ٹائٹین آبدوز کی تباہی، ڈوبنے والوں میں شہزادہ داؤد بھی شامل

معروف پاکستانی نژاد برطانوی بزنس ٹائیکون اینگرو گروپ کے مالک تھے

ٹائٹین آبدوز کے مکمل طور پر تباہ ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ اسکی تحقیقاتی ٹیم میں اینگرو گروپ کے سربراہ شہزادہ داؤد اور انکا 19 سالہ بیٹا سلیمان داؤد بھی شامل ہیں بھی شامل ہیں۔ اینگرو کارپوریشن نے بھی اپنے سربراہ کو پیش آنیوالے حادثے کا اعلان کر دیا ہے۔

ٹائٹین آبدوز کس مہم پر نکلی تھی اور اس میں کون کون سوار تھا ؟

ٹائٹین آبدوز Ocean Gate Company کا چھوٹا بحری جہاز تھا جو کہ 1913ء میں ڈوبنے والے Titanic کا زیر سمندر ملبہ دیکھنے کے لئے تفریحی مشن پر تھا۔ جبکہ اسے بھیجنے کے مقاصد تحقیقی اور معلوماتی تھے۔ آس میں سوار مسافروں کی تعداد پانچ تھی۔ جن میں Ocean Gate کے چیف ایگزیکٹو اسٹاکٹن رش، شہزادہ داؤد انکے بیٹے سلیمان داؤد ، ہمیش ہارنگ اور پال ہینری شامل تھے۔

shahzada dawood

امریکی بحریہ کے سینیئر اہلکاروں نے عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو آپریشن میں شہزاد داؤد کی برطانوی اہلیہ اور دیگر اہلخانہ موجود تھے اور کوسٹ گارڈز نے انکے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹائٹن کا رابطہ منقطع ہونے کے بعد سمندر کے نیچے دھماکے کی آواز سنائی دی تھی۔ جس کے بعد اعلی ترین سراغ رسانی نظام استعمال کرتے ہوئے ٹریکنگ کی گئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق سیاحتی آبدوز نے تمام مسافروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے.
ٹائی ٹینک کو دیکھنے کے لئے جانے والے مسافر اب ہم میں نہیں رہے۔ یقینی طور پر یہ ان کے خاندانوں کیلئے دکھ اور غم کے لمحات ہیں۔

شہزادہ داؤد ایک بزنس ٹائیکون اور ناقابل یقین صلاحیتوں سے مالا مال شخصیت۔

ارب پتی پاکستان نژاد برطانوی کاروباری شخصیت شہزادہ داؤد اب ہم میں نہیں رہے۔ ان کا شمار حیرت انگیز صلاحیتوں کے مالک شخص کے طور پر کیا جاتا ہے۔ وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX), FTSE100, Nasdaq اور ٹورنٹو اسٹاک ایکسچینج (TSX) کے براہ راست شیئر ہولڈرز میں شامل تھے۔ انہوں نے 2005ء میں اینگرو کے اکثریتی شیئرز خریدنے کے بعد اسکی Diversification میں بھرپور حصہ لیا۔ اور یوریا کھاد بنانے والی کمپنی کو توانائی، فروزن فوڈ، مائنز ایکسپلوریشن کے شعبوں میں ایک نمایاں پہچان دی۔

ٹائٹین آبدوز کی تباہی، ڈوبنے والوں میں شہزادہ داؤد بھی شامل

شہزادہ داؤد پاکستان میں پیدا ہوئے لیکن ابتدائی تعلیم یہاں حاصل کرنے کے بعد برطانیہ منتقل ہوئے جہاں انہوں نے یونیورسٹی آف بکھنگم سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ہمیشہ متحرک نظر آنیوالے شہزادہ داؤد نے فلاڈیلفیا یونیورسٹی سے گلوبل ٹیکسٹائل مارکیٹنگ میں ماسٹرز ڈگری بھی حاصل کی۔ مرحوم شہزادہ داؤد اسپیس ریسرچ کمپنی SETI کے ٹرسٹی بھی تھے۔ وہ اپنی اہلیہ کرسٹین داؤد، سلیمان اور علینہ داؤد کے ہمراہ برطانیہ میں مقیم تھے۔

داؤد ہرکولیس سے پیٹرو کیمیکلز تک۔

شہزادہ داؤد کا تعلق برصغیر کے مشہور کاروباری گھرانے داؤد ہرکولیس سے ہے۔ یہ خاندان لگ بھگ ایک صدی سے صنعتکاری کے ایک وسیع سلسلے کیلئے مشہور ہے۔ برطانیہ میں رہنے کے باوجود وہ بغیر کسی غرض و غایت کے پاکستان میں صنعتی انقلاب کیلئے کوشاں رہے۔ عالمی اداروں میں انہیں انسانیت کیلئے خدمات کی وجہ سے انتہائی عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا۔

داؤد خاندان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں انکی بیٹی علینہ داؤد کو انکی کاروباری جانشین ڈیکلیئر کیا گیا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button