Gold قیمت مستحکم، ڈالر کمزور مگر اضافہ محدود
Gold سونے کی قیمت $4,550 سے اوپر مستحکم، ڈالر کی کمزوری کے باوجود تیزی محدود
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے (Gold) کی قیمت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ہفتے کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، تاہم یہ تیزی محدود رہی۔ XAU/USD $4,550 سے اوپر برقرار ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ میں خریدار اب بھی موجود ہیں، لیکن مضبوط بُلش ٹرینڈ کے لیے مزید محرکات درکار ہیں۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران Gold سونے کی قیمت $4,580 کے قریب پہنچنے کے بعد واپس کچھ نیچے آئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس وقت سونے کی حرکت بنیادی طور پر دو بڑے عوامل کے درمیان پھنسی ہوئی ہے: ایک طرف امریکی ڈالر کی کمزوری، اور دوسری جانب فیڈرل ریزرو کی ممکنہ سخت مانیٹری پالیسی۔
امریکہ-ایران کشیدگی میں کمی: Gold سونے کے لیے سپورٹ یا خطرہ؟
حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی پیش رفت نے عالمی مارکیٹ میں مثبت جذبات کو فروغ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک 60 دن کے سیزفائر اور اس دوران اہم بحری راستے "آبنائے ہرمز” کو کھولنے پر غور کر رہے ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے عالمی مہنگائی کے خدشات میں بھی کمی آئی ہے۔ جب مہنگائی کے خطرات کم ہوتے ہیں تو سرمایہ کار عموماً محفوظ سرمایہ کاری جیسے سونے کی طرف کم مائل ہوتے ہیں۔ تاہم، اس صورتحال میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ Gold سونا پھر بھی مضبوط سطح پر برقرار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ ابھی مکمل طور پر پُرسکون نہیں ہوئی۔
مزید برآں، امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان کہ ایران کے ساتھ معاہدہ جلد بازی میں نہیں کیا جائے گا اور پابندیاں برقرار رہیں گی، اس امید کو محدود کر دیتا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات بھی مکمل معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، جس کے باعث Gold سونا اپنی محفوظ حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
امریکی ڈالر کی کمزوری اور اس کے اثرات
امریکی ڈالر پر حالیہ دنوں میں دباؤ دیکھا گیا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں کم لیکویڈیٹی ہے۔ جب بانڈ ییلڈز گرتی ہیں تو سرمایہ کار متبادل اثاثوں جیسے سونے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، کیونکہ سونا سود نہیں دیتا مگر قیمت میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔
تاہم، ڈالر کی کمزوری مکمل نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ Federal Reserve کی جانب سے مستقبل میں شرح سود میں اضافے کی توقعات ہیں۔ اگر فیڈ شرح سود بڑھاتا ہے تو ڈالر مضبوط ہو سکتا ہے، جو سونے کی قیمت کے لیے منفی عنصر ہوتا ہے۔
اسی کشمکش کی وجہ سے Gold سونے کی قیمت ایک محدود رینج میں ٹریڈ کر رہی ہے، جہاں ہر مثبت خبر کے بعد کچھ نہ کچھ دباؤ بھی سامنے آ جاتا ہے۔
فیڈرل ریزرو کی پالیسی: سونے کے لیے سب سے بڑا خطرہ؟
مالیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ 2026 میں فیڈرل ریزرو شرح سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر امریکی معیشت مضبوط رہتی ہے اور مہنگائی مکمل طور پر قابو میں نہیں آتی۔ بلند شرح سود کا مطلب ہے کہ سرمایہ کار زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی طرف جائیں گے، جیسے بانڈز، جس سے Gold سونے کی طلب کم ہو سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سونے میں کسی بھی بڑی تیزی سے پہلے سرمایہ کار محتاط ہیں۔ اور واضح سگنل کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب تک فیڈ کی پالیسی نرم نہیں ہوتی، سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ مشکل نظر آتا ہے۔
ٹیکنیکل تجزیہ: سونا کس سمت جا سکتا ہے؟
ٹیکنیکل چارٹ کے مطابق سونا اس وقت ایک ڈاؤن ورڈ چینل کے اندر ٹریڈ کر رہا ہے۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مجموعی رجحان اب بھی کمزور ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ بحالی دیکھی گئی ہے۔ لیکن یہ ابھی تک مکمل ٹرینڈ ریورسل نہیں ہے۔
چار گھنٹے کے چارٹ پر 200 ای ایم اے اور چینل کی اوپری حد تقریباً $4,650 کے قریب واقع ہے۔ جو ایک مضبوط ریزسٹنس زون بناتا ہے۔ جب تک قیمت اس سطح کو مضبوطی سے عبور نہیں کرتی۔ تب تک کسی بڑی تیزی کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب، $4,360 ایک اہم سپورٹ لیول ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے نیچے جاتی ہے تو مزید گراوٹ کا امکان بڑھ جائے گا۔ اور سونا ایک بار پھر دباؤ میں آ سکتا ہے۔
آر ایس آئی انڈیکیٹر درمیانی سطح پر ہے، جو ظاہر کرتا ہے۔ کہ مارکیٹ میں نہ تو زیادہ خریداری ہوئی ہے۔ اور نہ ہی زیادہ فروخت، جبکہ MACD مثبت ہے لیکن مضبوط نہیں۔ جو کمزور مومینٹم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
آنے والے دنوں میں سونے کی سمت کیا ہوگی؟
سونے کی مستقبل کی سمت کا دارومدار چند اہم عوامل پر ہوگا۔ سب سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت ہے۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے۔ تو عالمی خطرات کم ہوں گے اور سونے کی قیمت پر دباؤ آ سکتا ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں۔ یا کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو سونا تیزی سے اوپر جا سکتا ہے۔
دوسرا اہم عنصر امریکی ڈالر اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی ہے۔ اگر فیڈ نرم رویہ اختیار کرتا ہے یا شرح سود میں کمی کی بات کرتا ہے۔ تو سونا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن اگر سخت پالیسی جاری رہتی ہے۔ تو سونے کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
مختصر مدت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سونا $4,450 سے $4,650 کے درمیان رہ سکتا ہے۔ اور کسی بھی واضح بریک آؤٹ کے لیے مارکیٹ کو مضبوط بنیادی محرک درکار ہوگا۔
نتیجہ: Gold سونا مستحکم مگر فیصلہ کن مرحلے میں
موجودہ صورتحال میں سونا ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ جہاں بنیادی اور تکنیکی عوامل ایک دوسرے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ امریکی ڈالر کی کمزوری اور جیوپولیٹیکل خدشات سونے کو سہارا دے رہے ہیں۔ جبکہ فیڈ کی سخت پالیسی اور ممکنہ امن معاہدے کی امیدیں اس کی تیزی کو محدود کر رہی ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے یہ وقت محتاط رہنے کا ہے، کیونکہ مارکیٹ کسی بھی وقت بڑی حرکت کر سکتی ہے۔ واضح ٹرینڈ کے لیے ضروری ہے کہ قیمت اہم ریزسٹنس یا سپورٹ لیول کو بریک کرے۔ جس کے بعد ہی اگلی سمت کا تعین ہوگا۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔


