عالمی تنازعات اور فیڈ کے درمیان آسٹریلین ڈالر دباؤ کا شکار
Fed Expectations, Geopolitical Risks, and Australian Economic Signals Keep AUDUSD Below 0.7000
پچھلے کچھ دنوں سے فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں آسٹریلین ڈالر اور امریکی ڈالر کی جوڑی یعنی AUDUSD شدید مندی کا شکار ہے۔ اگر آپ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو AUDUSD کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے. کہ یہ جوڑی مسلسل دوسرے دن بھی اہم نفسیاتی سطح 0.7000 کے نیچے ٹریڈ کر رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کی بڑھتی ہوئی طاقت، ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے جیوپولیٹیکل تنازعات (Geopolitical Conflicts) اور امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات نے آسٹریلین ڈالر (Aussie) کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔ اس تفصیلی آرٹیکل میں ہم ان تمام عوامل کا احاطہ کریں گے. جو اس وقت مارکیٹ کی سمت کا تعین کر رہے ہیں۔
اہم نکات
-
0.7000 کی سطح پر دباؤ: جیوپولیٹیکل خطرات اور امریکی ڈالر کی مضبوطی کی وجہ سے AUDUSD مسلسل پانچویں دن مندی کے ساتھ 0.7000 کے نیچے برقرار ہے۔
-
امریکی ڈالر کی برتری: ایران کے ساتھ سفارتی تعطل، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کے خدشات اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی نے یو ایس ڈالر انڈیکس (DXY) کو ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچا دیا ہے۔
-
آسٹریلیا کی معاشی حالت: آسٹریلیا کی مقامی معیشت مضبوط ہے، جہاں افراط زر (Inflation) 4.2% پر برقرار ہے اور ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کا موقف تاحال سخت ہے۔
-
چین کا کردار: چین کی معیشت اب آسٹریلیا کے لیے ایک بڑا سہارا بننے کے بجائے صرف ایک مستحکم عنصر (Stabilizing Force) کا کردار ادا کر رہی ہے۔
-
ٹیکنیکل آؤٹ لک: جب تک قیمت 55-day اور 100-day SMA کے نیچے ہے، مارکیٹ کا رجحان (Bias) بئیرش (Bearish) رہے گا. جہاں 200-day SMA (0.6854) اگلی بڑی سپورٹ ہے۔
AUDUSD میں حالیہ گراوٹ کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟
امریکی ڈالر کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ اور ایران کے گرد گھومتے جیوپولیٹیکل خطرات اس گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ جب بھی عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے. سرمایہ کار آسٹریلین ڈالر جیسی حساس کرنسیوں کو چھوڑ کر امریکی ڈالر جیسے محفوظ اثاثوں (Safe-Haven Assets) کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی مرکزی بینک کی طرف سے ہاکش (Hawkish) پالیسی کے تسلسل نے اس گراوٹ کو مزید تیز کر دیا ہے۔
خلیج فارس میں بڑھتے ہوئے جیوپولیٹیکل تنازعات نے عالمی سپلائی چین اور خاص طور پر توانائی کی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کی دھمکیوں اور امریکی صدر کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے بیانات نے مارکیٹ میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی ہے۔
سیز فائر یا امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود، ٹریڈرز کسی بھی بڑے رسک سے بچنے کے لیے ڈالر کی خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے فیصلے AUDUSD پر کیسے اثر انداز ہو رہے ہیں؟
امریکی معیشت میں لیبر مارکیٹ کی پائیداری اور افراط زر کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے، مارکیٹ اب یہ توقع کر رہی ہے. کہ فیڈرل ریزرو آنے والے مہینوں میں شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھے گا. یا اس میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
جب سود کی شرح (Interest rates) بڑھتی ہیں تو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے امریکی بانڈز (US Treasuries) زیادہ پرکشش ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سرمائے کا بہاؤ (Capital Flow) امریکہ کی طرف بڑھ جاتا ہے. جس سے گرین بیک (Greenback) یعنی امریکی ڈالر کو طاقت ملتی ہے۔
یہ صورتحال براہِ راست تضاد پیدا کرتی ہے. کیونکہ ایک طرف فیڈرل ریزرو ہاکش ہے. اور دوسری طرف آسٹریلیا کے معاشی ڈیٹا میں ملے جلے رجحانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے معاشی اشاریے
اگرچہ آسٹریلین ڈالر اس وقت دباؤ میں ہے. لیکن اگر ہم خالصتاً اس کی مقامی معیشت (Domestic Economy) کا جائزہ لیں. تو آسٹریلیا کی حالت دیگر G10 ممالک کے مقابلے میں کافی بہتر نظر آتی ہے۔
ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کا سخت موقف
ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے افراط زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود کو 4.35% تک بڑھا دیا ہے۔ آر بی اے (RBA) کے حکام کا ماننا ہے. کہ ملک میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کی شرح اب بھی 4.2% پر ہے. جو کہ ان کے 2% سے 3% کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ آسٹریلیا میں سود کی شرحیں طویل عرصے تک بلند رہیں گی. جو طویل مدت میں آسٹریلین ڈالر کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
چین کے معاشی حالات آسٹریلین ڈالر کو کیسے متاثر کر رہے ہیں؟
چین کو روایتی طور پر آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار مانا جاتا ہے۔ آسٹریلیا سے لوہا، کوئلہ اور دیگر خام مال بڑی مقدار میں چین برآمد کیا جاتا ہے۔ اس لیے چین کی معاشی صحت کا براہِ راست اثر آسٹریلین ڈالر پر پڑتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں، چین آسٹریلیا کی معیشت کو کوئی تیز رفتار ترقی (Momentum) تو فراہم نہیں کر رہا. لیکن وہ اسے کسی بڑے بحران سے بچانے کے لیے ایک مستحکم عنصر (Stabilizing Force) ضرور ثابت ہو رہا ہے۔ چین کی جی ڈی پی کی شرح نمو 5.0% سالانہ پر مستحکم ہے. اور وہاں کے مینوفیکچرنگ اور سروسز پی ایم آئی (PMI) انڈیکس دوبارہ 50 کی سطح سے اوپر آ چکے ہیں. جو معاشی پھیلاؤ (Expansion) کی علامت ہے۔
پیپلز بینک آف چائنا (PBoC) نے بھی اپنی بنیادی لون پرائم ریٹ (LPR) کو بالترتیب 3.00% اور 3.50% پر برقرار رکھا ہے. جس سے مارکیٹ کو یہ سگنل ملا ہے. کہ چینی حکام جلدی میں کوئی جارحانہ تبدیلی نہیں کرنا چاہتے۔
AUDUSD کا ٹیکنیکل انالیسس اور اہم سطحیں
ہمارا AUDUSD Forecast And Analysis ٹیکنیکل چارٹ (Technical Chart) پر ایک واضح بئیرش سیٹ اپ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈیلی ٹائم فریم (Daily Time Frame) کے مطابق مارکیٹ اس وقت 0.7002 پر ٹریڈ کر رہی ہے۔
اہم موونگ ایوریجز (Moving Averages)
قیمت اس وقت 55-day سمپل موونگ ایوریج (0.7132) اور 100-day سمپل موونگ ایوریج 0.7085 دونوں کے نیچے حرکت کر رہی ہے۔ ٹیکنیکل ٹریڈنگ کی رو سے، جب بھی قیمت ان اہم لائنوں کے نیچے ہوتی ہے. تو مارکیٹ پر سیلرز (Sellers) کا کنٹرول مضبوط مانا جاتا ہے۔
تاہم، قیمت ابھی بھی 200-day SMA (0.6854) کے اوپر ہے. جس کا مطلب ہے کہ طویل مدتی بلش ٹرینڈ (Long-term Bullish Trend) مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔
سپورٹ اور رزسٹنس لیولز (Support and Resistance Levels)
کسی بھی نئی پوزیشن کو کھولنے سے پہلے ٹریڈرز کو درج ذیل ٹیکنیکل لیولز کو مدنظر رکھنا چاہیے:
-
فوری رزسٹنس (Immediate Resistance): پہلا بڑا ہدف 0.7079 کا ہورائزنٹل لیول ہے. جس کے بعد 0.7085 (100-day SMA) اور 0.7132 (55-day SMA) ایک مضبوط سپلائی زون بناتے ہیں۔
-
اگلی بڑی رزسٹنس (Next Resistance): اگر قیمت 0.7132 کے اوپر بریک آؤٹ دیتی ہے. تو اگلا ہدف 0.7278 اور طویل مدت میں 0.7661 ہو سکتا ہے۔
-
فوری سپورٹ (Immediate Support): نیچے کی جانب سب سے اہم سپورٹ 200-day SMA ہے. جو 0.6854 پر واقع ہے، اور اس کے ٹھیک نیچے 0.6833 کا لیول ہے۔
-
گہری سپورٹ (Deeper Floors): اگر 0.6833 کی سطح ٹوٹتی ہے. تو مارکیٹ 0.6660 اور 0.6593 تک گر سکتی ہے۔

اختتامیہ.
مجموعی طور پر، ہمارے AUDUSD Forecast And Analysis سے یہ بات واضح ہوتی ہے. کہ اگرچہ آسٹریلیا کے بنیادی معاشی ڈھانچے (Fundamentals) میں اب بھی جان باقی ہے. لیکن قلیل مدتی (short-term) مارکیٹ سینٹیمنٹ مکمل طور پر امریکی ڈالر کے حق میں ہے۔
ٹریڈرز کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ 0.7000 کے پاس پرائس ایکشن (Price Action) کا انتظار کریں. اور کسی بھی جارحانہ ٹریڈ سے قبل جیوپولیٹیکل نیوز اور فیڈرل ریزرو کے بیانات پر کڑی نظر رکھیں۔
کیا آپ کے خیال میں RBA کی سخت پالیسی AUDUSD کو دوبارہ 0.7200 کی سطح پر لے جا سکے گی. یا جیوپولیٹیکل حالات اسے مزید نیچے گرائیں گے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



