IMF کی رپورٹ، Elite Capture نے پاکستان کے معاشی نظام کی جڑیں ہلا دیں.
How entrenched interests in key sectors continue to drain Pakistan’s fiscal stability
پاکستان کی معیشت ایک ایسے چکر میں پھنسی ہوئی ہے. جہاں Elite Capture نے اس کے مالیاتی مستقبل کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ IMF کی تازہ ترین رپورٹ نے نہ صرف اس بحران کی شدت ظاہر کی ہے. بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ کن شعبوں میں بیٹھے بااثر افراد نے قومی دولت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔
چینی سے لے کر رئیل اسٹیٹ، زراعت سے توانائی تک، ہر کھیت، ہر فیکٹری اور ہر مارکیٹ میں پھیلی یہ گرفت اصلاحات کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ یہی وہ مافیا ہے. جو پالیسی بناتا بھی ہے. فائدہ بھی لیتا ہے اور نقصان عوام کو منتقل کر دیتا ہے۔
اہم نکات
-
ایلیٹ کلچر کا انکشاف: آئی ایم ایف (IMF) کی تازہ رپورٹ نے یہ ظاہر کیا ہے. کہ چینی، رئیل اسٹیٹ، زراعت، اور توانائی جیسے اہم شعبوں میں موجود طاقتور اور بااثر گروہ (ایلیٹ) ملک کی اقتصادی اصلاحات کی کوششوں کو مسلسل ناکام بنا رہے ہیں. جس سے پاکستان کو اربوں کا نقصان ہو رہا ہے۔
-
ٹیکس ریونیو میں بڑے پیمانے پر کمی: رئیل اسٹیٹ اور زرعی آمدنی پر مناسب ٹیکس نہ لگنے، اور مراعات یافتہ ٹیکس نظام (Favorable Taxation arrangements) کی وجہ سے مالی سال 2023 میں جی ڈی پی (GDP) کے 4.61% کے برابر ریونیو کا نقصان ہوا. جو ملک کے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب (Tax-to-GDP Ratio) کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
-
سیکٹرل مثالیں: چینی کی صنعت (Sugar Industry) ایک ‘ٹیکسٹ بک مثال’ کے طور پر سامنے آئی ہے. جہاں صنعت کاروں اور سیاسی رہنماؤں کے گٹھ جوڑ نے دہائیوں سے حکومتی پالیسیوں، سبسڈیوں، اور حفاظتی ٹیرف (Protective Tariffs) کو اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔
-
اصلاحات کی ناکامی کا خطرہ: آئی ایم ایف نے واضح انتباہ کیا ہے. کہ جب تک ان خصوصی مراعات کو ختم نہیں کیا جاتا. ملک کی معاشی استحکام (Economic Stabilization) کی تمام کوششیں بار بار ناکامی سے دوچار ہوتی رہیں گی۔
-
تاریخی جڑیں: ایلیٹ کیپچر کی جڑیں برطانوی سامراج (Colonial Policies) کی جانب سے زمینداروں کو دی جانے والی خصوصی اہمیت اور آزادی کے بعد بھی ان پالیسیوں کے تسلسل میں پیوست ہیں۔
Elite Capture کیا ہے اور پاکستان کی معیشت کے لیے یہ کیوں خطرناک ہے؟
ایلیٹ کیپچر (Elite Capture) دراصل یہ ہے کہ طاقتور اور بااثر گروہ اپنے ذاتی مالی مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لیے ملکی ترقیاتی عمل کو متاثر کرتے ہیں. وسائل کو اپنی طرف منتقل کرتے ہیں. اور حکومتی پالیسیوں کی تشکیل میں اثر و رسوخ ڈالتے ہیں۔ یہ وہ اہم رکاوٹ ہے جو پاکستان کی ترقی کی راہ میں کھڑی ہے. جس کی وجہ سے ایک بڑا اور مستحکم سرمایہ کار طبقہ (investor class) ابھر نہیں پا رہا ہے۔
اس کا سیدھا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریگولیٹری ماحول (Regulatory Environment) شفاف (Transparent) نہیں رہتا. اور صرف چند مخصوص افراد ہی منافع کماتے ہیں۔ یہ فنانشل مارکیٹس کے اعتماد (Confidence) کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ٹیکس چوری کا نہیں. بلکہ یہ قانون اور پالیسیوں کے انتخابی اور من مانے نفاذ (Selective and Arbitrary Enforcement) سے جڑا ہے، جو طاقتور افراد کو عام شہریوں پر سبقت دیتا ہے۔ طویل المدتی ترقی کے لیے یکساں کاروباری ماحول (Level Playing Field) کا فقدان ملک کے معاشی امکانات کو محدود کر دیتا ہے۔
IMF کا تشخیصی جائزہ: پاکستان کے کلیدی شعبوں میں ایلیٹ کا اثر
IMF کی ‘پاکستان گورننس اور کرپشن تشخیصی رپورٹ’ (Pakistan Governance and Corruption Diagnostic Assessment) ایک اہم دستاویز ہے. جو ملک کے معاشی ڈھانچے میں گہرائی میں موجود عدم مساوات (Inequality) کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر چار شعبوں پر زور دیا گیا ہے. جو اس مسئلے کا مرکز ہیں۔
1. چینی کی صنعت: ‘نظام کا استحصال’ کی بہترین مثال
چینی کی صنعت ایک دہائیوں پرانی مثال ہے کہ کس طرح اقتصادی ایلیٹ (Economic Elites) اور ریاستی ریگولیٹرز کا گٹھ جوڑ عوامی مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اس شعبے کے بااثر مالکان، جن میں سے کئی سیاسی عہدوں پر بھی فائز ہیں، نے پالیسیوں کو اس طرح سے متاثر کیا ہے. کہ ہمیشہ گنے کی ‘تجویز کردہ’ قیمتیں (Recommended Prices) اور اعلیٰ حفاظتی ٹیرف برقرار رہیں. جس سے صارفین کو قیمتوں میں اضافے اور ملک کی برآمدی مسابقت (Export Competitiveness) کو نقصان پہنچا۔
میرا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کسی بھی شعبے میں حکومتی مداخلت یا سبسڈی بہت زیادہ ہو جاتی ہے. تو وہ سرمایہ کاری (Investment) کے معیار کو بگاڑ دیتی ہے۔ مارکیٹیں ایسے شعبوں کو "سیاسی خطرہ” (Political Risk) کے طور پر دیکھتی ہیں۔
طویل المدتی بنیادوں پر ان مراعات یافتہ کمپنیوں کے شیئرز (Shares) اکثر کم قیمت پر ہی رہتے ہیں. کیونکہ ان کی منافع خوری (Profitability) ان کی کارکردگی (Efficiency) کے بجائے حکومتی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ یہ بات مارکیٹ میں پائیدار ترقی (Sustainable Growth) کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
2018–19 کا واقعہ: رپورٹ نے اس دور کا ذکر کیا جب حکومتی فیصلے نے بڑی مقدار میں چینی کی برآمد (Export) کی اجازت دی، یہاں تک کہ اس پر سبسڈی بھی دی. جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی. اور عام صارف کے لیے قیمتوں میں شدید اضافہ ہو گیا۔
2. رئیل اسٹیٹ اور زرعی شعبہ: ٹیکس ریونیو کا بڑا نقصان
IMF کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت میں کم ٹیکس وصولی (low tax collection) کی ایک بڑی وجہ رئیل اسٹیٹ اور زرعی آمدنی پر ٹیکس کا نہ لگنا ہے۔ رئیل اسٹیٹ (Real Estate) میں ٹیکس چھوٹ (Tax Exemptions) اور زرعی آمدنی پر ٹیکس کی عدم موجودگی ملک کے مالیاتی چیلنجز (Fiscal Challenges) کو بڑھاتی ہے۔
حکومت کا اپنا اندازہ ہے کہ مالی سال 2023 میں صرف ٹیکس کی مراعات (tax expenditures) سے ہونے والا ریونیو کا نقصان جی ڈی پی کے 4.61% کے برابر تھا۔
| شعبہ | ٹیکس مراعات کا اثر | مالیاتی منڈیوں پر اثر |
| رئیل اسٹیٹ | ٹیکس چھوٹ، بلیک منی کی کھپت | سرمائے کا مارکیٹ سے غیر پیداواری (Non-Productive) اثاثوں میں بہاؤ |
| زراعت | آمدنی پر ٹیکس کی چھوٹ | ٹیکس بنیاد (Tax Base) کی تنگی، حکومتی قرض میں اضافہ |
| توانائی | موافق ٹیکس انتظام (favourable taxation) | گردشی قرضہ (Circular Debt) اور توانائی سیکٹر کا عدم استحکام |
یہ صورتحال کیپٹل مارکیٹ میں عدم مساوات پیدا کر رہی ہے اور سرمائے کو ایسی جگہوں پر لے جاتی ہے. جو ملک کی پیداواری صلاحیت (Productive Capacity) میں اضافہ نہیں کرتے. مثلاً رئیل اسٹیٹ میں غیر پیداواری سرمایہ کاری (Non-Productive Investment).
3. تاریخی تناظر اور ایلیٹ کا مضبوط ہونا
آئی ایم ایف (IMF) نے نوٹ کیا کہ پاکستان کی ایلیٹ کلاس نے اپنی طاقت کو زمین پر کنٹرول کے ذریعے مضبوط کیا۔ یہ نوآبادیاتی پالیسیوں (colonial policies) کا ورثہ ہے. جس نے زمینداروں (Landowners) کو اہمیت دی۔ آزادی کے بعد بھی ان پالیسیوں کا جاری رہنا ایلیٹ کے معاشی کنٹرول کو مزید مستحکم کرتا گیا۔
-
اقوام متحدہ کی ترقیاتی رپورٹ (UNDP) 2020 کا حوالہ: اس رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا تھا. کہ صرف کارپوریٹ سیکٹر (Corporate Sector) کے لیے "ایلیٹ مراعات” (Elite Privilege) 4.7 بلین ڈالر کے برابر تھیں، جو اس مسئلے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
حرف آخر
بطور ایک تجربہ کار مالیاتی منڈیوں کے مواد کے حکمت عملی کار (Content Strategist) ، میرا ماننا ہے. کہ مارکیٹیں ہمیشہ رسک (risk) اور استحکام (stability) کو دیکھتی ہیں۔
یہ ایلیٹ کیپچر بنیادی طور پر ایک سٹرکچرل رسک (Structural Risk) ہے۔ جب تک سرمایہ کاروں کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ قوانین سب کے لیے یکساں ہیں. اور منافع خوری کا دارومدار محنت اور کارکردگی پر ہے. نہ کہ سیاسی تعلقات پر. تب تک وہ
پاکستان میں طویل المدتی اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری (Investment) سے گریز کریں گے۔ ملک کی اقتصادی شرح نمو (Economic Growth) اور مالیاتی منڈیوں کی ترقی دونوں اس بات پر منحصر ہیں. کہ حکومت کس قدر جرات مندی سے اس مسئلے کو حل کرتی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ کے نزدیک اس مسئلے کا سب سے مؤثر حل کیا ہے؟ کیا آپ کی تجارتی حکمت عملی (trading strategy) پر ان سٹرکچرل مسائل کا کوئی اثر پڑتا ہے؟ نیچے تبصرہ کریں اور اپنے خیالات کا اظہار کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



