AUDUSD دباؤ میں، US-Iran Talks کی بے یقینی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا
US-Iran Talks and Fed-RBA Policy Shape Currency Market Direction
آسٹریلوی ڈالر (AUD) اور امریکی ڈالر (USD) کی جوڑی اس وقت عالمی مارکیٹس میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں AUDUSD Analysis and US-Iran Peace Talks کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں کافی تجسس پایا جاتا ہے۔ منگل کے ایشیائی سیشن کے دوران، آسٹریلوی ڈالر نے 0.7200 کی سطح کے نیچے اپنے قدم جمانے کی کوشش کی ہے۔ اس تحریر میں ہم ان تمام عوامل کا تفصیلی جائزہ لیں گے. جو اس وقت فاریکس مارکیٹ (Forex Market) پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
AUDUSD اس وقت 0.7200 کی اہم مزاحمتی سطح (Resistance Level) کے نیچے مستحکم ہو رہا ہے۔
-
America اور Iran کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات (Peace Talks) مارکیٹ کے جذبات (Market Sentiment) کو کنٹرول کر رہے ہیں۔
-
آسٹریلوی مرکزی بینک (RBA) اور امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کی پالیسیوں میں فرق آسٹریلوی ڈالر کو سہارا دے رہا ہے۔
-
تکنیکی طور پر 0.7085 کی سطح ایک اہم سپورٹ (Support) کے طور پر کام کر رہی ہے۔
-
سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی ریٹیل سیلز (Retail Sales) اور Federal Reserve کے ممکنہ نئے سربراہ کے بیان پر ہیں۔
امریکہ اور ایران کے مذاکرات آسٹریلوی ڈالر پر کیوں اثر انداز ہو رہے ہیں؟
سوال: جیوسیاسی حالات (Geopolitics) فاریکس مارکیٹ پر کیسے اثر ڈالتے ہیں؟
جغرافیائی و سیاسی تناؤ سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کرتا ہے. جس کی وجہ سے وہ "محفوظ اثاثوں” (Safe-haven Assets) جیسے امریکی ڈالر کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب امن کی امید پیدا ہوتی ہے. تو آسٹریلوی ڈالر جیسے "رسک حساس” (Risk-Sensitive) اثاثوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔
United States اور Iran کے درمیان حالیہ کشیدگی، خاص طور پر بحیرہ عرب میں ایرانی مال بردار جہاز کو قبضے میں لینے کے واقعے نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کی دھمکیوں نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ چونکہ آسٹریلیا ایک بڑی اشیاء برآمد کرنے والی معیشت ہے. اس لیے اس کی کرنسی عالمی تجارتی حالات اور امن و امان سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
میں نے اپنے دس سالہ تجربے میں دیکھا ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے. خام تیل (Crude Oil) کے ساتھ ساتھ فاریکس مارکیٹ میں بھی تیزی سے اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ 2019 کے ڈرون حملوں کے وقت بھی AUDUSD نے بالکل اسی طرح کا ردعمل دیا تھا. جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں۔
مرکزی بینکوں کی پالیسیوں میں فرق (Policy Divergence)
آسٹریلوی ریزرو بینک (RBA) کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی (Hawkish Policy) اور امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کے مستقبل کے اقدامات میں ابہام نے آسٹریلوی ڈالر کو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط رکھا ہوا ہے۔
سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ آسٹریلیا میں شرح سود (Interest Rates) طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں، جبکہ امریکہ میں معاشی سست روی کے خدشات کی وجہ سے شرح سود میں کمی کی توقعات موجود ہیں۔ یہ فرق آسٹریلوی ڈالر کے لیے ایک "فلور” (Floor) یا حفاظتی حد فراہم کرتا ہے، جو اسے زیادہ گرنے نہیں دیتا۔
اقتصادی کیلنڈر کے اہم واقعات
آنے والے دنوں میں درج ذیل واقعات مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے:
-
Us Retail Sales: یہ ڈیٹا امریکی صارفین کی قوت خرید کو ظاہر کرے گا۔
-
Fed Chair Testimony: کیون وارش کے بیانات سے مستقبل کی امریکی مانیٹری پالیسی کا اشارہ ملے گا۔
-
Australia PMI Data: جمعرات کو آنے والا یہ ڈیٹا آسٹریلیا کی صنعتی ترقی کی عکاسی کرے گا۔
تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): AUDUSD کہاں جا رہا ہے؟
اوپر کی جانب 0.7188 اور 0.7200 کی سطحیں مضبوط رکاوٹ ہیں، جبکہ نیچے کی جانب 0.7085 اور 0.7033 اہم ترین سپورٹ زونز ہیں۔

ٹیکنیکل چارٹ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ AUDUSD اپنی 55، 100 اور 200 دنوں کی سادہ موونگ ایوریج سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ ایک واضح بلش (Bullish) یعنی مثبت رجحان کی نشانی ہے۔ تاہم، ریلیٹیو اسٹرینتھ انڈیکس (RSI) 65 پر ہے. جو ظاہر کرتا ہے کہ قیمتیں "اوور بوٹ” (Overbought) یعنی ضرورت سے زیادہ خریداری کے قریب پہنچ رہی ہیں۔
| لیول کی قسم | قیمت (Price) | اہمیت |
| فوری مزاحمت (Resistance) | 0.7188 | بریک آؤٹ کے لیے اہم |
| نفسیاتی رکاوٹ | 0.7200 | اہم سیلنگ زون |
| فوری سپورٹ (Support) | 0.7085 | مختصر مدتی رجحان کے لیے اہم |
| مضبوط سپورٹ | 0.7033 | 55-day Sma |
سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی (Actionable Insights)
ایک تجربہ کار اسٹریٹیجسٹ کے طور پر، میں سمجھتا ہوں. کہ اس وقت مارکیٹ میں "انتظار کرو اور دیکھو” (Wait And See) کی پالیسی بہترین ہے۔ جب تک قیمت 0.7190 کے اوپر روزانہ کی بنیاد پر بند (Daily Close) نہیں ہوتی. نئی خریداری (Long Positions) میں خطرہ ہو سکتا ہے۔
ٹریڈنگ میں اکثر ‘فیک آؤٹ’ (Fakeout) ہوتے ہیں۔ کئی بار میں نے دیکھا ہے کہ قیمت 0.7200 کو چھوتی ہے. لیکن چند منٹوں میں واپس گر جاتی ہے۔ ہمیشہ کینڈل (Candle) کے بند ہونے کا انتظار کریں. خاص طور پر جب جیو پولیٹیکل خبریں گردش کر رہی ہوں کیونکہ ایک ٹویٹ یا بیان پورے چارٹ کا رخ بدل سکتا ہے۔
حرف آخر
مجموعی طور پر آسٹریلوی ڈالر کی پوزیشن مستحکم ہے، لیکن منزل ابھی دور ہے۔ AUDUSD Analysis And Us-Iran Peace Talks یہ واضح کرتے ہیں کہ معاشی اعداد و شمار سے زیادہ اس وقت سیاسی حالات مارکیٹ کو چلا رہے ہیں۔ ٹریڈرز کو چاہیے کہ وہ اپنی پوزیشنز کو محدود رکھیں اور سٹاپ لاس (Stop Loss) کا لازمی استعمال کریں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ایران اور امریکہ کے مذاکرات کامیاب ہوں گے، یا ہم فاریکس مارکیٹ میں ایک بڑی گراوٹ دیکھیں گے؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



