سونا ڈالر کی کمزوری سے سنبھل گیا، مگر دباؤ برقرار

جمعہ کے روز Gold سونے (XAU/USD) کی قیمتوں میں محدود بحالی دیکھنے میں آئی۔ کیونکہ امریکی ڈالر میں وقتی کمزوری پیدا ہوئی۔ ایران سے متعلق سفارتی اشاروں نے مارکیٹ میں کچھ مثبت جذبات پیدا کیے، جس سے سونے کو سہارا ملا۔ تاہم، مجموعی طور پر سونا اب بھی ہفتہ وار بنیاد پر خسارے کی طرف گامزن ہے۔ جو اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ کہ مارکیٹ میں بنیادی دباؤ ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔ اس وقت سونا تقریباً $4,730 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ جبکہ انٹرا ڈے میں $4,657 کی کم ترین سطح کو چھو چکا ہے۔
ایران سے متعلق پیش رفت اور ڈالر کی کمزوری نے سونے کو وقتی سہارا دیا
حالیہ خبروں کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد کے دورے پر ہیں۔ جہاں وہ پاکستانی حکام سے ملاقات کریں گے۔ اگرچہ یہ ملاقات براہ راست امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے نہیں ہے۔ لیکن اس سے مستقبل میں ممکنہ سفارتی بات چیت کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یہی امید امریکی ڈالر پر دباؤ کا باعث بنی۔ جس کے نتیجے میں ڈالر انڈیکس اپنی حالیہ بلند سطح سے نیچے آ گیا۔ ڈالر کی کمزوری عام طور پر سونے کے لیے مثبت ہوتی ہے، کیونکہ سونا ڈالر میں قیمت کیا جاتا ہے۔ اس لیے کمزور ڈالر سونے کو خریداروں کے لیے سستا بناتا ہے۔
تیل کی بڑھتی قیمتیں، مہنگائی کے خدشات اور فیڈ کی پالیسی Gold سونے کے لیے رکاوٹ
اگرچہ سونے نے وقتی طور پر بحالی دکھائی، لیکن بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں اور مہنگائی کے خدشات اس کے لیے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل اس ہفتے نمایاں اضافہ دکھاتے ہوئے تقریباً $93 فی بیرل تک پہنچ گیا۔ جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور سپلائی کے خدشات ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو بڑھاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مرکزی بینک، خاص طور پر فیڈرل ریزرو، شرح سود کو طویل عرصے تک بلند رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بلند شرح سود سونے جیسے اثاثوں کے لیے منفی ہوتی ہے کیونکہ سونا کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور مارکیٹ کا مرکزی محرک بنی ہوئی ہے
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع نے فوری جنگی خدشات کو کم کیا۔ لیکن مجموعی صورتحال ابھی بھی غیر یقینی ہے۔ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اور واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ٹرمپ نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی ممکن ہے۔ اس قسم کے بیانات مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھاتے ہیں۔ جس کا اثر سونے، ڈالر اور دیگر اثاثوں پر براہ راست پڑتا ہے۔
امریکی معاشی ڈیٹا اور بڑھتی افراطِ زر کی توقعات نے پالیسی آؤٹ لک کو متاثر کیا
امریکہ سے آنے والے حالیہ معاشی اعداد و شمار نے بھی Gold سونے کی سمت پر اثر ڈالا ہے۔ یونیورسٹی آف مشی گن کا کنزیومر سینٹیمنٹ انڈیکس اپریل میں نمایاں کمی کے ساتھ 49.8 پر آ گیا، جو صارفین کے اعتماد میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ایک سالہ اور پانچ سالہ افراطِ زر کی توقعات میں اضافہ دیکھا گیا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مہنگائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال فیڈرل ریزرو کو شرح سود کم کرنے سے روک سکتی ہے، جو سونے کے لیے منفی عنصر ہے۔
Gold تکنیکی تجزیہ بتاتا ہے کہ سونا اب بھی مضبوط ریزسٹنس کے نیچے دباؤ میں ہے
چار گھنٹے کے چارٹ پر Gold سونا اہم موونگ ایوریجز کے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے، جو واضح طور پر مندی کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ 50، 100 اور 200 پیریڈ سادہ موونگ ایوریجز ایک مضبوط ریزسٹنس زون تشکیل دے رہے ہیں، جو تقریباً $4,750 سے $4,775 کے درمیان واقع ہے۔ جب تک قیمت اس زون کے اوپر مستحکم نہیں ہوتی، تب تک اوپر کی طرف بڑی حرکت مشکل نظر آتی ہے۔
مومینٹم انڈیکیٹرز کمزوری ظاہر کرتے ہیں جبکہ سپورٹ لیول خطرے میں ہے

Relative Strength Index (RSI) درمیانی سطح سے نیچے رہتے ہوئے کمزور مومینٹم کی نشاندہی کر رہا ہے، جبکہ MACD بھی منفی زون میں موجود ہے، جو فروخت کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ نیچے کی جانب $4,700 سے $4,650 کا زون فوری سپورٹ کے طور پر کام کر رہا ہے، لیکن اگر یہ سطح ٹوٹتی ہے تو مزید گراوٹ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
مجموعی نتیجہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ Gold سونے کی بحالی محدود اور غیر مستحکم ہے
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو Gold سونے کی حالیہ بحالی زیادہ مضبوط نہیں ہے بلکہ یہ صرف ڈالر کی وقتی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ اصل تصویر یہ ہے کہ بلند شرح سود، بڑھتی مہنگائی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل سونے پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جب تک سونا اہم ریزسٹنس لیول کے اوپر مستحکم نہیں ہوتا، تب تک اس میں پائیدار تیزی کی توقع کرنا مشکل ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



