امریکی CPI رپورٹ کے بعد EUR/USD میں ممکنہ تیزی، 1.165 بریک آؤٹ اہم

امریکہ کی تازہ Consumer Price Index (CPI) رپورٹ نے ظاہر کیا ہے کہ مہنگائی کی رفتار بتدریج کم ہو رہی ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ قیمتوں کا دباؤ آہستہ آہستہ فیڈرل ریزرو کے 2 فیصد ہدف کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اسی پس منظر میں فاریکس مارکیٹ میں EUR/USD جوڑی ایک ممکنہ Inverse Head and Shoulders بُلش پیٹرن بنا رہی ہے، جو ڈالر کی کمزوری اور یورو کی مضبوطی کا اشارہ دے سکتا ہے۔
تازہ ڈیٹا کے مطابق ہیڈ لائن CPI ماہانہ بنیاد پر 0.3% اور سالانہ بنیاد پر 2.4% بڑھا، جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا۔ دوسری جانب Core CPI، جس میں خوراک اور توانائی شامل نہیں ہوتی، ماہانہ 0.2% اور سالانہ 2.5% بڑھا، جو معمولی طور پر کمزور ریڈنگ ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ disinflation کا رجحان برقرار ہے اور مہنگائی آہستہ آہستہ نیچے آ رہی ہے۔
CPI رپورٹ میں مہنگائی بڑھنے کی بڑی وجہ
تازہ CPI رپورٹ میں مہنگائی کے اضافے کی بنیادی وجہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ہیڈ لائن مہنگائی کو 0.3% ماہانہ تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم یہ اضافہ زیادہ تر مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا کیونکہ حالیہ دنوں میں عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب Core inflation نسبتاً قابو میں رہی۔
چند اہم عوامل جنہوں نے Core مہنگائی کو کم رکھنے میں مدد دی:
اشیائے صرف (Goods) کی مہنگائی میں کمی
استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی
سپلائی چین کے مسائل تقریباً ختم ہو جانا
اس کے باوجود سب سے زیادہ دباؤ Shelter inflation یعنی رہائش کے اخراجات میں برقرار ہے، جو اب بھی وبا سے پہلے کی سطح سے اوپر ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ہاؤسنگ مارکیٹ میں سست روی کے باعث اس میں بھی بتدریج کمی آ رہی ہے۔
فیڈرل ریزرو کے لیے اس رپورٹ کا کیا مطلب ہے؟
فیڈرل ریزرو کے لیے یہ CPI رپورٹ مجموعی طور پر پالیسی کے بڑے منظرنامے کو تبدیل نہیں کرتی۔
اب جبکہ:
ہیڈ لائن مہنگائی 2.4%
Core مہنگائی 2.5%
ہے، تو قیمتوں میں اضافہ فیڈ کے ہدف کے قریب پہنچ رہا ہے۔ تاہم مرکزی بینک کے پالیسی ساز اب بھی محتاط رہنے کے خواہاں ہیں۔
فیڈ دو اہم چیزوں پر خاص نظر رکھے گا:
Core services inflation
لیبر مارکیٹ کی صورتحال
اگر آنے والے مہینوں میں مہنگائی مزید کم ہوتی ہے اور لیبر مارکیٹ ٹھنڈی پڑتی ہے تو امکان ہے کہ فیڈ رواں سال کے آخر میں شرح سود میں کمی کی طرف جا سکتا ہے۔
عالمی مارکیٹوں پر اثرات
مہنگائی میں کمی عام طور پر مالیاتی منڈیوں کے لیے مثبت سمجھی جاتی ہے۔
کم مہنگائی کے ممکنہ اثرات:
حقیقی بانڈ ییلڈز میں کمی
مالیاتی حالات میں نرمی
سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ
یہ عوامل عام طور پر اسٹاک مارکیٹس اور رسک اثاثوں کو سہارا دیتے ہیں۔
تاہم ایک بڑا خطرہ اب بھی موجود ہے، اور وہ ہے تیل کی قیمتیں۔
موجودہ CPI رپورٹ دراصل اس وقت کے ڈیٹا کو ظاہر کرتی ہے جب حالیہ تیل کی قیمتوں میں تیزی ابھی مکمل طور پر شامل نہیں ہوئی تھی۔ اگر تیل مہنگا رہتا ہے تو مستقبل کی مہنگائی رپورٹوں میں توانائی سے متعلق دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
مستقبل میں مہنگائی کے امکانات
مارکیٹیں ماضی کے ڈیٹا سے زیادہ اس بات پر توجہ دیتی ہیں کہ مہنگائی آگے کہاں جا رہی ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ:
کیا مہنگائی واقعی فیڈ کے 2 فیصد ہدف تک پہنچ جائے گی؟
اگر مارکیٹ کو یقین ہو جاتا ہے کہ مہنگائی مسلسل کم ہو رہی ہے تو:
شرح سود میں کمی کی توقعات بڑھ سکتی ہیں
مالیاتی حالات مزید نرم ہو سکتے ہیں
رسک اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے
اسی وجہ سے اب بحث اس بات پر نہیں رہی کہ مہنگائی کب عروج پر پہنچی بلکہ اس بات پر ہے کہ یہ کتنی تیزی سے معمول پر آئے گی۔
فاریکس مارکیٹ میں EUR/USD پر اثرات
فاریکس مارکیٹ میں مہنگائی اور شرح سود کی توقعات کا بڑا اثر پڑتا ہے۔
اگر امریکی مہنگائی کم ہوتی رہتی ہے اور فیڈ شرح سود کم کرنے کے قریب پہنچتا ہے تو:
امریکی بانڈ ییلڈز کم ہو سکتی ہیں
امریکی ڈالر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے
ایسی صورتحال میں یورو جیسی کرنسیوں کو فائدہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر یورپ اور امریکہ کے درمیان شرح سود کا فرق کم ہونا شروع ہو جائے۔
تکنیکی تجزیہ: EUR/USD میں Inverse Head and Shoulders
تکنیکی چارٹ کے مطابق EUR/USD ایک اہم Inverse Head and Shoulders پیٹرن بنا رہا ہے، جو عام طور پر ایک بُلش ریورسل سگنل سمجھا جاتا ہے۔
اس پیٹرن کی ساخت کچھ یوں ہے:
Left Shoulder: مارچ کے آغاز میں بنا
Head: تقریباً 1.150 کے قریب حالیہ کم ترین سطح
Right Shoulder: اب تشکیل پا رہا ہے
اس پیٹرن کا سب سے اہم لیول Neckline ہے جو تقریباً 1.165 پر موجود ہے۔
اگر قیمت اس سطح سے اوپر بریک آؤٹ کرتی ہے تو یہ بُلش سگنل کی تصدیق ہو سکتی ہے۔
ایسی صورت میں اگلا اہم ہدف:
1.175
ہو سکتا ہے، جو اگلا بڑا ریزسٹنس زون سمجھا جا رہا ہے۔
نتیجہ
تازہ CPI رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ امریکہ میں مہنگائی بتدریج کم ہو رہی ہے اور فیڈ کے ہدف کے قریب پہنچ رہی ہے۔
اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو:
فیڈ رواں سال کے آخر میں شرح سود میں نرمی کر سکتا ہے
امریکی ڈالر کمزور ہو سکتا ہے
EUR/USD میں مزید تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے
خاص طور پر اگر 1.165 کی تکنیکی مزاحمت ٹوٹ جاتی ہے تو مارکیٹ 1.175 کی جانب بڑھ سکتی ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



