ریکوڈک منصوبے میں سعودی عرب کی شیمولیت۔ پاکستانی معیشت کو کیا فائدہ ہو گا۔ ؟

وفاقی حکومت نے اپنے شیئرز خلیجی ملک کو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ریکوڈک منصوبے میں سعودی عرب کو شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس پروجیکٹ میں اپنے شیئرز کا ایک خاص حصہ برادر خلیجی ملک کو فروخت کرنے کے لئے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔

کیا ریکوڈک منصوبے میں سعودی شیمولیت سے پاکستان کو معاشی فائدہ ہو گا ؟

پاکستان عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کے ساتھ معاہدے سے پہلے شدید معاشی بحران سے گذرا ہے۔ اگرچہ اسوقت بیرونی ادائیگیوں پر جنوبی ایشیائی ملک کے ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ موجود نہیں تاہم ابھی بھی اسکے مالیاتی ڈھانچے کو Exports کم ہونے کی وجہ سے سنگین مسائل درپیش ہیں۔ Trade Deficit پورا کرنے کے لئے اسے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اور مقتدر حلقے PIA , ریلوے سمیت حکومتی ملکیت کے تمام اداروں کی Privatization کرنا چاہتی ہے۔ تا کہ اس پر تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں بوجھ کم کیا جا سکے۔

نجکاری کمیشن کےخصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گذشتہ روز نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے شرکاء کو بتایا کہ انکے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی حکام نے سونےاور تانبے کے اس منصوبے میں شیمولیت اور سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ جس کے بعد اس کی انتظامی کمپنی Bartick Gold سے بھی رابطہ کیا گیا۔ جنہیں تیسرے فریق کو شامل کرنے اور وفاقی حکومت کے شیئرز فروخت کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ہروجیکٹ میں وفاقی حکومت کا کتنا حصہ ہے ؟

دنیا میں تانبے اور گولڈ کے سب سے بڑے پراجیکٹ میں 50 فیصد شیئر کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کا ہے۔ جبکہ معاہدے کے مطابق 25 فیصد بلوچستان کی صوبائی حکومت اور بقیہ 25 فیصد وفاق مے ماتحت تین اداروں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (OGDC) , پاکستان پیٹرولیئم لیمیٹڈ (PPL) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لیمیٹڈ کے پاس ہیں۔

ان تینوں کے شیئرز میں سے نصف سعودی حکومت کو منتقل کئے جانے کا امکان ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمع کروائے گئے ڈیکلیریشن کے مطابق OGDC اور PPL ریکوڈک شیئرز مارچ 2024ء تک سعودی عرب کی عالمی شہرت یافتہ آئل کمپنی Aramco کو منتقل کرنے کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ جس کی منظوری خصوصی سرمایہ کاری کونسل نے باضابطہ طور پر دے دی ہے۔

ریکوڈک منصوبے میں سعودی عرب کی شیمولیت۔ پاکستانی معیشت کو کیا فائدہ ہو گا۔ ؟

تاہم تیسرے ادارے Government Holdings Limited کو سییکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے خصوصی استثنی حاصل ہے اس لئے اس نے کوئی بھی سرکولیشن جاری نہیں کیا۔

اگرچہ تمام معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور آئندہ ماہ اعلی سطحی سعودی وفد پاکستان کا دورہ بھی کرے گا۔ تاہم معاشی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ابھی تک تو اس منصوبے کے 50 فیصد شیئرز بیرک گولڈ اور بقیہ 50 فیصد پاکستان کے پاس ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت کے نکل جانے یا کچھ شیئر فروخت کرنے کے بعد پروجیکٹ کی سب سے بڑی شیئر ہولڈر کینیڈین کمپنی بن جائے گی۔ جس کے نتیجے میں تمام اہم فیصلوں کا اختیار بھی اسی کو حاصل ہو جائے گا۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button