ایشیئن اسٹاکس کی مارکیٹ سمری اور معاشی تجزیہ

آج ایشیئن مارکیٹس میں مجموعی طور ہر تیزی کا رجحان نظر آ رہا ہے ۔ جسکی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو چین کی طرف سے رسد میں استحکام کے لئے اٹھائے جانے کا اعلان اور دوسری بڑی وجہ امریکی معاشی ڈیٹا کا ڈالر پر دباؤ ہے۔ آج چین کی شنگھائی مارکیٹ کا کمپوزیٹ انڈیکس 14 پوائنٹس کے ساتھ 3292، جاپان کی نیکائی۔225 مارکیٹ کا انڈیکس 353 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 29222، تائیوان کا ٹی۔سیک انڈیکس 44 ہوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 15465 کی سطح پر بند ہوئے۔ ان سب کی وجوہات ٹیکنیکی سے زیادہ جغرافیائی اور سیاسی ہیں۔ چین اور تائیوان کے درمیان بڑے تصادم کا خطرہ ٹلتا ہوا نظر آ رہا ہےاور چین کے طرف سے تائیوان کے گھیراؤ میں نرمی کی وجہ سے ایشیئن مارکیٹس کو مثبت ٹریگر ملا یے۔ ہانگ کانگ کی مارکیٹ کا ہینگ سینگ انڈیکس 91 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 19922 پر آ گیا ہے اور کسی بھی وقت 20 ہزار کی نفسیاتی سطح کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ چین کی شینزین مارکیٹ 125 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 12595 پر آ گئی ہے ۔ کورین کوسپی آج 17 پوسئنٹس منفی زون میں بند ہوئی جسکی وجہ شمالی کوریا کے ساتھ تناؤ میں اضافہ ہے۔ آسٹریلین منفی معاشی رپورٹس کے باوجود اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 22 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 7127 کی سطح پر ہے جبکہ نیوزی لینڈ اسٹاکس انڈیکس محض 5 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 11852 پر بند ہوا جس کی وجہ ریزرو بینک کے طرف سے اگلے معاشی کوارٹر کی شرح سود میں غیر متوقع اضافے کے تخمینے کا جاری کیا جانا ہے۔ ایشیئن مارکیٹس میں آج سب سے اچھی پرفارمنس انڈیا کی ممبئی سینسیکس کی رہی جس نے کورونا کی عالمی وباء کے بعد پہلی بار بہترین والیوم، کاروباری حجم اور 417 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 60 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کی ۔ اسطرح ممبئی سینسیکس اسوقت 60 ہزار کی حد عبور کرنیوالی ایشیاء اور دنیا کی پہلی اسٹاک ایکسچینج بن گئی ہے۔ کاروباری دن کے اختتام پر سینسیکس انڈیکس 60260 کی سطح پر آ گیا ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔