USDCAD کی قدر میں کمی، سرمایہ کاروں کا محتاط انداز

10 سالہ مدت کی U.S Bonds Yields میں کمی، S&P500 میں گراوٹ

USDCAD کی قدر میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ جسکی بنیادی وجوہات میں 10 سالہ مدت کی U.S Bonds Yields میں ہونیوالی کمی اور اسٹاکس بینچ مارک S&P500 Futures میں گراوٹ ہے۔ واضح رہے کہ کینیڈین ڈالر دیگر کرنسیز کے برعکس اسٹاکس اور WTI آئل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔

USDCAD میں کمزوری کی وجوہات

کینیڈین ڈالر کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USDCAD) میں گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ روس میں ہونیوالی بغاوت ہے۔ اگرچہ 24 گھنٹوں کے دوران اس پر قابو پا لیا گیا لیکن پیرا ملٹری فورسز ویگنرز کا روس اور یوکرائن کے تیل کے ذخائر سے مالا مال علاقے پر مکمل کنٹرول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کروڈ آئل کی قیمتوں میں بھی کوئی واضح سمت نظر نہیں آ رہی۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ کروڈ آئل کی قیمتوں سے USDCAD کی طلب (Demand) بھی متاثر ہوتی ہے۔

کروڈ آئل کی قیمتوں کا کینیڈین ڈالر سے کیا تعلق ہے ؟

کینیڈا امریکہ کو کروڈ آئل سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ WTI Oil میں کینیڈین شیئر امریکہ سے بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ Oil Prices میں کمی سے ملک میں امریکی ڈالر کی لیکوئیڈٹی کم ہو جاتی ہے اور اسکی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسکے برعکس جب WTI کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے تو کینیڈا کا فی بیرل منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسکے نتیجے میں ملک کے اندر امریکی ڈالرز کی ترسیل میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور USDCAD کی قدر مستحکم ہو جاتی ہے۔

S&P کے USDCAD پر اثرات

آئل کی زیادہ تر کمپنیوں کے اسٹاکس S&P500 میں رجسٹرڈ ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس مارکیٹ سے کینیڈین ڈالر کا گہرا تعلق ہے جو کہ ٹریڈ ہی WTI کے ساتھ کرتا ہے۔ آج Future Stocks میں سرمایہ کار محتاط انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس سے کماڈٹیز کے علاوہ اپنے کینیڈین ہم منصب کے خلاف امریکی ڈالر بھی محدود رینج اپنائے ہوئے منفی زون میں ٹریڈ کر رہا ہے۔

ان کے علاوہ مئی کی Consumer Price Index کے رواں ہفتے کے دوران اجراء سے بھی منظرنامہ قدرے منفی ہے۔ یہ رپورٹ اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ بینک آف کینیڈا (BOC) آئندہ ماہ Monetary Policy کیلئے اسکے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔

ٹیکنیکی جائزہ

اسوقت USDCAD اپنی اختتام ہفتہ کی قیمت سے 0.21 فیصد کمی کے ساتھ 1.3151 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ منفی ٹریگرز کے زیراثر اپنی 20 اور 50 روزہ Moving Averages سے نیچے آ گیا ہے جو کہ بالترتیب 1.3347 اور 1.3346 پر ہیں۔ جبکہ 100SMA ان دونوں سے اوپر 1.3505 پر ہے۔ طویل المدتی 200 روزہ حرکاتی اوسط بھی اسکے قریب 1.3519 پر ہے۔ اسی طرح Fibonacci کی 61.8 فیصد ریٹریسمنٹ 1.3175 کی سطح ہے۔

USDCAD کی قدر میں کمی، سرمایہ کاروں کا محتاط انداز

اگر موجودہ سطح پر سپورٹ لیولز کا جائزہ لیں تو 1.3142 کی فوری سپورٹ کے بعد 1.3101 اور 1.3060 کے اہم سپورٹ لیولز ہیں۔ تیسری سطح سے نیچے یہ مکمل طور پر بیئرش ایریا میں داخل ہو جائے گا جبکہ اس کی مزاحمتی حدیں (Resistance Levels) 1.3225, 1.3267 اور 1.3308 ہیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button