AUD/USD 0.7200 سے نیچے، مضبوط امریکی ڈالر کا دباؤ
امریکی فیڈ کی سخت پالیسی توقعات سے AUD/USD شدید دباؤ کا شکار
جمعہ کے روز AUD/USD کرنسی جوڑی مسلسل دوسرے دن بھی شدید فروخت کے دباؤ میں رہی اور 0.7200 کی اہم سطح سے نیچے پھسل گئی۔ یورپی سیشن کے دوران یہ جوڑی ایک ہفتے سے زائد کی کم ترین سطح 0.7160 کے قریب ٹریڈ کرتی دیکھی گئی۔ جبکہ روزانہ بنیاد پر تقریباً 0.85 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی طور پر امریکی ڈالر کی مضبوطی نے آسٹریلین ڈالر کو نمایاں دباؤ میں رکھا۔
امریکی ڈالر انڈیکس میں زبردست تیزی
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) اپریل 7 کے بعد اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔ کیونکہ مارکیٹ میں یہ توقعات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ کہ امریکی فیڈرل ریزرو رواں سال کے اختتام سے قبل شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ CME FedWatch Tool کے مطابق اب تقریباً 40 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فیڈ مزید ریٹ ہائیک کرے گا۔
اس تبدیلی کی بنیادی وجہ حالیہ امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار ہیں۔ جو توقعات سے زیادہ گرم ثابت ہوئے۔ بلند افراطِ زر نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ فیڈ مستقبل میں مزید سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔
امریکی ریٹیل سیلز نے فیڈ کے مؤقف کو مزید مضبوط کیا
جمعرات کو جاری ہونے والے امریکی Retail Sales ڈیٹا نے بھی امریکی معیشت کی مضبوطی کو ظاہر کیا۔ بڑھتی ہوئی صارفین کی خریداری اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھایا۔ جس سے فیڈ پر شرح سود بلند رکھنے کا دباؤ بڑھ گیا۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق اگر امریکی معاشی ڈیٹا اسی طرح مضبوط رہا تو ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ جس سے AUD/USD پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ایران کشیدگی اور جغرافیائی خطرات نے محفوظ سرمایہ کاری کی طلب بڑھائی
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث عالمی سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی صدر Donald Trump نے بھی ایران کو جلد معاہدہ کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ زیادہ صبر کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ ان بیانات نے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھایا، جس کا فائدہ امریکی ڈالر کو ملا۔
چین اور امریکہ مذاکرات بھی آسٹریلین ڈالر کو سہارا نہ دے سکے
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر Xi Jinping کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات سے امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی۔ تاہم اس مثبت خبر کا بھی آسٹریلین ڈالر کو خاطر خواہ فائدہ نہیں مل سکا۔
آسٹریلین ڈالر کو عموماً چینی معیشت سے جڑا ہوا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ آسٹریلیا کی برآمدات کا بڑا حصہ چین جاتا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ مارکیٹ ماحول میں سرمایہ کار زیادہ تر امریکی ڈالر کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں۔
تکنیکی منظرنامہ AUD/USD کے لیے منفی
تکنیکی اعتبار سے AUD/USD نے ایک ہفتے پرانی رینج کو نیچے کی جانب توڑ دیا ہے۔ جو مزید کمی کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے یہ جوڑی مئی 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی۔ مگر اب منافع لینے اور مضبوط امریکی ڈالر نے رجحان تبدیل کر دیا ہے۔
اگر فروخت کا دباؤ برقرار رہا تو اگلا اہم سپورٹ زون 0.7120 اور اس کے بعد 0.7080 کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر RBA کا سخت مؤقف برقرار رہتا ہے تو آسٹریلین ڈالر کو کچھ سہارا مل سکتا ہے۔
RBA کی سخت پالیسی آسٹریلین ڈالر کے لیے امید
اگرچہ امریکی ڈالر کی مضبوطی مارکیٹ پر حاوی ہے، لیکن Reserve Bank of Australia کا نسبتاً سخت مؤقف AUD/USD میں بڑی گراوٹ کو محدود کر سکتا ہے۔ آسٹریلیا میں مہنگائی کے مسلسل خدشات RBA کو شرح سود بلند رکھنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ جو مستقبل میں آسٹریلین ڈالر کو کچھ سپورٹ فراہم کرے گا۔
نتیجہ
AUD/USD اس وقت مضبوط امریکی ڈالر، فیڈ ریٹ ہائیک توقعات، جغرافیائی کشیدگی، اور عالمی رسک اوف ماحول کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔ اگر امریکی اقتصادی اعداد و شمار مضبوط رہتے ہیں اور فیڈ کا سخت مؤقف برقرار رہتا ہے۔ تو قریبی مدت میں اس جوڑی میں مزید کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم RBA کی ممکنہ سخت پالیسی مستقبل میں آسٹریلین ڈالر کے نقصانات کو محدود کر سکتی ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



