EUR/USD Price پہلی بار 1.1650 سے نیچے

یورو میں شدید کمزوری، EUR/USD Price چار ماہ کی اہم سپورٹ سے نیچے پھسل گیا

جمعہ کے EUR/USD Price روز یورو نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ میں مزید اضافہ کیا۔ جہاں EUR/USD جوڑی 1.1650 کی سطح سے نیچے آ گئی۔ جو اپریل کے آغاز کے بعد پہلی بار دیکھا گیا۔ مضبوط امریکی ڈالر، بڑھتی ہوئی امریکی بانڈ ییلڈز، فیڈرل ریزرو کی ممکنہ شرح سود میں اضافے کی توقعات، اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے یورو پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

امریکی ڈالر کی طاقت نے یورو کو کمزور کر دیا

اس ہفتے امریکی ڈالر نے تقریباً تمام بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کی۔ سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی جانب مائل نظر آئے۔ کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آنے سے عالمی مارکیٹوں میں بے چینی برقرار ہے۔

اسی دوران امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار نے بھی مارکیٹ کی توجہ حاصل کی۔ جس کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے 2026 کے آخر تک مزید شرح سود میں اضافے کی توقعات مضبوط ہو گئی ہیں۔ بلند شرح سود عام طور پر امریکی ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں۔ کیونکہ سرمایہ کار بہتر منافع کے لیے امریکی اثاثوں کا رخ کرتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ یوروزون کے لیے خطرہ

ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔ جس نے یوروزون معیشتوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ یورپ تیل درآمد کرنے والا بڑا خطہ ہے۔ اس لیے توانائی کی بڑھتی قیمتیں معاشی دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔

توانائی کے اخراجات میں اضافے سے یورپی سینٹرل بینک (ECB) کی پالیسی بھی پیچیدہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف معیشت سست روی کا شکار ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔

تکنیکی تجزیہ: EUR/USD Price پر مندی کا غلبہ

تکنیکی لحاظ سے EUR/USD شدید دباؤ میں دکھائی دے رہا ہے۔ چار گھنٹے کے چارٹ پر Relative Strength Index (RSI) اوور سولڈ زون میں موجود ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ فروخت کا دباؤ بہت زیادہ ہو چکا ہے۔

اسی طرح MACD انڈیکیٹر بھی منفی زون میں برقرار ہے، جو مارکیٹ میں بیئرش مومینٹم کی تصدیق کرتا ہے۔

EUR/USD

اہم سپورٹ اس وقت 1.1620 کے قریب دیکھی جا رہی ہے۔ اگر یہ سطح ٹوٹتی ہے تو اگلا بڑا ہدف 1.1500 کے قریب اپریل کی کم ترین سطح ہو سکتی ہے۔

مزید نیچے جانے کی صورت میں مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ مزید تیز ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر امریکی ڈالر مضبوط رہتا ہے اور تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں۔

ممکنہ ریکوری کہاں تک جا سکتی ہے؟

اگر EUR/USD میں مختصر مدتی بحالی دیکھنے کو ملتی ہے تو پہلی مزاحمت 1.1720 کے قریب موجود ہے۔

اس کے بعد 1.1795 اور پھر 1.1850 کی سطحیں اہم ریزسٹنس کے طور پر سامنے آ سکتی ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں مارکیٹ کا رجحان اب بھی امریکی ڈالر کے حق میں دکھائی دیتا ہے۔

نتیجہ

EUR/USD پر اس وقت کئی منفی عوامل بیک وقت اثر انداز ہو رہے ہیں، جن میں مضبوط امریکی ڈالر، بلند امریکی بانڈ ییلڈز، فیڈ کی سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات، اور تیل کی بڑھتی قیمتیں شامل ہیں۔ تکنیکی اور بنیادی دونوں عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورو پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کار آئندہ امریکی معاشی اعداد و شمار اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھیں گے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button