iran negotiations spark hopes of lower oil prices

عالمی جیو پولیٹکس (Geopolitics) اور فنانشل مارکیٹس اس وقت ایک انتہائی اہم موڑ پر کھڑی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے آخری مراحل میں ہونے کے اعلان اور امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات نے عالمی سرمایہ کاروں کو ایک بڑے سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے: کیا US Iran Deal دنیا کی معاشی سمت بدل دے گی؟

اگر یہ ممکنہ معاہدہ طے پا جاتا ہے. تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور لبنان جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہوگا. بلکہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے کھلنے اور ایران پر سے تجارتی پابندیاں ہٹنے سے عالمی اقتصادی منظرنامہ اور سپلائی چین مکمل طور پر بدل جائے گی۔

فنانشل مارکیٹ کے ایک طویل تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں. کہ اس واحد جیو پولیٹیکل ڈیولپمنٹ نے پہلے ہی خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔ اس تفصیلی آرٹیکل میں ہم اس ممکنہ تاریخی معاہدے کی باریکیوں، مارکیٹ کے ردعمل اور اس کے دور رس اثرات کا احاطہ کریں گے.

اہم نکات.

  • مذاکرات آخری مراحل میں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ایک 60 روزہ عبوری معاہدہ (Memorandum of Understanding) طے پانے کے قریب ہے. جس سے مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم ہو سکتی ہے۔

  • آبنائے ہرمز اور تیل کی سپلائی: معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے مال بردار جہازوں کے لیے کھول دیا جائے گا. اور ایران کو پابندیوں سے استثنیٰ کے ساتھ تیل بیچنے کی اجازت ہوگی۔

  • مارکیٹ کا شدید ردعمل: معاہدے کی امید پر عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 5 فیصد گر کر 98.36 ڈالر اور امریکی خام تیل 3.5 فیصد کمی کے ساتھ 91.50 ڈالر پر آ گیا ہے. جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس (Nikkei 225) تاریخ میں پہلی بار 65,000 کی سطح عبور کر گیا ہے۔

  • ایران اور اسرائیل کے تحفظات: ایرانی حکام کے قریبی ذرائع (تسنیم اور فارس ایجنسیاں) منجمد اثاثوں کی فوری رہائی پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں. جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنان جنگ بندی کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات ٹرمپ کے سامنے رکھے ہیں۔

  • پاکستان کا کلیدی کردار: پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم ثالث (Mediator) کے طور پر ابھرا ہے. اور تہران نے پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو اپنے آخری مطالبات پہنچائے ہیں۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کس قسم کی مفاہمت ہو رہی ہے؟

امریکہ اور ایران کے درمیان اس وقت ایک 60 روزہ عبوری مفاہمت کی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر بات چیت ہو رہی ہے. جسے فریقین کی رضامندی کے ساتھ US Iran Deal کی صورت میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا باضابطہ خاتمہ، لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کرنا ہے۔

امریکی حکام اور معتبر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ جیسے Axios کے مطابق، یہ US Iran Deal ایک دوطرفہ لوپ (give-and-take) پر مبنی ہے۔ واشنگٹن ایران پر عائد سخت ترین اقتصادی پابندیوں میں عارضی استثنیٰ دینے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہا ہے. جبکہ اس کے بدلے میں تہران کو خطے میں جہاز رانی کی آزادی اور اپنے جوہری پروگرام پر رعایتیں دینا ہوں گی۔ اگرچہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے. کہ "وقت امریکہ کے حق میں ہے” اور وہ جلد بازی نہیں کریں گے. لیکن پسِ پردہ سفارت کاری انتہائی تیز ہو چکی ہے۔

ممکنہ US Iran Deal کی تفصیلی شقیں اور خاکہ

عالمی مالیاتی مارکیٹوں کے تجزیہ کاروں کے لیے اس US Iran Deal کے مسودے کی ایک ایک شق انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ آئیے ان اہم نکات کا جائزہ لیتے ہیں. جو اس وقت مذاکرات کی میز پر زیرِ بحث ہیں:

1۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا اور بحری تجارتی راستے

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی لائن کی شہ رگ ہے۔ دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت:

  • ایران آبنائے ہرمز کو تمام بین الاقوامی مال بردار بحری جہازوں کے لیے بغیر کسی ٹول یا ٹیکس کے کھول دے گا۔

  • بحری جہازوں کی گزر گاہ کو جنگ سے پہلے کی سطح تک بحال کیا جائے گا۔

  • تاہم، ایرانی پریس (مثلاً تسنیم نیوز) کے مطابق، ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری (Sovereignty) پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا. بلکہ یہ صرف تجارتی آسانی کے لیے ایک اقدام ہوگا۔

2۔ ایرانی تیل کی فروخت اور پابندیوں کا خاتمہ

امریکہ اس 60 روز کی مدت کے دوران ایران کو عالمی مارکیٹ میں آزادانہ طور پر خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دے گا۔ اس کے بدلے میں ایرانی بندرگاہوں کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔ مالیاتی اسٹریٹجسٹ کے طور پر یہ بات واضح ہے. کہ مارکیٹ میں ایرانی تیل کی باقاعدہ واپسی سپلائی کے جھٹکے (Supply Shock) کو کم کرے گی. جس سے افراطِ زر (Inflation) کے عالمی دباؤ میں کمی آئے گی۔

3۔ جوہری پروگرام کا مستقبل اور افزودہ یورینیئم

میڈیا رپورٹس میں تضاد پایا جاتا ہے. جو مارکیٹ میں غیریقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے:

  • امریکی موقف (Axios رپورٹ): ایران زبانی طور پر اس بات پر راضی ہوا ہے. کہ وہ یورینیئم کی افزودگی (Uranium Enrichment) کو معطل کرے گا اور اپنے موجودہ ذخیرے کو کم کرنے کے لیے ٹھوس مذاکرات کرے گا۔

  • ایرانی موقف (فارس نیوز): ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مسودے میں جوہری پروگرام سے متعلق کوئی حتمی شق شامل نہیں ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ تمام جوہری معاملات اس 60 روزہ عبوری معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد کے لیے ملتوی کیے گئے ہیں. اور ابھی تنصیبات بند کرنے یا سازوسامان واپس لینے کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔

4۔ منجمد اثاثوں کی رہائی اور عدم اعتماد کا عنصر

ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے امریکی پابندیوں کے باعث بین الاقوامی بینکوں میں منجمد ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ان اثاثوں کا ایک حصہ فوری طور پر جاری کیا جائے. جبکہ امریکہ اسے تہران کے اگلے اقدامات اور تصدیق (Verification) سے جوڑ رہا ہے۔ ایران کی مذاکراتی ٹیم نے واشنگٹن پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے. کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ ماضی کی طرح عبوری معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔

اسرائیل کے تحفظات اور مشرق وسطیٰ کی جیو پولیٹکس

اس ممکنہ US Iran Deal کی راہ میں سب سے بڑی سفارتی رکاوٹ اسرائیل کے تحفظات ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں اس معاہدے کے دائرہ کار کو لبنان جنگ تک بڑھانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل کے بنیادی خدشات ممکنہ طور پر درج ذیل ہو سکتے ہیں.

  • یک طرفہ جنگ بندی کا خوف: اسرائیل کا مؤقف ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ بندی یک طرفہ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر حزب اللہ نے دوبارہ مسلح ہونے یا حملہ کرنے کی کوشش کی. تو اسرائیل کے پاس جوابی کارروائی کا پورا حق محفوظ ہونا چاہیے۔

  • ایران کو معاشی ریلیف: اسرائیل سمجھتا ہے کہ ایران پر سے پابندیاں ہٹانے اور تیل بیچنے کی اجازت دینے سے تہران کو دوبارہ معاشی استحکام حاصل ہوگا. جو خطے میں اس کے حامی گروپوں کو مضبوط کر سکتا ہے۔

تاہم، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس وقت امریکی اور عالمی معیشت کے وسیع تر مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں. جس کے لیے خام تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنا اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا ناگزیر ہے۔

فنانشل مارکیٹس کا ممکنہ US Iran Deal پر ردعمل: خام تیل اور اسٹاک مارکیٹس

جیسا کہ ایک تجربہ کار فنانشل مارکیٹ اسٹریٹجسٹ توقع کرتا ہے. مارکیٹیں ہمیشہ خبروں پر پہلے ردعمل دیتی ہیں اور حقیقت پر بعد میں ایڈجسٹ ہوتی ہیں۔ جیسے ہی صدر ٹرمپ نے سنیچر کے روز بیان دیا. کہ معاہدہ "بڑی حد تک طے ہو چکا ہے”، پیر کی صبح عالمی مارکیٹس میں زبردست ہلچل دیکھی گئی۔

خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ.

خام تیل کی قیمتیں، جو طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے بڑھی ہوئی تھیں. یکدم نیچے آ گئیں۔

تیل کی قسم (Oil Benchmark) پرانی قیمت (تقریبی) نئی قیمت (پیر کی صبح) فیصد کمی (Percentage Drop)
Brent Crude (برینٹ خام تیل) $103.50 $98.36 5.0%
WTI Crude (امریکی خام تیل) $94.80 $90.70 ٦%

یہ کمی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مارکیٹ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور ایرانی سپلائی کی واپسی کو مائع پریمیم (Liquidity Premium) کے خاتمے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

WTI Crude Oil as on 25th May 2026 after US Iran Deal speculations
WTI Crude Oil as on 25th May 2026 after US Iran Deal speculations

ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تاریخی تیزی

دوسری جانب، توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ خبر کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ جاپان کا اہم اسٹاک انڈیکس Nikkei 225 پچیس فیصد (2.5%) کے زبردست اچھال کے ساتھ تاریخ میں پہلی بار 65,000 پوائنٹس کی نفسیاتی اور تاریخی سطح کو عبور کر گیا۔

جاپانی معیشت جو کہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرتی ہے، نے آبنائے ہرمز کے جلد کھلنے کی توقع کا جشن منایا۔

پیر کے روز برطانیہ اور امریکہ کی مالیاتی مارکیٹیں (London Stock Exchange اور New York Stock Exchange) سرکاری تعطیل کی وجہ سے بند ہیں. جس کا مطلب ہے کہ اصل معاشی طوفان اور حجم (Volume) منگل کے روز دیکھنے کو ملے گا جب مغربی سرمایہ کار مارکیٹ میں داخل ہوں گے۔

اختتامیہ.

ممکنہ US Iran Deal عالمی اقتصادیات کے لیے ایک بہت بڑا گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ جہاں صدر ٹرمپ معاشی مفادات کو سامنے رکھ کر محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، ایران کا عدم اعتماد اور اسرائیل کے تحفظات اس راستے کے بڑے پتھر ہیں۔

مالیاتی مارکیٹوں نے اس خبر کا مثبت خیرمقدم کیا ہے، لیکن ٹریڈرز کو یاد رکھنا چاہیے. کہ جیو پولیٹیکل مذاکرات میں آخری منٹ کی تبدیلیاں مارکیٹ کا رخ یکسر بدل سکتی ہیں۔ پاکستانی مارکیٹ کے شرکاء کے لیے یہ وقت عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے اور اپنے پورٹ فولیو کو متنوع (Diversify) رکھنے کا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے، کیا US Iran Deal دنیا کی معاشی سمت بدل دے گی؟ کیا امریکہ اور ایران واقعی ایک پائیدار امن معاہدے پر دستخط کر پائیں گے، یا ماضی کی طرح یہ کوشش بھی عدم اعتماد کی نذر ہو جائے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔

 

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button