Gold میں مزید گراوٹ کا خدشہ

سونے کی قیمت کیوں دباؤ میں ہے؟ مکمل تجزیہ

عالمی مالیاتی منڈیوں میں gold price ایک بار پھر کمزوری کا شکار ہے، جہاں XAU/USD جوڑی $4,500 کے اہم نفسیاتی لیول کے قریب رہتے ہوئے بھی واضح bearish دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں مارکیٹ کی سمت بنیادی طور پر دو بڑے عوامل نے طے کی ہے: مضبوط امریکی ڈالر اور Federal Reserve کی سخت مانیٹری پالیسی۔ ان دونوں عوامل نے مل کر gold market کی کشش کو کم کر دیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی سونے سے ہٹ کر ڈالر کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

Strong US Dollar اور Gold Price کا الٹا تعلق

مالیاتی منڈیوں میں ایک بنیادی اصول ہے کہ gold price اور امریکی ڈالر کے درمیان عموماً inverse تعلق ہوتا ہے۔ جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

اس وقت امریکی ڈالر چھ ہفتوں کی بلند سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جس کی بڑی وجہ فیڈ کی جانب سے سخت پالیسی کی توقعات ہیں۔ سرمایہ کار اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ 2026 میں شرح سود میں کمی کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں، جبکہ اضافہ ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

یہ صورتحال gold analysis کے مطابق اس لیے اہم ہے کیونکہ:

سونا کوئی منافع یا yield نہیں دیتا، جبکہ بلند شرح سود والے اثاثے سرمایہ کاروں کو بہتر منافع فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار سونے کی بجائے امریکی بانڈز اور ڈالر کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے gold price مسلسل دباؤ میں ہے۔

Federal Reserve Policy اور Gold Market پر اثرات

Federal Reserve کی حالیہ میٹنگ کے منٹس نے واضح کر دیا ہے کہ مرکزی بینک افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھنے کے حق میں ہے۔

مارکیٹ کی توقعات کے مطابق:

سال 2026 میں rate cuts کا امکان تقریباً ختم ہو چکا ہے

دسمبر میں 25 basis points اضافے کا امکان 60% سے زیادہ ہے

امریکی بانڈ yields میں اضافہ ہو رہا ہے

یہ تمام عوامل مل کر gold forecast کو منفی بنا رہے ہیں۔ جب yields بڑھتے ہیں تو non-yielding asset جیسے gold کم پرکشش ہو جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر gold price پر پڑتا ہے۔

Iran Tensions اور Gold Price Dynamics

Iran اور United States کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی gold market کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔

ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول جیسے معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔ مزید برآں، بحری جہازوں پر ممکنہ ٹول ٹیکس کی تجویز نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

عام حالات میں اس قسم کی geopolitical uncertainty gold price کو بڑھاتی ہے کیونکہ سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف جاتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ایک مختلف رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے:

سرمایہ کار سونے کے بجائے امریکی ڈالر کو زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ geopolitical risk کے باوجود gold price اوپر جانے کے بجائے دباؤ میں ہے۔

Technical Gold Analysis: کیا مزید کمی ممکن ہے؟

ٹیکنیکل چارٹس کے مطابق gold price اس وقت ایک descending channel کے اندر ٹریڈ کر رہا ہے، جو ایک واضح bearish pattern ہے۔

قیمت 200-period EMA کے نیچے برقرار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں overall trend ابھی بھی نیچے کی جانب ہے۔

Gold

اہم سطحیں:

Resistance: $4,657

Support: $4,362

RSI تقریباً 45 کے قریب ہے، جو neutral سے bearish زون کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ MACD میں معمولی مثبت اشارے ہیں لیکن وہ ابھی تک trend reversal کی تصدیق نہیں کرتے۔

یہ gold analysis ظاہر کرتا ہے کہ جب تک قیمت strong resistance کے اوپر بریک نہیں کرتی، تب تک bearish دباؤ برقرار رہ سکتا ہے اور gold price مزید نیچے جا سکتا ہے۔

Gold Forecast: آگے کیا توقع رکھنی چاہیے؟

موجودہ macroeconomic حالات کو دیکھتے ہوئے gold forecast کافی حد تک فیڈ کی پالیسی اور ڈالر کی طاقت پر منحصر ہے۔

اگر Federal Reserve اپنی hawkish stance برقرار رکھتا ہے اور شرح سود میں اضافہ کرتا ہے تو gold price مزید کم ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، اگر جیوپولیٹیکل کشیدگی شدت اختیار کرتی ہے اور سرمایہ کار risk سے بچنے کے لیے سونے کی طرف واپس آتے ہیں، تو gold market میں recovery بھی ممکن ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں overall bias bearish ہی نظر آتا ہے، خاص طور پر اگر قیمت $4,362 کی سپورٹ سے نیچے بریک کرتی ہے۔

 نتیجہ: Gold Market کا موجودہ رجحان

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو gold price اس وقت ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں مضبوط امریکی ڈالر، بلند شرح سود، اور فیڈ کی سخت پالیسی سونے کے لیے منفی ماحول پیدا کر رہی ہے۔

اگرچہ جیوپولیٹیکل خطرات موجود ہیں، لیکن وہ اس وقت سونے کو سپورٹ دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں کیونکہ سرمایہ کاروں کی ترجیح امریکی ڈالر بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ gold analysis کے مطابق near-term میں سونے کی قیمت دباؤ میں رہنے کا امکان زیادہ ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button