پاکستان کے سرکاری اداروں (SOEs) کے 6 ٹریلین کے نقصانات: سرمایہ کاروں کے لیے اہم سبق

Deep financial crisis in Pakistan’s State-Owned Enterprises demands urgent reforms and strategic investment choices

پاکستان کی معاشی صورتحال ہمیشہ سے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ حال ہی میں، سرکاری اداروں یعنی State-Owned Enterprises – SOEs میں چھ ٹریلین روپے سے زائد کے مجموعی نقصانات کی خبر نے نہ صرف حکومت بلکہ مالیاتی مارکیٹ میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

یہ نقصانات ایک اشارہ ہیں کہ کئی دہائیوں سے جاری معاشی بدانتظامی اور اصلاحات کی کمی اب ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ایک تجربہ کار مالیاتی مارکیٹ کے حکمت عملی ساز کے طور پر، میں ان نقصانات کی گہرائی میں جا کر ان کی وجوہات، مارکیٹ پر ان کے ممکنہ اثرات، اور اس صورتحال میں ایک کامیاب سرمایہ کار کی حکمت عملی پر روشنی ڈالوں گا۔

خلاصہ 

  • پاکستان کے سرکاری اداروں کے نقصانات کی کیا وجہ ہے؟ (What is the reason for Pakistan SOE losses?) پاکستان کے سرکاری اداروں کے 6 ٹریلین روپے سے زائد کے نقصانات کی بنیادی وجوہات میں ناقص انتظامیہ، سیاسی مداخلت، بڑھتے ہوئے سرکلر قرض (Circular Debt)، اور پرانی ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔ یہ ادارے اپنی آمدنی سے کہیں زیادہ اخراجات کر رہے ہیں. جس کا بوجھ بالآخر حکومتی بجٹ پر پڑتا ہے۔

  • مارکیٹ پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے؟ ان نقصانات کا براہ راست اثر حکومت کے مالیاتی خسارے (Fiscal Deficit) پر پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کو بجٹ کے فرق کو پورا کرنے کے لیے زیادہ قرض لینا پڑتا ہے، جس سے افراط زر (Inflation) اور شرح سود (Interest Rates) میں اضافہ ہو سکتا ہے. جو اسٹاک مارکیٹ اور سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے منفی ہے۔

  • کن اداروں میں سب سے زیادہ نقصانات ہیں؟ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (DISCOs)، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA)، پاکستان ریلوے (Pakistan Railways)، اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) جیسے ادارے سرفہرست نقصانات والے اداروں میں شامل ہیں۔ ان اداروں کے بڑے نقصانات کی وجہ سے حکومت پر مزید مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • سرمایہ کاروں کے لیے کیا حکمت عملی ہونی چاہیے؟ موجودہ صورتحال میں، سرمایہ کاروں کو نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ وہ ادارے جو براہ راست سرکاری پالیسیوں سے متاثر ہوتے ہیں. ان سے دور رہنا بہتر ہے۔ اس کے بجائے، ٹھوس بنیادوں پر کھڑے، نجی شعبے کے کامیاب اداروں اور برآمدی کمپنیوں (Export-Oriented Companies) پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے. جو مقامی معاشی مسائل سے کم متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان میں SOEs کے نقصانات کی گہری وجوہات کیا ہیں؟

پاکستان میں سرکاری اداروں SOEs کے اربوں روپے کے نقصانات کوئی نئی بات نہیں. بلکہ یہ ایک مسلسل بڑھتا ہوا مسئلہ ہے جو کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ نقصانات صرف مالیاتی رپورٹس تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے پیچھے پیچیدہ انتظامی، سیاسی اور اقتصادی مسائل کی ایک لمبی داستان ہے۔

1. ناقص کارکردگی اور غیر پیشہ ورانہ انتظامیہ: سرکاری اداروں میں اکثر فیصلوں پر مبنی انتظامی حکمت عملی کا فقدان ہوتا ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پیشہ ور افراد کی کمی اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی تقرریاں ان اداروں کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔

2. سیاسی مداخلت اور غیر ضروری نوکریاں: ان SOEs کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ضرورت سے زیادہ ملازمین کی بھرتی (overstaffing)، اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے آپریشنل فیصلے (Operational Decisions) مشکل ہو جاتے ہیں۔ یہ بوجھ ان اداروں کی آمدنی پر بھاری پڑتا ہے۔

3. سرکلر قرض (Circular Debt) کا بڑھتا ہوا جال: خصوصاً توانائی کے شعبے میں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (DISCOs) اور پیداواری اداروں کے درمیان سرکلر قرض کا مسئلہ ایک بڑا بحران ہے۔ حکومت کی جانب سے سبسڈی اور بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے یہ قرض مسلسل بڑھ رہا ہے، جو ان اداروں کے مالی استحکام کو تباہ کر رہا ہے۔

4. پرانی ٹیکنالوجی اور ناکارہ انفراسٹرکچر: کئی SOEs، جیسے پاکستان ریلوے اور پاکستان اسٹیل ملز، میں کئی دہائیوں سے پرانی اور ناکارہ ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔ نجی شعبے کے برعکس، یہ ادارے جدیدیت کی رفتار برقرار نہیں رکھ پاتے. جس سے ان کی پیداواری صلاحیت (Productivity) اور منافع (Profitability) شدید متاثر ہوتی ہے۔

یہ نقصانات ملکی معیشت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں؟

سرکاری اداروں کے نقصانات کا اثر صرف ان اداروں تک محدود نہیں ہوتا. بلکہ یہ پوری قومی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ Pakistan Stock Exchange ، حکومتی بجٹ اور مجموعی سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

1. مالیاتی خسارے (Fiscal Deficit) میں اضافہ: جب یہ ادارے مسلسل خسارے میں چلتے ہیں. تو حکومت کو انہیں چلانے کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے مالی امداد (Bailouts) یا قرضوں کی ضمانتیں (Sovereign Guarantees) دینا پڑتی ہیں۔ یہ صورتحال حکومت کے مالیاتی خسارے کو بڑھاتی ہے. جس سے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہے۔

2. افراط زر اور شرح سود پر دباؤ: بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت اکثر نئے قرضے لیتی ہے. یا مرکزی بینک سے پیسے چھپواتی ہے، جس سے افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مرکزی بینک کو شرح سود بڑھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے. تاکہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے، جو کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو سست کر دیتا ہے۔

3. سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثر: جب ایک ملک کے بڑے سرکاری ادارے مسلسل ناکام ہو رہے ہوں. تو یہ غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں میں بے اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ اس سے سرمایہ کاری کا ماحول خراب ہوتا ہے. اور نئے کاروباروں کے لیے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔

نجکاری (Privatization) کیا حل ہے؟ اور اس کے فوائد اور چیلنجز کیا ہیں؟

نجکاری کیا ہے؟ نجکاری (Privatization) ایک ایسا عمل ہے جس میں حکومت SOEs کی ملکیت یا اس کے انتظام کو نجی شعبے کے حوالے کر دیتی ہے۔ حکومت کا موجودہ رجحان بھی یہی ہے کہ وہ نقصان میں چلنے والے کچھ بڑے اداروں، جیسے PIA، کو نجی شعبے کے حوالے کرے۔

نجکاری کے ممکنہ فوائد:

  • مالیاتی بوجھ میں کمی: نجی شعبے کے آنے سے حکومت کو SOEs کو دی جانے والی مالی امداد سے نجات ملے گی. جس سے مالیاتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

  • بہتر کارکردگی اور جدیدیت: نجی ادارے منافع کے لیے کام کرتے ہیں. اس لیے وہ کارکردگی بہتر بنانے، لاگت کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر توجہ دیں گے۔

  • سرمایہ کاری اور ترقی: نجکاری سے نئے سرمایہ کاروں کو مواقع ملیں گے. اور ان اداروں کی ترقی میں تیزی آئے گی۔

نجکاری کے چیلنجز:

  • سیاسی مزاحمت: نجکاری کے خلاف سیاسی اور مزدور تنظیموں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے. جو ملازمین کے روزگار کے خدشات سے منسلک ہے۔

  • سماجی قیمت: نجی ادارے منافع پر زیادہ زور دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے. جو عام صارفین کے لیے مہنگی ثابت ہو سکتی ہیں۔

  • مناسب قیمت کا حصول: حکومت کو اکثر یہ چیلنج درپیش ہوتا ہے کہ کیا وہ ان اداروں کو ان کی حقیقی قیمت پر فروخت کر پائے گی. خاص طور پر جب ان پر بھاری قرضے اور Liabilities ہوں۔

ایک سرمایہ کار کے طور پر آپ کی حکمت عملی کیا ہو؟

 مارکیٹ میں، خبروں کو سمجھنا اور ان کی بنیاد پر دانشمندانہ فیصلے کرنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ پاکستان کے سرکاری اداروں کے نقصانات کی خبر کو سرمایہ کاروں کو ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے. تاکہ وہ اپنی پورٹ فولیو (Portfolio) کی دوبارہ جانچ کریں۔

  • 1. حکومتی اداروں سے محتاط رہیں: ایسے ادارے جو حکومت کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں. یا جن کی کارکردگی سرکاری پالیسیوں پر منحصر ہے، ان سے محتاط رہیں۔ ان کی اسٹاک پرائسز (Stock Prices) اکثر غیر متوقع خبروں اور اعلانات پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔

  • 2. نجی شعبے کے مستحکم اداروں پر توجہ دیں: ایسے اداروں کو تلاش کریں جو نجی شعبے میں کامیاب ہیں. اور جن کا کاروبار ٹھوس بنیادوں پر کھڑا ہے۔ بینکنگ، فارماسیوٹیکل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایسی کمپنیاں ہو سکتی ہیں۔

  • 3. برآمدی شعبے پر غور کریں: برآمدی کمپنیاں (Export-Oriented Companies) جیسے ٹیکسٹائل یا سافٹ ویئر ہاؤسز، مقامی معاشی چیلنجز سے نسبتاً کم متاثر ہوتی ہیں۔ ان کمپنیوں کی آمدنی غیر ملکی کرنسی (Foreign Currency) میں ہوتی ہے. جو انہیں مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف ایک تحفظ فراہم کرتی ہے۔

  • 4. طویل مدتی نظریہ اپنائیں: موجودہ صورتحال مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) کا سبب بن سکتی ہے.۔ ایک تجربہ کار سرمایہ کار جانتا ہے. کہ ایسے وقت میں شارٹ ٹرم ٹریڈنگ کی بجائے طویل مدتی سرمایہ کاری کا نظریہ زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اپنی سرمایہ کاری کو متنوع (Diversify) بنائیں تاکہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔

حرف آخر.

پاکستان کے SOEs میں 6 ٹریلین روپے سے زائد کے نقصانات ایک سنگین مسئلہ ہیں. جس کے حل کے لیے گہری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ صرف حکومت کے بجٹ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری معیشت کے لیے ایک ڈھانچہ جاتی چیلنج (Structural Challenge) ہے۔

مالیاتی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو اس صورتحال کو سمجھ کر اپنی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دینا چاہیے۔ طویل عرصے کے دوران، مارکیٹ ان اداروں کی قدر کرے گی. جو کارکردگی، شفافیت اور منافع پر توجہ دیتے ہیں۔

ایک ماہر کی حیثیت سے میرا مشورہ ہے کہ مارکیٹ میں صرف خبروں پر ردعمل دینے کی بجائے ان کے گہرے معاشی اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس طرح کے چیلنجز اکثر نجی شعبے میں بہتر مواقع پیدا کرتے ہیں. جو مستقبل میں ترقی کر سکتے ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا نجکاری اس مسئلے کا حتمی حل ہے، یا حکومتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانے کے دیگر طریقے بھی ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار کریں اور ایک دانشمندانہ سرمایہ کاری کے سفر کا آغاز کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button