Crypto Bill اور ٹرمپ انتظامیہ: کیا Digital Assets کا مستقبل سیاسی رسہ کشی کی نذر ہو جائے گا؟

Political Clash Over Crypto Regulation Raises Uncertainty for Digital Asset Markets

امریکہ میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے قانون سازی ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے. جہاں سیاست اور معیشت آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے. کہ وہ کسی ایسے Crypto Market Structure Bill کو قبول نہیں کرے گی. جو صدر یا ان کے خاندان کو نشانہ بنائے۔ اس تنازعے نے جہاں قانون سازی کی رفتار کو سست کر دیا ہے. وہاں عالمی کرپٹو مارکیٹ میں Digital Assets کے حوالے سے بے یقینی کی لہر بھی پیدا کر دی ہے۔

خلاصہ.

  • ریڈ لائنز (Red Lines): ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے. کہ وہ ایسی کسی اخلاقی شق (Ethics Provision) کو قبول نہیں کریں گے. جو صدر یا ان کے خاندان کے کرپٹو کاروبار کو براہ راست نشانہ بنائے۔

  • سیاسی تعطل: ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان "انٹی کرپشن” قوانین پر اختلافات کی وجہ سے Crypto Market Structure Bill کی منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔

  • مارکیٹ پر اثر: اس بل کا مقصد اسٹیبل کوائنز (Stablecoins) اور کرپٹو مارکیٹ کے ڈھانچے کو ریگولیٹ کرنا ہے. جو کہ مارکیٹ کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

  • ڈیڈ لائن: وائٹ ہاؤس نے انڈسٹری کے ماہرین کو فروری کے آخر تک Crypto Market Structure Bill پر سمجھوتہ کرنے کی ہدایت کی ہے. تاکہ وسط مدتی انتخابات (Midterm elections) سے پہلے اسے منظور کیا جا سکے۔

Crypto Market Structure Bill کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

Crypto Market Structure Bill ایک جامع قانونی فریم ورک ہے. جس کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں (Digital assets) کی تجارت، اسٹیبل کوائنز کے اجراء اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ یہ بل اس لیے اہم ہے. کیونکہ اس وقت امریکہ میں کرپٹو کے حوالے سے قوانین واضح نہیں ہیں. جس کی وجہ سے بڑی مالیاتی کمپنیاں مارکیٹ میں کھل کر آنے سے کتراتی ہیں۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی بڑے ریگولیٹری فریم ورک (Regulatory Frameworks) جیسے Dodd-Frank Act پر بحث ہوتی ہے. تو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال (Volatility) بڑھ جاتی ہے۔ کرپٹو مارکیٹ اس وقت اسی مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں سرمایہ کار قانونی وضاحت (Legal Clarity) کا انتظار کر رہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے "ریڈ لائنز” کا کیا مطلب ہے؟

صدر ٹرمپ کے ڈیجیٹل اثاثوں کے مشیر، پیٹرک وٹ (Patrick Witt) نے واضح کیا ہے کہ White House ایسے کسی بل پر دستخط نہیں کرے گا جو صدر کو ان کے ذاتی کرپٹو کاروباری تعلقات کی بنیاد پر نشانہ بنائے۔ ڈیموکریٹس، خاص طور پر سینیٹر ایڈم شف، ایسی سخت اخلاقی شقیں (Ethics Provisions) شامل کرنا چاہتے ہیں. جو اعلیٰ سرکاری حکام اور ان کے خاندانوں کو کرپٹو انڈسٹری سے فائدہ اٹھانے سے روکیں۔

وٹ کے مطابق، یہ تجاویز "اشتعال انگیز” ہیں اور ان کا مقصد انڈسٹری کی بہتری کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ یہ ایک "مارکیٹ اسٹرکچر بل” ہونا چاہیے، نہ کہ "ایتھکس بل”۔

سیاسی اختلافات اور مارکیٹ پر ان کے اثرات

اختلافی نکتہ وائٹ ہاؤس / ریپبلکنز کا موقف ڈیموکریٹس کا موقف
اخلاقی شقیں صدر یا ان کے خاندان کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ سرکاری حکام پر کرپٹو سے منافع کمانے پر پابندی ہو۔
اسٹیبل کوائنز بینکوں کے لیے آسان شرائط اور پیداواری ماڈل۔ سخت مالیاتی کنٹرول اور بینکنگ قوانین کا نفاذ۔
قانون سازی کی رفتار فروری کے آخر تک حتمی فیصلہ چاہتے ہیں۔ تفصیلی جانچ پڑتال اور سخت قواعد پر اصرار۔

کیا امریکی حکومت کے پاس کرپٹو کا کوئی ذخیرہ ہے؟

ایک اہم سوال جو پیٹرک وٹ سے پوچھا گیا وہ یہ تھا. کہ امریکی حکومت کے پاس اس وقت کتنا کرپٹو ذخیرہ (Crypto Stockpile) موجود ہے۔ اگرچہ وٹ نے اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا. لیکن مارکیٹ کے ماہرین جانتے ہیں. کہ امریکہ کے پاس ضبط شدہ اثاثوں کی شکل میں اربوں ڈالر کے بٹ کوائن (Bitcoin) موجود ہیں۔

ٹرمپ کا منصوبہ ایک "وفاقی اسٹاک پائل” (Federal Stockpile) بنانے کا ہے. جو بٹ کوائن کو ایک اسٹریٹجک ریزرو اثاثہ (Strategic Reserve Asset) کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس حوالے سے شفافیت کی کمی مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کو جنم دیتی ہے۔

بینکنگ انڈسٹری اور کرپٹو کا ٹکراؤ

Crypto Market Structure Bill کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بینکنگ سیکٹر اور کرپٹو انڈسٹری کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ روایتی بینک (Traditional Banks) پریشان ہیں کہ اگر اسٹیبل کوائنز کو کھلی چھوٹ دی گئی. تو ان کے ڈپازٹ بزنس (Deposit Business) کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پیٹرک وٹ نے حال ہی میں بینکنگ نمائندوں سے ملاقات کی، جہاں یہ بات سامنے آئی کہ بینکرز ابھی تک اسٹیبل کوائن ییلڈ (Stablecoin Yield) کے معاملے پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

فنانشل مارکیٹس میں یہ ایک قدیم جنگ ہے. پرانا نظام (Legacy systems) ہمیشہ نئے اور موثر نظام (Disruptive tech) کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ 2008 کے بحران کے بعد بینکوں پر سخت ریگولیشنز لگیں. اور اب وہ چاہتے ہیں کہ کرپٹو پر بھی ویسے ہی سخت قوانین لاگو ہوں تاکہ مقابلہ برابر رہے۔

یو ایس کرپٹو مارکیٹ اسٹرکچر بل کے اثرات (US Crypto Market Structure Bill Impact)

اگر Crypto Market Structure Bill منظور ہو جاتا ہے. تو اس کے اثرات دور رس ہوں گے:

  1. ادارتی سرمایہ کاری (Institutional Inflow): واضح قوانین کے بعد بلیک راک (BlackRock) جیسے بڑے ادارے مزید اعتماد کے ساتھ مارکیٹ میں آئیں گے۔

  2. اسٹیبل کوائن کا استحکام: یو ایس ڈی سی (USDC) اور دیگر اسٹیبل کوائنز کو قانونی تحفظ ملے گا، جس سے ڈالر کی عالمی حیثیت مضبوط ہوگی۔

  3. ٹیکنالوجی کی منتقلی: اگر امریکہ میں قوانین بہت سخت ہوئے، تو کرپٹو کمپنیاں دبئی یا سنگاپور منتقل ہو سکتی ہیں۔

مستقبل کی حکمت عملی: سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ

وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) قریب آ رہے ہیں. اور اگر فروری کے آخر تک کوئی سمجھوتہ نہ ہوا. تو یہ بل التواء کا شکار ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ صرف قیمتوں پر نہیں. بلکہ واشنگٹن سے آنے والی خبروں پر بھی نظر رکھیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا صدر ٹرمپ کو اپنے خاندان کے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے Crypto Market Structure Bill میں تبدیلی کرنی چاہیے. یا ملک کے وسیع تر مفاد میں ڈیموکریٹس کے مطالبات مان لینے چاہئیں؟ نیچے کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button