EURUSD میں بڑی گراوٹ: کیا ڈالر کی برتری یورو کو مزید نیچے لے جائے گی؟

Safe Haven Dollar Dominates While ECB and Fed Signals Shape Market Expectations

عالمی فاریکس مارکیٹ میں اس وقت ایک ہلچل مچی ہوئی ہے. کیونکہ EURUSD Bearish Trend Geopolitical Impact کی وجہ سے یورو کی قدر میں تیزی سے کمی دیکھی جا رہی ہے۔ منگل کے روز یورو اور امریکی ڈالر کا جوڑا 1.1600 کی نفسیاتی سطح سے نیچے گر گیا. جو کہ گزشتہ چھ ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔

اس گراوٹ کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی ہے. جس نے سرمایہ کاروں کو مجبور کر دیا ہے. کہ وہ اپنے اثاثے محفوظ پناہ گاہوں (Safe Havens) ، خاص طور پر امریکی ڈالر میں منتقل کر دیں۔

اہم نکات (Key Points)

  • EURUSD کی گراوٹ: جوڑا 1.1600 کی اہم سپورٹ لیول توڑ کر 1.1635 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے. جس کا رجحان مکمل طور پر مندی (Bearish) ہے۔

  • جیو پولیٹیکل اثرات: ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست فوجی ٹکراؤ نے ڈالر کی طلب میں اضافہ کر دیا ہے۔

  • مرکزی بینکوں کا کردار: ای سی بی (ECB) افراط زر کے خطرات سے پریشان ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔

  • تکنیکی صورتحال: RSI انڈیکیٹر ‘اوور سولڈ’ (Oversold) زون میں ہے. جو مزید گراوٹ یا عارضی ریکوری کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور ڈالر کی ‘سیف ہیون’ طلب

جب بھی دنیا میں کہیں جنگ یا سیاسی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے. عالمی مارکیٹ میں "Risk-off” کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن نے عالمی مالیاتی مارکیٹس میں خوف پھیلا دیا ہے۔ پیر کے روز ڈالر انڈیکس (DXY) میں تقریباً 1% کا اضافہ ہوا. جبکہ یورو اسٹاکس (Euro Stoxx 50) جیسے بڑے انڈیکس 2.3% تک گر گئے۔

ایران کی جانب سے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملے اور امریکہ کی جوابی کارروائی نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ تنازعہ جلد ختم ہونے والا نہیں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے اگرچہ زمینی فوج (Boots on the ground) بھیجنے کی تردید کی ہے. لیکن فضائی کارروائیوں نے تیل کی قیمتوں اور افراط زر کے خدشات کو جنم دیا ہے. جس کا براہ راست فائدہ ڈالر کو پہنچ رہا ہے۔

میں نے 2011 کے عرب اسپرنگ اور دیگر جیو پولیٹیکل بحرانوں کے دوران دیکھا ہے. کہ مارکیٹ جذباتی فیصلے کرتی ہے۔ جب تک مشرق وسطیٰ سے کوئی مثبت خبر نہیں آتی. ریٹیل ٹریڈرز کو "Trend is your friend” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ڈالر کی خریداری اور یورو کی فروخت پر توجہ دینی چاہیے. کیونکہ ایسے حالات میں ٹیکنیکل لیولز سے زیادہ جذبات (Sentiments) حاوی ہوتے ہیں۔

ای سی بی اور فیڈرل ریزرو: پالیسی کا ٹکراؤ

ای سی بی کے چیف اکانومسٹ فلپ لین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں طویل تنازعہ یورو زون میں افراط زر (Inflation) کو بڑھا سکتا ہے اور پیداوار (Output) کو کم کر سکتا ہے۔ دوسری طرف، ای سی بی کے پالیسی ساز مارٹن کوچر نے اشارہ دیا ہے. کہ بینک کو شرح سود میں کسی بھی سمت تیزی سے تبدیلی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

امریکی محاذ پر، مارکیٹ اب یہ مان رہی ہے کہ فیڈرل ریزرو جون میں شرح سود کم نہیں کرے گا۔ CME FedWatch ٹول کے مطابق، جون میں کٹوتی کا امکان 46% سے کم ہو کر 36% رہ گیا ہے۔ جب تک امریکہ میں انفلیشن قابو میں نہیں آتی اور جنگی حالات واضح نہیں ہوتے، ڈالر اپنی برتری برقرار رکھے گا۔

EURUSD کا تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis)

4 گھنٹے کے چارٹ (4-hour chart) پر نظر ڈالیں تو EURUSD کی صورتحال واضح طور پر مندی کا شکار ہے۔

موونگ ایوریجز (Moving Averages)

قیمت اس وقت 20، 50 اور 100 پیریڈ کی سمپل موونگ ایوریجز (SMAs) سے نیچے ٹریڈ کر رہی ہے۔ خاص طور پر 200 پیریڈ کی SMA جو کہ 1.1805 پر ہے. ایک طویل مدتی مزاحمت (Resistance) کے طور پر کام کر رہی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ میں بیچنے والوں (Sellers) کا غلبہ ہے۔

فبونیکی ریٹریسمنٹ (Fibonacci Retracement)

EURUSD  نے 61.8% فبونیکی لیول (1.1757) کو توڑ دیا ہے. جو کہ ایک انتہائی اہم سپورٹ تھی۔ اب یہ لیول ایک مضبوط مزاحمت بن چکا ہے۔ اگر قیمت 1.1590 کے حالیہ لو (Low) سے نیچے گرتی ہے. تو اگلی منزل 1.1540 اور پھر 1.1500 ہو سکتی ہے۔

EURUSD as on 3rd March 2026
EURUSD as on 3rd March 2026

آر ایس آئی (RSI – Relative Strength Index)

آر ایس آئی اس وقت 26 کے قریب ہے. جو کہ ‘اوور سولڈ’ (Oversold) پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔

جب RSI 30 سے نیچے ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ میں بہت زیادہ فروخت ہو چکی ہے. اور یہاں سے ایک عارضی واپسی (Correction) ممکن ہے۔ لیکن یاد رہے، اوور سولڈ مارکیٹ طویل عرصے تک نیچے رہ سکتی ہے. اگر بنیادی عوامل (Fundamentals) منفی ہوں۔

مستقبل کی حکمت عملی: ٹریڈرز کے لیے مشورہ

اگر آپ ایک ریٹیل ٹریڈر ہیں، تو اس وقت مارکیٹ میں داخل ہونا خطرے سے خالی نہیں۔ درج ذیل ٹیبل میں موجودہ اہم لیولز کو مدنظر رکھیں:

لیول کی قسم قیمت (Price Level) اہمیت
فوری سپورٹ 1.1590 اگر یہ ٹوٹا تو بڑی گراوٹ ممکن ہے
بڑی سپورٹ 1.1500 نفسیاتی اور طویل مدتی ہدف
پہلی مزاحمت 1.1757 61.8% فبونیکی ریٹریسمنٹ
مضبوط سپلائی زون 1.1780 – 1.1820 موونگ ایوریجز کا جھرمٹ

میرے تجربے میں، جب مارکیٹ 200-SMA سے نیچے ہو اور جیو پولیٹیکل ٹینشن عروج پر ہو. تو ہر چھوٹی ریکوری دراصل ایک نیا ‘سیلنگ آرڈر’ (Selling Order) لگانے کا موقع ہوتی ہے۔ 1.1750 کے قریب کسی بھی واپسی کو فروخت کے لیے استعمال کرنا ایک سمجھدارانہ فیصلہ ہو سکتا ہے. بشرطیکہ اسٹاپ لاس (Stop Loss) سختی سے لگایا جائے۔

اختتامیہ.

مختصر یہ کہ EURUSD Bearish Trend Geopolitical Impact اس وقت مارکیٹ کا سب سے بڑا ڈرائیور ہے۔ یورو زون میں مہنگائی کے ڈیٹا کے باوجود، ڈالر کی ‘سیف ہیون’ حیثیت اسے ہر دوسری کرنسی پر برتری دے رہی ہے۔ جب تک مشرق وسطیٰ کی صورتحال واضح نہیں ہوتی، یورو پر دباؤ برقرار رہے گا۔ ٹریڈرز کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آج ہونے والی ای سی بی اور فیڈ حکام کی تقاریر پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ یہاں سے ملنے والے اشارے مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یورو 1.1500 کی سطح کو چھو لے گا یا یہاں سے کوئی بڑی واپسی ممکن ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button