سونے کی قیمت میں اضافہ مگر مضبوط تیزی غائب — ایران سفارتکاری اور مہنگائی کے خدشات نے مارکیٹ کو الجھا دیا

Gold سونے کی قیمت (XAU/USD) میں منگل کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تقریباً $4,765 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، لیکن مارکیٹ میں ابھی بھی واضح سمت کا فقدان ہے۔
سونے کی قیمت میں اضافہ بنیادی طور پر کمزور امریکی ڈالر کی وجہ سے ہوا
جب ڈالر کمزور ہوتا ہے تو سونا سستا ہو جاتا ہے، جس سے عالمی خریداروں کی طلب بڑھ جاتی ہے
گزشتہ سیشن میں سونا $4,650 سے ریباؤنڈ ہوا
یہ ظاہر کرتا ہے کہ نیچے کی سطحوں پر مضبوط خریدار موجود ہیں
تاہم مارکیٹ میں “strong bullish conviction” کی کمی ہے
یعنی سرمایہ کار ابھی بڑے پیمانے پر خریداری کے لیے مکمل پراعتماد نہیں
نتیجہ: سونا اوپر جا رہا ہے، مگر مضبوط ٹرینڈ ابھی تشکیل نہیں پایا
ایران سفارتکاری: ڈالر پر دباؤ، Gold سونے کو سہارا
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اگرچہ مکمل کامیاب نہیں ہوئے، لیکن امیدیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے
اس بیان نے مارکیٹ میں مثبت جذبات پیدا کیے
ایک ممکنہ معاہدے کا فریم ورک موجود ہے
سرمایہ کار اسے جیوپولیٹیکل رسک میں کمی کے طور پر دیکھتے ہیں
اس امید کی وجہ سے “risk-on sentiment” پیدا ہوا
سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کے بجائے خطرے والے اثاثوں کی طرف جاتے ہیں
لیکن ایک اہم بات:
جب رسک آن سینٹیمنٹ بڑھتا ہے تو ڈالر کمزور ہوتا ہے
اور یہی کمزوری سونے کی قیمت کو سپورٹ دیتی ہے
نتیجہ: سفارتکاری کی امید = ڈالر کمزور + سونا مضبوط
فیڈ کی غیر یقینی پالیسی: سونے کے لیے اہم سہارا
امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی پر غیر یقینی صورتحال سونے کی قیمت کے لیے ایک بڑا سپورٹ فیکٹر ہے۔
مارکیٹ کو واضح نہیں کہ فیڈ شرح سود بڑھائے گا یا کم کرے گا
یہ غیر یقینی صورتحال ڈالر کو دباؤ میں رکھتی ہے
CME FedWatch کے مطابق دسمبر میں شرح سود میں کمی کا امکان موجود ہے
یہ سونے کے لیے مثبت سگنل ہے
سونا ایک non-yielding asset ہے
یعنی اس پر کوئی سود نہیں ملتا، اس لیے کم شرح سود اس کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے
مزید وضاحت:
اگر شرح سود کم ہو → ڈالر کمزور → سونا اوپر
اگر شرح سود زیادہ ہو → ڈالر مضبوط → سونا نیچے
نتیجہ: فیڈ کی غیر یقینی پالیسی سونے کو سپورٹ کر رہی ہے
مہنگائی اور توانائی بحران: سونے کی تیزی محدود
اگرچہ Gold سونا اوپر جا رہا ہے، لیکن مہنگائی کے خدشات اس کی تیزی کو محدود کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا
اس سے عالمی مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ہے
امریکی ڈیٹا کے مطابق مارچ میں مہنگائی 4 سال کی بلند ترین سطح پر رہی
یہ فیڈ کو شرح سود بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے
اگر فیڈ شرح سود بڑھاتا ہے
تو ڈالر مضبوط ہوگا اور سونے پر دباؤ بڑھے گا
اسی لیے:
مہنگائی سونے کے لیے mixed signal ہے
ایک طرف محفوظ اثاثہ کے طور پر demand بڑھتی ہے
دوسری طرف ڈالر مضبوط ہو کر سونے کو نیچے دباتا ہے
نتیجہ: مہنگائی = سونے کی تیزی پر بریک
جیوپولیٹیکل کشیدگی: مارکیٹ میں بے یقینی
Strait of Hormuz کی صورتحال نے عالمی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔
امریکہ نے اس اہم سمندری راستے پر ناکہ بندی شروع کر دی ہے
یہ عالمی تیل سپلائی کے لیے بڑا خطرہ ہے
ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی
اس سے جنگ کے خطرات بڑھ گئے
اس صورتحال نے مارکیٹ میں uncertainty کو بڑھا دیا ہے
اثر:
Gold سونا → محفوظ اثاثہ ہونے کی وجہ سے فائدہ اٹھاتا ہے
ڈالر → بحران کے دوران محفوظ کرنسی ہونے کی وجہ سے مضبوط رہتا ہے
نتیجہ: کشیدگی دونوں (سونا + ڈالر) کو سپورٹ دے رہی ہے
Goldتکنیکی تجزیہ: سونے کی سمت ابھی غیر واضح
🔹 مزاحمتی سطحیں (Resistance)
$4,855 (200 SMA)
یہ اہم رکاوٹ ہے، اس کے اوپر بریک آؤٹ تیزی کو مضبوط کرے گا
$4,913 (61.8% Fibonacci)
اس سطح کو عبور کرنا bullish confirmation سمجھا جائے گا
$5,133 اور $5,413
اگلے بڑے ہدف
مطلب: سونے کو مزید اوپر جانے کے لیے strong breakout چاہیے
سپورٹ لیولز (Support)
$4,759
فوری سپورٹ، اس کے نیچے کمزوری شروع ہو سکتی ہے
$4,604 اور $4,413
درمیانی سپورٹ لیولز
$4,104
مضبوط بیس

مطلب: اگر سونا نیچے آتا ہے تو یہ لیولز اہم رہیں گے
انڈیکیٹرز کی صورتحال
RSI 57
ہلکی bullish مومینٹم
MACD
مومینٹم کمزور ہو رہا ہے
نتیجہ:
مارکیٹ میں تیزی موجود ہے، مگر ابھی مکمل اعتماد نہیں
حتمی نتیجہ: سونا کیوں رینج میں ہے؟
اس وقت سونے کی مارکیٹ تین بڑی طاقتوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے:
ایران سفارتکاری → سونے کے لیے مثبت
مہنگائی → ڈالر کو سپورٹ
جیوپولیٹیکل کشیدگی → دونوں کو سپورٹ
اسی وجہ سے:
سونا اوپر جا رہا ہے
لیکن مضبوط بریک آؤٹ نہیں ہو رہا
جب تک ان عوامل میں واضح سمت نہیں آتی، سونا range-bound رہ سکتا ہے
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



